اس بار تبدیلی کی آوازیں اندر سے اٹھ رہی ہیں

اگر معاشی بحران اور بری طرز حکمرانی میں کوئی بہتری نہیں آئی تو حکومت کے اندر موجود دراڑیں مزید وسیع ہو سکتی ہیں۔

تبدیلی کابینہ میں دراڑوں کی خبریں کابینہ کے ارکان اور حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی خود صحافیوں کو بتاتے رہے ہیں۔ ( فائل تصویر: اے ایف پی)

اب کے ایمپائر کی انگلی اٹھنے کی صدائیں ڈی چوک کے کسی کنٹینر سے یا شاہراہِ دستور کے کے کسی جلسے سے برآمد نہیں ہوئیں، نہ مریم نواز نے ووٹ کو عزت دو کی صدا دی ہے، نہ بلاول نے بلند آواز میں بغاوتی پیغام دیا ہے اور نہ مولانا فضل الرحمٰن نے کسی مارچ کی کال دی ہے۔

اس دفعہ آوازیں اندر سے آئی ہیں۔ اصل سوال یہی ہے کہ تبدیلی بریگیڈ کے اندر تبدیلی آ کر رہے گی یا ٹل جائے گی۔

سب سے پہلے بےچینی کی خبریں کابینہ کے اجلاس سے آئیں جب فواد چوہدری نے سہیل وڑائچ کو انٹرویو میں یہ انکشاف کیا کہ عمران خان نے اپنے وزرا سے کہا ہے کہ ان کے پاس چھ ماہ سے زائد وقت نہیں ہے، جو کچھ کارکردگی دکھانی ہے وہ دکھا دیں ورنہ اس کے بعد پہل کاری ان کے بجائے حزب اختلاف کے پاس ہو گی۔

مرتضیٰ سولنگی کا یہ کالم آپ ان کی ہی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

یہ بیان ان دعووں کے بالکل برعکس ہے جن میں نہ صرف موجودہ پانچ سال بلکہ آنے والے پانچ سالوں میں بھی تبدیلی سرکار کی جئے کی نوید سنائی جاتی تھی۔

تبدیلی کابینہ میں دراڑوں کی خبریں کابینہ کے ارکان اور حکمران جماعت کے ارکان اسمبلی خود صحافیوں کو بتاتے رہے ہیں۔ یہ تفتیشی صحافیوں کا کارنامہ ہے اور نہ حزب اختلاف کی ذہنی اختراع۔

فواد چوہدری خود چل کر گئے انٹرویو دینے۔ خود یہ بتایا کہ ان کی حکومت عوام کے توقعات پر پوری نہیں اتری۔ خود بتایا کہ کابینہ کے اندر نہ صرف منتخب اور غیر منتخب کی تقسیم ہے بلکہ اس بات پر بھی مقابلہ ہے کہ عمران خان کی جگہ ملتانی پیر شاہ محمود قریشی نے سنبھالنی ہے یا اسد عمر نے۔ یہ بات بھی فواد چوہدری نے خود بتائی کہ پہلے جہانگیر ترین نے اسد عمر کو نکلوایا اور پھر اسد عمر نے جہانگیر ترین کا پتہ صاف کروایا۔

پھر کابینہ کے اندر عمران خان کی موجودگی میں اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی فواد چوہدری سے مڈبھیڑ ہونا، فواد چوہدری کا دونوں کو بتانا کہ آپ دونوں وزیر اعظم بننے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں، فیصل واوڈا کا ٹپک پڑنا اور پھر عمران خان کا واوڈا کو دوسرے کمرے میں لے جانا۔۔۔ یہ سب باتیں اب صرف اسلام آباد کی اشرافیہ کے ڈرائنگ روموں کی زینت نہیں بلکہ شام کے ٹی وی گپ شپ کلب اور وی لاگز کی زینت ہیں۔

اس سے پہلے وزیر برائے امورِ ہوابازی غلام سرور خان پائلٹوں سے متعلق پارلیمان کے فلور پر اپنے تباہ کن بیان سے بھی پہلے ایک ٹی وی انٹرویو میں کابینہ کے غیر منتخب ارکان اور مشیروں کے بارے میں اپنے عدم اعتماد پر بات کرچکے ہیں۔ تین دن پہلے وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں وہ اعتراف دہرایا جو فواد چوہدری کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت عوامی توقعات پر پوری نہیں اتری۔ یہ اعترافات نہ حزب اختلاف نے ان سے زبردستی کروائے ہیں اور نہ کسی تجزیہ کار کا تجزیہ ہیں۔ یہ کابینہ کے سینیئر ارکان کے لیک شدہ ٹیپ سے نہیں بلکہ میڈیا میں دیے گئے بیانات ہیں۔

خود وزیر اعظم عمران خان کی اپنی ذہنی کیفیت کیا ہے اس کا اندازہ ان کی اپنی تقاریر اور انٹرویو سے ہوتا ہے۔ بجٹ اجلاس کے دوران انہوں نے فواد چوہدری کے انٹرویو کے اثرات پر ٹھنڈا پانی پھینکتے ہوئے مصالحانہ تقریر کی اور ایک طرح سے احتساب کے نام پر ہونے والے ان اقدامات کا دفاع کرنے کی کوشش کی جسے حزب اختلاف اور آزاد میڈیا انتقام کہتا ہے۔

بلاول بھٹو اور خواجہ آصف نے اس تقریر کے سامعین بوجھ لیے اور بتایا کہ یہ تقریر ایوان کے لیے نہیں تھی اور کہیں اورکے لیے تھی، جہاں یہ رپورٹ کارڈ پیش کرنا مقصود تھا۔ ان کے نزدیک یہ ایک عرضی بھی تھی کہ انہیں رہنے دیا جائے۔ 

یہ صورت حال بجٹ سے پہلے پیدا ہونا شروع ہوئی تھی جس کا مقصد بجٹ کو ناکام کرنا نہیں بلکہ عمران خان سرکار کو اپنی کمزور حیثیت کا احساس دلانا مقصود تھا۔ پہلے بی این پی مینگل حکومتی اتحاد سے الگ ہوئے اور پھر باقی اتحادیوں نے اپنی ناراضگی کا اظہار شروع کیا۔ جب وزیراعظم نے ناراضگیاں مکاؤ پروگرام شروع کرتے ہوئے عشائیہ منعقد کیا تو گجرات کے چوہدریوں نے اپنا متوازی عشائیہ دیا اور وزیر اعظم کے عشائیے میں نہیں گئے۔ عمران کے کچھ دوسرے اتحادی بھی چوہدریوں کے عشائیے میں گئے۔

وزیر اعظم نے اپنے عشائیے میں اعلان کیا کہ ان کے علاوہ کوئی اور چوائس ملک میں موجود نہیں ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر پانچ نہیں بلکہ اگلے پانچ سال بھی حکمرانی کا عندیہ دیا لیکن جب دوبارہ پارلیمان میں تشریف لائے اور ایک عدد اور تقریر کی تو اپنی ایک روز کی گئی تقریر کے برعکس تسلیم کیا کہ مائنس ون ممکن ہے۔ وزیر اعظم کا بدلتا بیانیہ ایک بار پھر اس ذہنی کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے جب آپ ذہنی تناؤ کی کیفیت میں ہوتے ہیں اور متضاد امکانات اور تجزیے آپ کے دماغ میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔

بجٹ کی منظوری کے بارے میں کسی کو بھی شک نہ تھا۔ بجٹ کی منظوری ان تمام حلقوں کے لیے ضروری ہے جو ریاستِ پاکستان کو چلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ حزب اختلاف کی طرف سے بجٹ کو نامنظور کر کے بحران پیدا کرنے کا کوئی اشارہ نہیں ملا لیکن حکومتی حلقوں کی بجٹ کے موقعے پر پریشانی بہت واضح تھی۔ اس تمام پریشانی کے باوجود حکومت ایوان کی سادہ اکثریت سے ایک درجن کم ارکان یعنی 160 لا سکی جب کہ مطلوبہ سادہ اکثریت 172 بنتی ہے۔

جو بات واضح ہے وہ یہ ہے حکومت کو حزب اختلاف سے کسی عدم اعتماد پیش کرنے اور اس کے نتیجے میں خود حکومت میں آنے کا کوئی ڈر خوف نہیں ہے۔ اس وقت عمران سرکار کے لیے واحد انشورنس پالیسی حزب اختلاف ہی ہے جو درمیانی مدت میں حکومتی راہداریوں سے دور رہنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس وقت حکومت کا مقابلہ توقعات کے ہمالیہ سے ہے جو انہوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے اپنے لیے خود کھڑا تھا، حکومتی اصلاحات، مقامی حکومتوں کی مضبوطی، ٹیکس ںظام کے اصلاحات، معیشت کی مضبوطی، پچاس لاکھ گھر اور ایک کروڑ نوکریاں، خارجہ پالیسی میں بھارت کو خطے میں پیچھے دھکیلنا، میڈیا کی اصلاحات، توانائی کے شعبے میں اصلاحات وغیرہ۔ اب جبکہ حکومت اپنے دو سال مکمل کرنے جار رہی ہے، ان وعدوں کے طرف ایک قدم بھی پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ ترقی معکوس کا سفر جاری ہے۔ رہی سہی کسر کرونا نے پوری کردی ہے۔ واحد مثبت زون میں شعبہ زراعت پر ٹڈی دل حملہ آور ہے۔ بڑے عرصے بعد پاکستان گندم درآمد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

پارلیمان کے فلور پر وزیر ہوابازی غلام سرور خان کے بیان کے بعد اب پی آئی اے یورپی یونین اور برطانیہ سے چھ ماہ کے لیے باہر ہو گئی ہے، کرونا کی وجہ سے پاکستانیوں پر دنیا کے ملکوں کے دروازے بند ہو رہے ہیں، معیشت منفی زون میں چلی گئی ہے اور ملک کی آدھی آبادی خطِ غربت سے نیچے چلی گئی ہے۔ ابھی اکتوبر میں ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ہونا ہے۔ خطے میں بہت سی تبدیلیاں آنے کو ہیں جن میں تین نومبر کو امریکی انتخابات سے پہلے امریکی افواج کا انخلا بھی شامل ہے۔

اگر افغانستان خانہ جنگی کے شعلوں کی لپیٹ میں آتا ہے تو اس کے اثرات بھی پاکستان پر پڑیں گے۔ بھارت میں معاشی گراوٹ، چین سے نئی محاذ آرائی اور کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم سے توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔

یہ ہیں وہ خطرات جن کا سامنا عمران سرکار کو ہے۔ ایسے میں اگر معاشی بحران اور بری طرز حکمرانی میں کوئی بہتری نہیں آئی تو حکومت کے اندر موجود دراڑیں مزید وسیع ہو سکتی ہیں۔ حکومتی اتحادی اس وقت صرف ایک اشارے کے منتظر ہوں گے۔ اس وقت عمران خان کا نعم البدل مشکل نظر آتا ہے لیکن یہی صورت حال ماضی قریب میں بھی تھی۔ ظفراللہ جمالی کی جگہ چوہدری شجاعت کا آنا اور پھر شوکت عزیز کا وزیر اعظم بننا، اسی طرح پاکستان کے پہلے متفقہ طور پر منتخب وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی جگہ راجہ پرویز اشرف کا آنا اور پھر ملک میں پہلی دفعہ تیسری دفعہ بننے والے وزیر اعظم نواز شریف، جن کے پیچھے دو تہائی اکثریت والی قومی اسمبلی بھی تھی، ان کی جگہ شاہد خاقان عباسی کا وزیر اعظم بننا بھی مشکل نظر آتا تھا لیکن یہ حقائق اب تاریخ کا حصہ ہیں۔

عدلیہ کے ایوانوں میں ہونے والے فیصلے بھی نئے موسم کو لا سکتے ہیں۔ ابھی قاضی فائز عیسیٰ کیس کا حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔ ایسے میں جمعے کے روز لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو العزیزیہ کیس میں سزا اور بابر اعوان کو بری کرنے والی عدالت کے جج ارشد ملک کی برطرفی نئے مون سون بارش کا پہلا قطرہ بھی ہو سکتی ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ