سائبر دور میں اردو کی بقا کی ضامن ویب سائٹ

سنجیو صراف کی اردو سے محبت کا ننھا سا بیج ریختہ ڈاٹ اورگ جو صرف سات برس میں پھیل کر وسیع اور شاداب سبزہ زار بن چکا ہے۔

ریختہ نے جو کام کیا ہےوہ اردو کے سارے ادارے مل کر بھی نہیں کر سکے (ریختہ ڈاٹ اورگ)

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ چاہے آپ اردو ادب پڑھنے کا شوق رکھتے ہوں، خود شاعر یا ادیب ہوں یا پھر اردو سے متعلق کسی موضوع پر پی ایچ ڈی کی سطح کی تحقیق کر رہے ہوں، ایک ویب سائٹ کے بغیر آپ کا گزارا نہیں ہے، اور وہ ہے ریختہ ڈاٹ اورگ۔

اس وقت پاکستان اور بھارت میں درجنوں ایسے ادارے ہیں جو سرکاری یا غیر سرکاری سطح پر اردو کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں، اور ان میں سے بعض اداروں کی خدمات کی لمبی تاریخ بنتی ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہو گا کہ سائبر دنیا میں اکیلی ریختہ نے پچھلے سات برس میں جو کام کیا ہے وہ یہ تمام ادارے مل کر بھی نہیں کر سکے۔

ریختہ کے پیچھے کون ہے اور یہ ادارہ کیسے اس مقام تک پہنچا؟

ہم نے یہ سوال بھارت کے معروف صنعت کار اور ریختہ کے بانی سنجیو صراف کے سامنے رکھا تو انہوں نے کہا، ’مجھے جوانی کے دنوں سے ہی اردو سے لگاؤ تھا چونکہ میرے نزدیک اس سے زیادہ شیریں کوئی زبان نہیں تھی۔ اس میں ہندی فلم کے گانوں کا بھی بڑا کردار تھا۔ ایک حد تک میر تقی میر، مرزا غالب اور مرزا داغ کی شاعری کا کا بھی بڑا ہاتھ تھا مجھے شاعری کی طرف لانے میں۔ ان کے بہت سے شعر مجھے ازبر ہیں۔

ادب خاص طور پر شاعری کو میں ایک قاری کے طور پر پڑھتا تھا۔ زندگی کی باقی ذمہ داریوں سے نپٹنے کے بعد میں نے دوبارہ اس کی طرف رخ کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس شوق نے جنون کی شکل اختیار کر لیا۔

سنجیو صراف نے آج سے دس برس قبل اردو رسم الخط سیکھنا شروع کیا۔ اس دوران انہیں محسوس ہوا کہ انٹرنیٹ پر شائقینِ اردو کی تسکین کے لیے بہت کم مواد دستیاب ہے۔ اس سے انہیں خیال آیا کہ بجائے کہ اس صورتِ حال پر کڑھنے کے کیوں نہ آگے بڑھ کر خود کچھ کام کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بس یہی خیال تھا جو 2013 میں ریختہ ڈاٹ اورگ کی شکل میں سامنے آیا۔ سنجیو چاہتے تھے کہ اس ویب سائٹ سے وہ لوگ بھی استفادہ کر سکیں جو اردو کا دم تو بھرتے ہیں لیکن اسے پڑھنا لکھنا نہیں جانتے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ریختہ میں یہ سہولت رکھی ہے کہ اس کا متن اردو کے ساتھ دیوناگری اور رومن میں بھی پیش کیا جاتا ہے تاکہ اردو ادب بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے چاہنے والوں تک پہنچ سکے۔ 

رفتہ رفتہ سنجیو کو احساس ہوا کہ اس کام کے لیے تو پورا ادارہ درکار ہے۔ یہاں ان کی بزنس کے ادارے چلانے کی تربیت کام آئی اور انہوں نے خشت خشت کر کے ایک ادارہ قائم کرنا شروع کر دیا۔

اس مقصد کے لیے شعری متن کو کمپوز کرنے اور اس کی پروف ریڈنگ کرنے والے افراد کا تقرر کیا گیا، ساتھ ہی ساتھ ریختہ کے لیے ایک خاص سافٹ ویئر بنانے اور متن کو بہت ہی درستی کے ساتھ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کے لیے ایک آئی ٹی کا شعبہ بھی قائم کیا گیا جو کلام کو بہترین تزئین و ترتیب کے ساتھ پیش کر سکے اور تکنیکی دشواریوں کا حل بھی تلاش کر سکے۔ ریختہ کا دفتر اسی پالی پلیکس کمپنی کے دفتر میں قائم کیا گیا جس کے مالک جناب سنجیو صراف ہیں۔ ابتدا میں ریختہ کا عملہ صرف چھ سات افراد پر مشتمل تھا جس کی تعداد اب بڑھ کر115 تک پہنچ گئی ہے۔

جنوری 2013 کو جب ریختہ کا اجرا ہوا تو اس وقت اس میں تقریباً ساڑھے تین سو شاعروں کی غزلوں اور 11 کتابوں کو قارئین کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ مگر اب یہ حال ہے کہ 4800 شاعروں کی  50 ہزار غزلیں اور آٹھ ہزار سے زائد نظمیں اس ویب سائٹ پر موجود ہیں۔

اس کے علاوہ اردو کی 80 ہزار سے زیادہ کتابیں اس ویب سائٹ پر پڑھنے والوں کے لیے مفت دستیاب ہیں، جن میں دورِ حاضر کی تازہ ترین کتابوں سے لے کر ڈیڑھ سو سال پہلے چھپنے والی کتابیں بھی شامل ہیں۔

یہی نہیں، ریختہ کا ایک اور کمال یہ بھی ہے کہ اس پر بھارت و پاکستان کے آٹھ ہزار سے زیادہ رسالوں کے 25 ہزار شمارے بھی اپ لوڈ کر دیے گئے ہیں۔ ان میں سے کئی رسالے نایاب ہیں اور ریختہ کے بغیر ان تک رسائی تقریباً ناممکن ہے۔  

ہم نے سنجیو صراف سے پوچھا کہ کیا آپ کو اندازہ تھا کہ سات سال قبل آپ جو بیج بو رہے ہیں وہ اتنے کم وقت میں ایک شاداب گلستان کی شکل اختیار کر لے گا تو انہوں نے جواب دیا، ’ریختہ کے آغاز کے دنوں میں ہمارا ارادہ صرف اتنا تھا کہ اردو کے کچھ معروف اور مقبول شعرا کا کلام اردو کے ساتھ ساتھ دیوناگری اور رومن رسم الخط میں لوگوں تک پہنچائیں۔ لیکن اس دیار میں قدم رکھنے کے بعد اس کی وسعت کا اندازہ ہوا اور ہم نے محسوس کیا کہ اس میں جتنا کام کیا جائے کم ہے۔

’اک بار سلسلہ شروع ہوا تو یہ خود بخود اپنے لئے نئے راستے اور مقام بناتا چلا گیا۔  اس مقام پہ آ کر محسوس ہوتا ہے کہ اس سے ہماری ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ہمارے لیے ابھی کرنے کے کام بہت ہیں۔ ہم وہاں پہنچ رہے ہیں جہاں اردو کا چلن نہیں ہے اور ان لوگوں کو اردو کی خوشبو سے ہم کنار کر رہے ہیں جو ابھی تک اس سے نا بلد تھے۔‘

ریختہ کا مواد آتا کہاں سے ہے؟   ریختہ کے مدیر فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی کتاب شامل ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں ان کتابوں کو ترجیح دی جاتی ہے جو کاپی رائٹ ضابطوں کے دائرے سے باہر ہیں۔ جن مصنفین کی کتابیں اس انتخاب میں آتی ہیں ان کی تحریری اجازت حاصل کر کے کتابیں اپ لوڈ کی جاتی ہیں۔ ریختہ کو اردو کے نامی گرامی مصنفوں کا تعاون حاصل ہوا ہے جن میں انتظار حسین، ساقی فاروقی، ظفر اقبال، احمد مشتاق، فہمیدہ ریاض، کشورناہید، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمٰن فاروقی، شمیم حنفی وغیرہ شامل ہیں۔

ہم نے سنجیو صراف سے پوچھا کہ آپ آنے والے برسوں میں ریختہ کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟ اس میں کس قسم کے اضافے اور توسیع کے ارادے ہیں؟

انہو ں نے جواب دیا،  ’راہ دور عشق میں روتا ہے کیا / آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔‘

ہم آج بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہم کہاں پہنچیں گے۔ ہماری بہت اچھی ٹیم ہے جو کہ روز نئے نئے تجربے کر رہی ہے اور بہت سے نئے پروجیکٹس پہ کام ہو رہا ہے، جو اردو کے فروغ کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ ہم بہت بڑے پیمانے پر اردو سکرپٹ کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے آموزش ڈاٹ کام شروع کیا۔ گرمی کی چھٹیوں میں باقاعدہ فزیکل کلاسیں بھی ہوتی ہیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کے اتھاہ خزانے کو آن لائن کرنے کا ارادہ ہے۔ عنقریب ریختہ پر ایک لاکھ اردو کتابیں موجود ہوں گی۔ اگر دیکھا جائےتو ہماری کوشش پہلے دن سے یہ ہے کہ تخلیق اور تکنیک کے درمیان جو خلیج تھی، اسے پاٹ دیا جائے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہر خاص و عام کی اردو زبان و ادب کے ہر گوشے تک رسائی ہو سکے اور ہر شخص اردو کی چاشنی کو محسوس کر سکے۔

ریختہ موبائل ایپلی کیشن

اردو میں ابھی تک کوئی ایسی ویب سائٹ موجود نہیں تھی، جسے کمپیوٹر سکرین کے ساتھ ساتھ آن لائن موبائل ایپلی کیشن کی طرح موبائل ہنیڈ سیٹ پر بھی بہ آسانی دیکھا جا سکے۔ ریختہ نے جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے اس مشکل کو آسان بنا دیا ہے۔ اب ریختہ ویب سائٹ پر موجود کسی متن کو بہ آسانی موبائل پرکسی مشکل اپ لوڈنگ کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ مشاعروں کے ویڈیو،ریختہ اسٹوڈیو میں کیے گئے اور یوٹیوب پر موجود ادیبوں، شاعروں کے انٹرویواور ویڈیو بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریختہ نے بہت سے شاعروں کی آوازوں کو یکجا کر دیا ہے،جنہیں اس ویب سائٹ پر ایک کلک کے ذریعے اور موبائل پر بھی آسانی سے سنا جا سکتا ہے۔

اردو کتابوں کی ڈیجٹ کاری

ریختہ پر اس وقت 80 ہزار سے زیادہ کتابیں موجود ہیں، مگر یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ مسلسل آگے کی طرف جاری ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے موقر کتب خانوں سے رابطہ کیا ہے کہ ان کے قیمتی ذخیروں کو ڈیجیٹائز کیا جا سکے۔

پہلی بڑی پیش رفت انجمن ترقی اردو ہند کے ذمے داروں کی مدد سے ہوئی جنہوں نے اپنے کتب خانے کے دروازے ریختہ پر کھول دیے۔  جس کے تحت اب تک اس کتب خانے کی تقریباً آٹھ ہزار کتابیں سائٹ پر اپ لوڈ کی جا چکی ہیں۔ اس کے علاوہ رضا لائبریری رام پور کی اردو کتابیں بھی ریختہ کو فراہم ہو چکی ہیں۔ خدا بخش لائبریری، دارالمصنفین اعظم گڑھ کےعلاوہ ہندوستان کی 25 لائبریریوں اور ذاتی کلیکشن تک رسائی ہو چکی ہے۔

ممتاز نقاد جناب شمس الرحمٰن فاروقی کے ذاتی کتب کا ادبی سرمایہ بھی ریختہ کو دستیاب ہوچکا ہے جس میں داستان امیر حمزہ کی46 جلدیں بھی شامل ہیں جو پہلی بار ریختہ پر آن لائن کی گئی ہیں۔

منشی نول کشور کی کتابیں

سنجیو صراف کو 21ویں صدی کا نول کشور بھی کہا جاتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے شاید اسی سے تحریک پا کر 19ویں صدی کے مشہور ناشر منشی نول کشور کی شائع کردہ کتابوں کا حصول ہے جو لکھنؤ کے ایک گودام میں برسوں سے سیلن بھرے اندھیرے میں اور کاغذ خور کیڑوں کے مظالم سہتے ہوئے دن کی روشنی کے انتظار میں تھیں۔ اب یہ کتابیں غسل صحت کے بعد نئے لباسوں سے آراستہ ہو کر ریختہ کے کتب خانے کی زینت ہیں۔

ریختہ کا ای کتاب گوشہ اب تک 80 ہزار سے زیادہ کتابوں سے آباد ہو چکا ہے اور اس تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ ریختہ کے دوسرے منصوبوں میں جشنِ ریختہ، علمِ عروض سکھانے کا پروگرام، قافیہ ڈکشنری، آن لائن لغت اور اردو رسم الخط سکھانے کا پروگرام آموزش شامل ہیں۔

کیا ریختہ ہمیشہ مفت رہے گا؟

اس وقت ریختہ مفت دستیاب ہے، لیکن کیا یہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟ اس سوال کا جواب سنجیو نے کچھ یوں دیا: ’ریختہ فاؤنڈیشن ایک نان پرافٹ ادارہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ذاتی وسائل اور دوستوں کی مدد سے ایک حد تک ہے کام بڑھا سکتے ہیں۔ مگر اسے زندہ رکھنے کے لیے مزید وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ریختہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہو جائے تاکہ ہمارے بعد بھی اسی طرح ترقی ہوتی رہے۔

’اس کے لیے کوئی ایسا سلسلہ ضرور ہونا چاہیے کہ مستقل طور سے یہ ادارہ چل سکے۔ ہمیں یقین ہے کہ ریختہ کے قاری اس میں دلی اور ذہنی طور آمادگی کے ساتھ ساتھ مالی طور پہ بھی شرکت کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ادب