کیا سی پیک عملاً رول بیک ہو چکا ہے؟

بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ سی پیک کا ’گیم چینجر‘منصوبہ کسی بین الاقوامی تزویراتی کشمکش کا شکار ہو چکا ہے۔

سی پیک موجودہ حکومت کے دور میں کھٹائی میں پڑتا دکھائی دے رہا ہے (اے ایف پی)

سی پیک کے ویسٹرن روٹ ہکلہ ڈی آئی خان کی لمبائی 285  کلومیٹر ہے۔ چار رویہ اس منصوبے کو دسمبر 2018  میں 129 ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونا تھا اور جولائی 2017 تک اس کا 40 فیصد کام مکمل ہو چکا تھا۔

اندازہ کیا جا رہا تھا کہ یہ منصوبہ مقررہ مدت سے چار ماہ پہلے یعنی اگست 2018 میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس منصوبے کو پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے تعمیر کیا جا رہا تھا کیونکہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے چین اس روٹ میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ لیکن اس وقت کی حکومت کے اہم اتحادی مولانا فضل الرحمٰن کی خواہش تھی کہ سی پیک کا مختصر روٹ ڈیرہ اسماعیل خان ہی ہے، اس لیے اسے سی پیک کا حصہ بنایا جائے۔

خیبر پختونخوا، جہاں پی ٹی آئی کی حکومت تھی، وہ بھی سی پیک میں اپنا حصہ چاہتی تھی اس لیے نواز حکومت نے اسے ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ منصوبے کو پانچ سیکشنز میں تقسیم کر کے الگ الگ کمپنیوں کو کنٹریکٹ الاٹ کر دیے گئے۔

نواز شریف کی سی پیک میں دلچسپی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا تھا کہ تمام کنٹریکٹر کمپنیوں کو ہدایت تھی کہ وہ ہر مہینے کی کارکردگی کی ڈرون کیمروں سے وڈیو بنا کر یوٹیوب پر اپ لوڈ کریں تاکہ وزیراعظم خود کام کی پیش رفت کا جائزہ لے سکیں۔ مگر جب میں نے اسی ہفتے اس روٹ کا دورہ کیا تو کام جہاں تھا وہیں رکا ہوا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کے دوسالوں میں اس پر پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے۔ منصوبے کی تاخیر سے اس کی لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہو چکا ہےجس کا بوجھ سرکاری خزانے پر ہو گا۔

پاکستان میں حکومت بدلنے کے ساتھ ترجیحات بھی بدل جاتی ہیں۔ آنے والی حکومتیں پچھلی حکومتوں کے منصوبے روک دیتی ہیں۔ اس منصوبے میں تو فوج ضمانتی تھی، پھر کیا ہوا کہ سی پیک کو قومی معاشی منظرنامے میں آج وہ حیثیت حاصل نہیں رہی جو نواز حکومت میں حاصل تھی؟

امریکہ نے سرکاری سطح پر بارہا سی پیک پر اعتراضات کیے، کبھی اسے پاکستان کی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا تو کبھی چینی کمپنیوں پر اس کے بہت مہنگا ہونے کے الزامات لگائے گئے۔ جس کا نتیجہ آج بدلتے منظر نامے کے ساتھ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سی پیک عملاً رول بیک ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

اقتصادی زونز جن پر 2018 میں چین میں روڈ شوز ہو رہے تھے، درجنوں چینی کمپنیاں سرمایہ کاری پر آمادہ تھیں اب اس کی بازگشت بھی کہیں سنائی نہیں دیتی۔ موجودہ ترقیاتی منصوبوں میں ان خصوصی اکنامک زونز کے قیام کا ذکر ہی گول ہے۔ کیا ایسا کسی سٹر یٹجک دباؤ کا نتیجہ ہے یا پھر چین اور پاکستان کی نئی قیادت میں دوریاں پیدا ہو چکی ہیں؟

 اس سوال کا جواب تو کہیں نہیں ہے کیونکہ وزارت خارجہ کی راہداریوں میں بنتی اور بدلتی پالیسیوں کی بھنک آج تک کسی منتخب ایوان میں سنائی نہیں دی۔ پراکسی وارز تو ہم نے ہر دور میں خوب لڑیں مگر اپنی جنگ کہاں لڑی اور کہاں جیتی آج تک کچھ نہیں معلوم۔ ہم نے سی پیک کو ایک معاشی منصوبے سے زیادہ سٹریٹجک منصوبہ بنا کر پیش کیا۔ یہی وجہ تھی کہ امریکہ نے اس کی کھل کر مخالفت کی۔ اس مخالفت کے کیا نتائج ہو سکتے تھے اس کی تیاری کہیں نہ تھی۔

امریکہ کو شاید چین کے عزائم کا بہت پہلے سے معلوم تھا اس لیے سی پیک سے پہلے ہی 2011 میں اس نے چنائی سے کابل نیو سلک روٹ کا منصوبہ پیش کر دیا تھا۔ پاکستانی پریس کے سامنے جب پہلی بار اس منصوبے کو سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پیش کیا تو اس بریفنگ میں مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ امریکہ کو چین کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی منڈیوں کی تلاش تھی اور جنوبی اور وسطی ایشیا سے بہتر اس کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی سرمایہ کار بھارت میں صنعتیں لگا کر اپنے مال کو جنوبی، وسطی ایشیائی ممالک اور مشرق وسطیٰ میں پہنچانا چاہتے تھے۔ درمیان میں پاکستان آتا تھا۔ میں نے سوال کیا کہ مسئلہ کشمیر کی موجودگی میں پاکستان کیسے بھارت کے راستے آنے والی کسی راہداری کا حصہ بن سکتا ہے؟ شاید یہی وہ وجہ تھی کہ جب امریکہ نے یہ منصوبہ پاکستان کو پیش کیا تو اس وقت کے صدر زرداری اسے لے کر چین پہنچ گئے۔ چین نے 2013 میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ پیش کر دیا اور پاکستان بخوشی اس کا حصہ بن گیا۔

 اب دس سال گزر چکے ہیں۔ سی پیک کو گیم چینجر قرار دینے والوں کی اپنی گیم ختم ہو چکی ہے۔ پاکستان اگر بہتر حکمت عملی اپناتا تو وہ دونوں اطراف سے ثمرات سمیٹ سکتا تھا۔ ایک کی بجائے دو بڑے تجارتی روٹ پاکستان سے گزرتے۔ امریکہ کے ساتھ چین کو بھی راہداری دے دی جاتی۔ ہو سکتا ہے کہ اس راہداری پر امریکہ کے جتنے بڑے معاشی مفادات وابستہ تھے وہ کشمیر پر بھی تصفیے کی کوئی راہ نکال دیتا۔

ہم چین اور امریکہ دونوں ممالک سے فائدہ اٹھا سکتے تھے، سی پیک اور نیو سلک روٹ دونوں فنکشنل ہو جاتے تو خطے کی تقدیر بدل جاتی۔ مجھے ایسے لگتا ہے کہ بارہا ایسا ہوا کہ پاکستان کے دروازے پر بڑے بڑے موقعوں نے دستک دی مگر بجائے اس کے کہ ہم ان مواقعے کی مناسبت سے اپنے دروازے کھولتے ہم نے اندر سے کنڈی لگانے میں ہی عافیت جانی۔

آج حالت یہ ہے کہ سی پیک کے جو جاری منصوبے التوا کا شکار ہیں ان کی لاگت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ کیا حکومت یہ بتانا پسند کرے گی کہ یہ اضافی رقم کتنے ارب ہے اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ