افغان خفیہ ادارے کی عمارت پر حملہ، دس افراد ہلاک

سمنگان کے گورنر عبدالطیف ابراہیمی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سکیورٹی فوسرز کے دس اہلکار ہلاک جبکہ عام شہریوں سمیت 54 افراد زخمی ہیں۔

حملہ سمنگان صوبے کے دارالحکومت ایبک میں نیشنل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی عمارت کے قریب ہوا ہے (اے ایف پی/ فائل فوٹو)

حکام کے مطابق افغانستان کے شہر ایبک میں انٹیلی جنس بیورو کی عمارت کے قریب کار بم دھماکے اور فائرنگ کے نتیجے میں دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

سمنگان کے گورنر عبدالطیف ابراہیمی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں سکیورٹی فوسرز کے دس اہلکار ہلاک جبکہ عام شہریوں سمیت 54 افراد زخمی ہیں۔

یہ حملہ سمنگان صوبے کے دارالحکومت ایبک میں نیشنل سکیورٹی ڈائریکٹوریٹ کی عمارت کے قریب ہوا ہے۔ 

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سمنگان صوبے کے گورنر کے ترجمان صادق عزیزی کا کہنا ہے کہ کار دھماکے بعد مسلح افراد کی جانب سے فائرنگ بھی کی گئی تاہم سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چاروں حملہ آور مارے گئے ہیں۔

افغانستان کے شمالی شہر میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کی ہے تاہم ان کی جانب سے اس حملے کو ایک 'پیچیدہ حملہ' قرار دیا گیا جس میں خود کش حملہ آور گاڑی کے اندر موجود تھا۔

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ نیشنل ڈائریکٹویٹ آف سکیورٹی کی عمارت سے ابھی تک فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سرکاری اہلکار جنہوں نے اپنا نام حسیب بتایا کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بڑا دھماکہ تھا جس سے ہماری تمام کھڑکیاں ٹوٹ گئیں۔ کئی افراد ٹوٹے ہوئے شیشے کے ٹکڑے لگنے سے زخمی بھی ہوئے ہیں۔‘

حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر افغان سکیورٹی فورسز کو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، باوجود اس کے کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے تاکہ ملک میں دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کا خاتمہ ہو سکے۔

خیال رہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ طالبان کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں سے امن کو خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ’اگر طالبان لڑتے رہیں گے تو افغان امن عمل کو سنجیدہ چیلنجز کا سامنا ہوگا۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا