شاہد مسعود کا میڈیا اور ملک چھوڑنے کا فیصلہ

’لائیو وِد ڈاکٹر شاہد مسعود‘ کے میزبان نے بتایا کہ انہوں نے میڈیا اورملک دنوں چھوڑ دیے ہیں، کیونکہ ’جان ہے تو جہان ہے۔‘

ڈاکٹر شاہد مسعود  اپنے میڈیا کیریئر میں مختلف تنازعات میں گھِرے رہے۔ ویڈیو سکرین گریب

پاکستانی نیوز چینلز کی ایک اہم مگر متنازعہ شخصیت اور اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود نے نا صرف میڈیا بلکہ ملک چھوڑنے کا بھی فیصلہ کرلیا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اس فیصلے کی تصدیق کی اور مستقبل کے بارے میں کہا: ’جان ہے تو جہان ہے۔‘

پاکستان میں میڈیا میں ایک بار آ جانے کے بعد اسے الودع کہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا شاید کسی نشے سے جان چھڑانا۔ میڈیا بظاہر ایک نشہ ہے شہرت کا، بڑے لوگوں سے ملنے کا، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کا، جسے خیرباد کہنا اگر ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں معروف اینکرپرسن چینل تبدیل کر دیتے ہیں، اپنے پروگرام کے نام تبدیل کرتے رہتے ہیں لیکن تمام تر تنقید اور مشکلات کے باوجود میڈیا کو نہیں چھوڑتے۔

پڑھائی کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر، سیاسی و سماجی کالم نگار اور ’لائیو وِد ڈاکٹر شاہد مسعود‘ کے میزبان نے مزید بتایا کہ انہوں نے میڈیا اورملک دنوں چھوڑ دیے ہیں۔ ’یہ بظاہر ایک انتہائی اقدام دکھائی دے گا لیکن کوئی دوسرا راستہ ہی نہیں تھا۔ ہتھ کڑیوں میں عوامی ذلت!۔‘

ڈاکٹر شاہد مسعود کو سرکاری پاکستان ٹیلیویژن (پی ٹی وی) میں ان کی چیئرمین شپ کے دور میں، (اُس وقت ان کے پاس مینجنگ ڈائریکٹر کا اضافی عہدہ بھی تھا)، بدعنوانی کے الزام میں گزشتہ برس نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس دوران عدالتوں میں پیشی کے دوران انہیں ہتھکڑیوں میں لایا جاتا تھا جس پر سول سوسائٹی کے لوگوں نے بھی شدید احتجاج کیا تھا۔ اُن کی اس وقت کی ویڈیوز وائرل بھی ہوئیں، جس کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ یہی سب ان کے لیے ذہنی صدمے کا سبب بنا۔

ڈاکٹر شاہد نے اپنی صحت سے متعلق مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آڈر سے، جس کی تشخیص ذہنی دباؤ کے ساتھ ہوئی تھی، جان چھڑانے کی بھرپور کوشش کی، میں نے جیل میں بہت برداشت کیا۔۔۔ لیکن کچھ افاقہ نہیں ہوا۔‘   

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا میں آمد کے وقت سے ڈاکٹر شاہد مسعود کئی حیثیتوں میں اس سے جڑے رہے، لیکن اس زمانے کو تنازعات سے بھرپور کہا جائے تو کچھ کم نہیں ہوگا۔

ان کے خلاف کراچی میں ’ثقافتی نفرت‘ پھیلانے کے الزام میں عدالت میں 2010 میں پٹیشن بھی دائر ہوئی، عدلیہ کی تضحیک کے الزام میں عدالتی حکم پر انہیں معافی بھی مانگنی پڑی، حتیٰ کہ سابق وزیر  خزانہ اسحاق ڈار نے 2016 میں اُن پر ہتک عزت کا دعویٰ بھی کیا، لیکن جس چیز نے ان کی ساکھ کو سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ قصور میں کم سن زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور ان کے قتل کے واقعےکے حوالے سے ان کے انکشافات تھے کہ ملزم کے درجنوں بینک اکاؤنٹس ہیں۔ عدالت نے شاہد مسعود کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان پر تین ماہ کی ٹی وی پروگرام نہ کرنے کی پابندی بھی عائد کی تھی۔

یہ سب تو انہوں نے برداشت کرلیا لیکن گذشتہ برس نومبر میں پی ٹی وی میں کرپشن کے الزام میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ہاتھوں گرفتاری اور رویہ شاید ان کے میڈیا کیریئر کے تابوت میں آخری کِیل ثابت ہوا۔

اپنے مستقبل کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی کچھ فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہاں انہوں نے اتنا ضرور کہا: ’جان ہے تو جہان ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست