’قائداعظم زندہ باد‘ کی نمائش سینما میں ہی چاہتے ہیں: فضہ علی میرزا

فضہ علی میرزا نے کہا کہ فلم ساز کی حیثیت سے ان کی پہلی ترجیح یہی رہے گی کہ ان کی فلم سینما کی زینت بنے اور اس کے بعد بےشک کسی ڈیجیٹل چینل پر آجائے۔

فضہ علی میرزا  نے ’نامعلوم افراد‘، ’ایکٹر ان لاء‘،’نامعلوم افراد 2‘ اور ’لوڈویڈنگ‘ جیسی فلمیں بنائی ہیں۔(سکرین گریب)

اس سال دوسری عید پر بھی کرونا (کورونا) وائرس کی عالمی وبا نے سینما گھر ویران کر رکھے ہیں اور وہ تمام پروڈیوسرز جو عیدالاضحیٰ پر اپنی فلم کی نمائش کرنا چاہتے تھے، سوائے انتظار کے کچھ نہیں کرسکتے۔

رواں برس عیدالاضحیٰ پر ریلیز کے لیے تیار فلم ’قائداعظم زندہ باد‘ کی نمائش کو بھی ملتوی کرنا پڑا، جس میں ماہرہ خان اور فہد مصطفٰی مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو  نے فلم ’قائداعظم زندہ باد‘ کی پروڈیوسر فضہ علی میرزا سے اسی سلسلے میں خصوصی ملاقات کی ۔

 پاکستانی سینما کے ازسرنو احیاء میں اہم ترین کردار پروڈیوسر اور مصنّف فضہ علی میرزا کا ہے، جنہوں نے ’نامعلوم افراد‘، ’ایکٹر ان لاء‘،’نامعلوم افراد 2‘ اور ’لوڈویڈنگ‘ جیسی فلمیں بنائی ہیں۔

اپنی نئی فلم کو ریلیز کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں فضہ علی میرزا نے بتایا: ’ارادہ تو یہی ہے کہ ہماری فلم کی نمائش سینما میں ہو اور امید ہے کہ ہوگی،کرونا کی وبا کے اثرات پوری دنیا میں آئے ہیں، بہت ساری فلمیں رک گئی ہیں اور یہی پاکستان کی فلمی صنعت کے ساتھ بھی ہوا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا: ’ہمارا ارادہ عید الاضحیٰ پر اپنی فلم کی نمائش کا تھا اور ہم فلم وقت پر مکمل بھی کرچکے تھے لیکن موجودہ صورت حال میں ہم صرف امید رکھ سکتے ہیں اور دعا کرسکتے ہیں کہ جلد ہی ہمارے سینما واپس آباد ہوں۔‘

بھارت میں کرونا کی وبا کی وجہ سے بہت سے فلموں کی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نمائش کی جا رہی ہے، پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟ اس بارے میں فضہ علی میرزا کا کہنا تھا کہ ’بالی وڈ کی کم بجٹ کی فلمیں تو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ضرور گئی ہیں مگر بڑے بجٹ کی فلمیں نہیں گئیں اور وہ دسمبر میں کرسمس یا نئے سال کے موقع پر نمائش کا سوچ رہے ہیں۔‘

پاکستان میں بڑے ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہ ہونے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے پاکستان میں ایسے پلیٹ فارمز ہیں ہی نہیں جبکہ بھارت میں کئی عالمی سطح کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بنیادیں موجود ہیں، وہاں نیٹ فلکس کا اپنا دفتر ہے اور ایمازون براہ راست خرید رہا ہے، ڈزنی پلس کا بھی اپنا دفتر وہاں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کا مقابلہ ہمیشہ بھارت سے کرتے ہیں لیکن فلم کے معاملے میں ہمیں سوچنا ہوگا کیونکہ وہاں فلمیں مسلسل بنتی رہی ہیں، انہوں نے کوئی مارشل لا نہیں دیکھا، ان کے یہاں ایسا نہیں ہوا کہ فلمیں بننا بند ہوگئی ہوں اور پھر سے ان کا آغاز ہوا ہو۔ ’پاکستان میں کئی سال فلمیں بنی ہی نہیں اور جب بننا شروع ہوئیں تو کووڈ 19 آگیا، اس لیے ابھی کسی قسم کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔‘

تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے معاملے میں ہم پیچھے رہ گئے ہیں کیونکہ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور وقت پر کام ہوسکتا تھا۔ پاکستانی ٹی وی چینلز کے پاس وسائل تھے مگر وہ یوٹیوب پر انحصار کرتے رہے اور دور اندیشی کا مظاہرہ نہیں کیا، اگر وقت پر ہم ڈیجیٹل چینلز بنا لیتے تو آج ہم وہاں اپنی فلمیں لگا سکتے تھے۔

اپنی فلم ’قائداعظم زندہ باد‘ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں یہ سوال نہیں کہ فلم کا بجٹ کتنا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ دیگر ذرائع کیا ہیں؟ کسی بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر پاکستانی فلم کے لیے کیا مواقع ہیں؟ عالمی سطح پر دو سے تین ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہیں مگر ان پر بھی امکانات بہت کم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم ساز کی حیثیت سے ان کی پہلی ترجیح یہی رہے گی کہ ان کی فلم سینما کی زینت بنے اور اس کے بعد بےشک کسی ڈیجیٹل چینل پر آجائے۔

جب فضہ علی میرزا سے پوچھا گیا کہ 2014 میں پاکستانی سینما کا احیاء ان کی فلم سے ہوا اور کرونا وائرس کی وجہ سے بند پڑے سینما جب بھی کھلے، وہ آپ کی فلم سے امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ خوشی کی بات ہے کہ ہمیں ایک اور موقع مل رہا ہے لیکن اب اس سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، زیادہ سے زیادہ فلمیں بنانے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے سینما مالکان، حکومت اور فلم سازوں کو عمل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

پاکستان میں زیادہ فلمیں نہ بننے کی وجہ بتاتے ہوئے فضہ علی میرزا نے کہا کہ موجودہ حکومت نسبتاً تیز رفتاری سے مسائل کے حل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جلد ہی یہ خبر آئے گی کہ حکومت فلم سازی کو ایک باقاعدہ صنعت کی حیثیت سے تسلیم کرلے گی اور ایسا ہوا تو یہ ایک بہت بڑا قدم ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت سے جو مطالبات کیے گئے ہیں، ان میں سے پہلا ٹیکس میں چھوٹ کا ہے، جو محسوس ہوتا ہے کہ تسلیم کرلیا گیا ہے جبکہ ایک کمیٹی کی بھی تجویز دی گئی ہے جو حکومت اور پروڈیوسرز کے درمیان تعلق کا سبب ہو اور حکومت تک فلمسازوں کی آواز آرام سے پہنچ سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ بیرون ملک سے پاکستان آکر فلمیں بنانے والوں کو سہولت دی جائے کیونکہ پاکستان میں بہت ہی خوبصورت مناظر ہیں اور  یہاں عکس بندی کا خرچہ کئی ممالک سے کم ہے۔

فضہ نے کہا کہ ایک مرتبہ اگر صنعت کا درجہ مل جائے گا تو بینکوں سے قرضے اور انشورنس کی سہولت بھی مل جایا کرے گی۔

حال ہی میں فضہ علی میرزا نے لیاری پر ایک ویب سیریز بنانے کا اعلان کیا ہے، اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کرونا کی وبا کی وجہ سے انہوں نے اپنی فلم ’فیٹ مین‘ کی عکس بندی کا رادہ ملتوی کرکے ویب سیریز بنانے کا اعلان کیا، ورنہ ارادہ یہ تھا کہ پہلے دوسری فلم مکمل کی جائے اور پھر اس جانب آیا جائے۔ لیکن ویب سیریز بنانے کا ارادہ پہلے ہی سے تھا اور اس کے سکرپٹ پر ایک سال سے کام کیا جارہا تھا۔

انہوں نے رائے ظاہر کی کہ اگر ہم اچھا کام کریں گے تو عالمی سطح پر ہمیں کام کرنے کا موقع ملے گا اور پاکستانی کام کی مانگ میں اضافہ ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے پاکستانی ڈرامے نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ ’یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جب ہم نے پہلی فلم بنائی تھی تو ہمارے کئی ساتھیوں کو فلم بنانے کی ہمت ملی تھی ، بالکل اسی طرح امید ہے کہ ہمارے بعد دیگر افراد بھی ویب سیریز بنانے کی جانب مائل ہوں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فلم