کرونا وائرس اب بھی عالمی خطرہ ہے یا نہیں، فیصلہ رواں ہفتے ہوگا

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی اس اعلان پر نظر ثانی کرے گی جس میں کووڈ 19 کی وبا کو 'صحت عامہ کی ایمرجنسی یا عالمی خطرہ' قرار دیا گیا تھا۔

دنیا بھر میں کرونا کیسز کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی چھ لاکھ 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہے (اے ایف پی)

عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کووڈ 19 کے ایمرجنسی سٹیٹس کے حوالے سے ایک اعلیٰ کمیٹی رواں ہفتے کے اختتام پر فیصلہ کرے گی۔

یاد رہے کہ ڈبلیو ایچ او نے چھ ماہ قبل کووڈ 19 کو عالمی ایمرجنسی قرار دیا تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم گیبرئیسیس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی ایمرجنسی کمیٹی اس اعلان پر نظر ثانی کرے گی جس میں کووڈ 19 کی وبا کو 'صحت عامہ کی ایمرجنسی یا عالمی خطرہ' قرار دیا گیا تھا۔

عالمی قوانین صحت کے تحت پی ایچ ای آئی سی یعنی ایمرجنسی کی اعلیٰ ترین سطح پر ہر چھ مہینے بعد نظرثانی کرنا لازم ہوتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کووڈ 19 سے پہلے ڈبلیو ایچ او کی جانب سے ایسا اعلان صرف پانچ بار کیا گیا ہے۔ جن میں ایک بار سوائن فلو، پولیو، زکا اور افریقہ میں ایبولا کی وبا پھیلنے کے دو واقعات شامل ہیں۔

ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے موجودہ وبا سب سے زیادہ شدید ہے۔‘

اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایمرجنسی کمیٹی اس بات کو مدنظر رکھے گی کہ کووڈ 19 ابھی تک عالمی طور پر صحت کی ایمرجنسی ہی ہے لیکن ممکنہ طور پر ڈبلیو ایچ او دنیا بھر میں اس وبا کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور ممکنہ رد عمل میں تبدیلیوں کا مشورہ دے سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایمرجنسی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں کرونا وائرس کے حوالے سے صورت حال ڈرامائی طور پر بدل چکی ہے۔

ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے 30 جنوری کو عالمی ایمرجنسی کا اعلان کیا تھا تو اس وقت چین سے باہر سو کیسز تھے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’لیکن اب دنیا بھر میں کرونا کیسز کی تعداد ایک کروڑ 60 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی چھ لاکھ 50 ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔‘

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’کووڈ 19 نے ہماری دنیا کو بدل کے رکھ دیا ہے۔ یہ لوگوں، برادریوں اور اقوام کو قریب بھی لایا ہے اس نے انہیں دور بھی کیا ہے۔‘

ڈبلیو ایچ او کو کرونا وائرس پر دیے جانے والے رد عمل کی وجہ سے سخت تنقید اور سست روی کے الزامات کا سامنا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

ٹیڈروس کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ چھ ماہ کے دوران ڈبلیو ایچ او نے انتھک محنت سے کئی ممالک کو کرونا وائرس کے جوابی ردعمل کی تیاری میں مدد دی ہے۔ مجھے اپنی تنظیم اور اس کے لوگوں پر فخر ہے۔‘

ٹیڈروس کو بذات خود بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ڈبلیو ایچ او پر 'چین کی کٹھ پتلی' ہونے کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

رواں ماہ کے آغاز میں صدر ٹرمپ نے امریکہ کی ڈبلیو ایچ او سے علیحدگی کا اعلان بھی کیا ہے۔ یاد رہے امریکہ ڈبلیو ایچ او کو فنڈنگ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت