آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرونا ویکسین ٹرائل میں حوصلہ افزا نتائج

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق ابتدائی ٹرائلز میں 1077 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ ٹرائلز کے دوران سامنے آیا کہ یہ ویکسین وائرس کے مقابلے میں امیون سسٹم کو طاقتور ردعمل دینا سکھاتی ہے تاکہ جسم میں اینٹی باڈیز اور خون کے سفید خلیے کرونا وائرس سے لڑ سکیں۔

جنوبی افریقہ میں ایک ٹرائل میں ایک رضاکار کو  ممکنہ ویکسین لگائی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے خلاف کئی ویکسینز پر کام ہورہا ہے (اے ایف پی فائل)

ابتدائی ٹرائلز میں آکسفورڈ یونیورسٹی اور اسٹرزینیکا کے اشتراک سے تیار کی جانے والی ویکسین کے مثبت اور حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں جن میں اس ویکسین کے ذریعے قوت مدافعت کے سسٹم کا ایک طاقتور ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور یہ محفوظ بھی ہے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق ابتدائی ٹرائلز میں 1077 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔ ٹرائلز کے دوران سامنے آیا کہ یہ ویکسین وائرس کے مقابلے میں امیون سسٹم کو طاقتور ردعمل دینا سکھاتی ہے تاکہ جسم میں اینٹی باڈیز اور خون کے سفید خلیے کرونا (کورونا) وائرس سے لڑ سکیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کی شریک مصنف پروفیسر سارہ گلبرٹ نے ان نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: 'ابھی یہ کہنے سے قبل بہت سا کام باقی ہے کہ ہم اس ویکسین سے کووڈ 19 پر قابو پانے میں مدد کرنے کی تصدیق کر سکیں۔'

برطانوی وزیر اعظم نے بھی ان نتائج کو 'بہت مثبت قرار' دیتے ہوئے اس ویکسین پر کام کرنے والے سائنسدانوں کو مبارک باد دی ہے۔

اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا ہے کہ 'کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی۔ ہم ابھی منزل پر نہیں پہنچے اور مزید ٹرائلز کی ضرورت ہے لیکن یہ درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔'

خوراکوں کی حصولی

روس کے خود مختار ویلتھ فنڈ کے سربراہ نے امید ظاہر کی ہے کہ روس اگست تک کرونا (کورونا) وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے بعد رواں سال کے اختتام تک ہی اپنے غیر ملکی پارٹنرز کے ساتھ مل کر 20 کروڑ ڈوزز یعنی خوراکیں تیار کرنے میں کامیابی حاصل کر لے گا۔ 

رشیئن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ (آر ڈی آئی ایف) تقریباً دس ارب ڈالر مالیت کا فنڈ ہے جو کہ اس وقت ایک حکومتی ری سرچ انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر ملک بھر میں کئی ویکسین پروجیکٹس پر کام کر رہا ہے۔

آر ڈی آئی ایف کے چیف ایگزیکٹو کریل دمتریوف نے کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ اس پروجیکٹ کو اگلے مہینے تک پیداوار شروع کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ ان کی جانب سے ایسا گذشتہ ہفتے ویکسین کے پہلے مرحلے کے ٹرائلز مکمل ہونے کے بعد کہا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دمتریف نے روس کے سرکاری اینٹی کرونا وائرس پورٹل پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا: 'اس کے فوراً بعد ہی ہم بڑے پیمانے پر پیداوار شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس ویکسین کی بڑے پیمانے پر تیاری کرونا کی وبا کی ممکنہ 'دوسری لہر' کو روک سکتی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ روس اس پوزیشن میں ہوگا کہ رواں سال کے آخر تک اس ویکسین کی تین کروڑ خوراکیں تیار کی جا سکیں گی جس میں 'دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے شراکت دار' شامل ہوں گے اور کل خوراکیں 20 کروڑ تک پہنچ جائیں گی۔

دمتریوف کا کہنا تھا کہ ان ٹرائلز کا دوسرا مرحلہ 3 اگست تک ختم ہو جائے گا۔

ان کے مطابق: 'اس کے بعد روس اور متعدد ممالک میں تیسرے مرحلے کے ٹرائلز شروع ہوں گے۔'

ٹرائلز میں ترکی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔

دوسری جانب برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ برطانیہ نے کئی بایو ٹیکنالوجی فرمز کے ساتھ معاہدوں کے بعد ممکنہ کرونا ویکسین کی نو کروڑ ڈوزز کا حصول یقینی بنا لیا ہے۔

سوموار کو بزنس سکریٹری آلوک شرما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب برطانیہ کو مقامی اور دنیا بھر میں تیار کی جانے والی تین مختلف قسم کی ویکسینوں تک رسائی حاصل ہوگی اور اس نے رضاکاروں کے لیے ویکسین کی تحقیق کے لیے سائن اپ کرنے کے لیے ایک ویب سائٹ بھی شروع کی ہے۔

آلوک شرما کا کہنا تھا کہ ویکسین ڈھونڈنے کی تلاش ایک عالمی کوشش ہے اور 'ہم برطانوی عوام کی جلد سے جلد کسی محفوظ اور موثر کرونا وائرس ویکسین تک رسائی یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔'

اس معاہدے میں بائیو ٹیک اور جرمن فرم فائزر کے ذریعہ تیار کردہ ایک ویکسین کی تین کروڑ خوراکیں، اور فرانس کی والینیوا کی تخلیق کردہ چھ کروڑ خوراکیں شامل ہوں گی۔

برطانوی حکومت پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ذریعہ اسٹر زینیکا کی شراکت داری سے تیار کردہ ویکسین کی دس کروڑ خوراکیں بھی خریدے گی۔

اس سے قبل برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران کہہ چکے ہیں کہ وہ اس ویکسین کے بارے میں 'پر امید ہیں، لیکن یہ کہنا کہ مجھے اس پر سو فیصد اعتماد ہے کہ ہمیں اس سال یا اگلے سال ایک ویکسین مل جائے گی، بدقسمتی سے یہ صرف مبالغہ آرائی ہے۔' 

کرونا کی وبا کے باعث برطانیہ میں 45000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا