کسی کو فکر ہے کہ کرونا کی وجہ سے عاشقوں پر کیا گزر رہی ہے؟

کرونا زدہ دولہوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت ایک کروڑ گھر نہیں بنا سکتی، پانچ کروڑ نوکریاں نہیں دے سکتی، تو کم از کم ہماری کرونا کی وجہ سے منسوخ شدہ شادی ہی کرا دے۔

(پکسا بے)

’ڈاکٹروں کی فکر ہے، مزدوروں کے لیے جان دبلی ہو رہی ہے، طالب علموں کی پڑھائی کے حرج پر جان ہلکان ہو رہی ہے، تاجروں کا دھندا مندا پڑ گیا ہے، سب کو یہی غم کھائے جا رہا ہے۔ اگر کسی کی پروا نہیں ہے تو ہم جیسے عاشقوں کی جو لاک ڈاؤن کی وجہ سے محبوب کے دیدار کو ترس گئے ہیں۔‘

یہ شکوہ شکایات کے انبار پچھلے دنوں ’کنواروں کی محفلوں‘ میں بیٹھنے کے بعد ہمارے اْن دوست نے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے لگائے جن کا محبوب ہفتے میں چار دن ان کے قدموں میں تو نہیں بیٹھتا تھا، ہاں وہ خود یہ کام کرجاتے تھے۔ کبھی ریستوران، کبھی پارک تو کبھی ساحل سمندر پر محبوبہ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر خوابوں کے نجانے کتنے تاج محل تعمیر کرتے اور پلک جھپکتے میں پیار کی وادی سے ہو کر بھی آ جاتے۔

موصوف اس بات پر سراپا احتجاج ہیں کہ ان کی محبت بھری محفلوں کو کرونا (کورونا) وائرس کھا گیا۔ کہتے ہیں، ’غضب خدا کا، یہ عالم آ گیا ہے کہ دلربا سے کئی مہینوں بعد ملاقات ہوئی تو محترمہ نے پیار بھری رس گھولنے والی باتیں کرنے کے بجائے کرونا سے بچاؤ اور احتیاط پر بھرپور لیکچر دے ڈالا۔ کیا کرنا ہے کس سے کتنی دوری سے ملنا ہے، کیا کھانا ہے، کس سے مصافحہ کرنا ہے، کب ہاتھ دھونے ہیں، یہ سب کسی اچھے معالج کی طرح انہیں گھٹی سمجھ کر پلاتی رہیں۔‘

کہتے ہیں کہ حکومت نے اتنے ’ایس او پیز‘ پر عمل نہیں کرایا ہو گا جتنا ان محترمہ نے کروا دیا۔ سماجی فاصلے کا احترام کرتے ہوئے بھی محترمہ، پارک میں ہونے والی اس محبت کی بیٹھک میں اس قدر دور بیٹھیں کہ جیسے کسی کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم تشریف فرماتے ہیں۔

ان سب میں دلچسپ دل کا دکھڑا تو اپنے نام کی طرح محبوب بھائی نے درد اور الم میں ڈوبی ہوئی آواز میں یہ سنایا کہ دلربا، گھر سے باہر ہی نہیں نکلتی، ضد پکڑے بیٹھی ہے کہ وہ بھی نہ نکلیں۔ ’تبدیلی سرکار‘ کی مداح یہ محبوبہ اگر محبوب بھائی سے آن لائن ویڈیو چیٹنگ پر آ جائے تو سمارٹ لاک ڈاؤن کے اتنے فائدے گنوا دیتی ہے جو شاید ان کے سمارٹ لیڈر کو پتہ چل جائیں تو انہیں قوم سے خطاب کا ایک اور موقع مل جائے۔

فرمانے لگے کہ گھر سے باہر نہ نکلنے کی ’نصیحت‘ اور ’وصیت‘ پر زور دینے کے بعد یہ دریافت کیا جاتا ہے کہ ’بال کیوں نہیں کٹواتے، کیا سری لنکن بولر لستھ ملنگا بننے کا ارادہ ہے؟‘

اب انہیں کون بتائے کہ کرونا کے ڈر سے حجام کے پاس جانے کی ہمت نہیں ہو پاتی۔ پیٹ پکڑ کر بولے کہ کسی نے صحیح کہا ہے کہ نیم حکیم خطرے جاں، محترمہ نے سنا مکی پینے کا کہا تھا، جس پر آنکھ بند کر کے عمل کیا تو کئی دنوں تک باتھ روم کے چکر لگا لگا کر ٹانگیں شل ہو گئیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان عاشق نامراد وں کا شکوہ تو یہ بھی تھا کہ ان کی محبت کی راہ میں کرونا سماج کی دیوار بن کر کھڑا ہو گیا ہے۔ کچھ ایسے ہی درد میں ڈوبے ہوئے الفاظ ہمارے ایک اور دوست کے تھے، جو اس بات سے عاجز آ چکے ہیں کہ لاک ڈاؤن‘ ان کی محبت کو کیوں ناگ بن کر ڈس رہا ہے۔

ٹوٹے دل کے ساتھ فرماتے ہیں کہ ’ڈیٹ‘ کی جب دل کی آرزو بیان کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ ’نا بابا نا، گھر سے نکلنے کا تو سوال ہی نہیں ہوتا۔ جو بھی دل میں پھول کھلانے ہیں وہ آن لائن ہی کھلائیں۔‘

کھلانے پر یاد آیا کہ ایک ہمارے رفیق جو طبعیت سے دل پھینک ہیں۔ ان کی منگیتر، ریستوران میں جا کر مینو کارڈز پر لکھی ہوئی جب تک ساری چیزیں نہ کھا لے انہیں ’ڈیٹ کا مزا ہی نہیں آتا۔ اب موصوفہ یہ ساری خواہشات، اپنے مجنوں سے آن لائن فوڈز کے آرڈرز کے فرمائشی گیت مالا سے پوری کر رہی ہیں۔

ان کنواروں کی بپتا تو یہ بھی ہے کہ نت نئے تحفے تحائف کے بجائے اب دیدہ زیب، جدت سے آراستہ اور میچنگ فیس ماسک کی فرمائشیں پوری کرتے کرتے جیب ہلکی کرتے رہتے ہیں۔ جب سوال کیا جائے کہ جب کہیں آنا جانا نہیں پھر یہ چونچلے کیوں؟ تو جواب ملتا ہے، ’کیا اب فیشن کے تقاضے پورا نہ کروں؟‘

یعنی یہ سمجھیں جو محبوب آسمان سے تارے توڑ کر لانے کا دعویٰ کرتے تھے اب اپنی اپنی محبت کو خوش رکھنے کے لیے فیس ماسک، جراثیم کش ادویات اور ہینڈ سینٹی ٹائزر، آن لائن بھجوانے کی فکر میں لگے ہیں۔

سب سے تکلیف، مظلوم اور بے چارگی کی کی تصویربنے بیٹھے تو وہ ہیں جن کے سہرے کے پھول کرونا وائرس کی وجہ سے کھلتے کھلتے رہ گئے۔

یہ حکومتی اقدامات پر گرج برس بھی رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ’ساری تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ تاریخ اور عمر بڑھتی جا رہی ہے۔ یہی سوچ کر ہلکان ہو رہے ہیں کہ کب ان کے دل کی رانی گھر کے سونے پن کو دور کرے گی۔‘

کہتے تو یہ بھی ہیں کہ حال ہی میں روم میں جس طرح اطالوی دلہنوں نے لاک ڈاؤن سے تنگ آ کر موخر شدہ شادیاں کرانے پر احتجاج کیا ہے، ویسے ہی ہم پاکستانی ’نصف شادی شدہ‘ مردوں کو پلے کارڈز اٹھا کر یہ مطالبہ داغنا چاہیے کہ حکومت ایک کروڑ گھر نہیں بنا سکتی، پانچ کروڑ نوکریاں نہیں دے سکتی، دس ارب درخت نہیں اگا سکتی، تو کم از کم ہماری منسوخ شدہ شادی ہی کرا دے۔

ان پریم دیوانوں کی آنکھیں ’دو بدو محبوب‘ سے ہم کلام ہونے کی منتظر ہیں۔ ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر جھوٹے سچے عہد و پیمان کے لیے بے قرار ہیں۔ اور اسی آس پر یہ لاچار اور بے بس عوام کی طرح اچھے دنوں کے خواب سجائے بیٹھے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ