بیروت: ’آج جھاڑو اٹھائے ہیں، کل ہم خود اٹھ جائیں گے‘

لبنان کی حکومت نے منگل کو ہونے والے دھماکوں کی تحقیقات شروع کردی ہیں، دوسری جانب عوام حکومت پر شدید برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دو روز گزر جانے کے بعد بھی کسی قسم کا کوئی امدادی کام نہیں کیا جا رہا۔

لبنان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے منگل کو ہونے والے زوردار دھماکوں کے ذمہ داران کے تعین کے حوالے سے ’تحقیقاتی کمیٹی‘ کو چار روز کا وقت دیا ہے۔

فرانسیسی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے لبنان کے وزیرخارجہ چاربیل ویہبے نے جمعرات کو کہا کہ ’آج صبح ایک تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا جو زیادہ سے زیادہ چار روز میں اس بات کا تعین کرے گی کہ کون، کیسے اور کہاں ذمہ دار ہے؟ اس کا عدالتی فیصلہ کیا جائے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’یہ سنجیدہ ہے اور ہم اسے سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جو بھی اس لاپروائی کے جرم کا ذمہ دار پایا گیا، اسے ججز کی ایک کمیٹی سزا دے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فرانسیسی صدرایمینوئل میکخواں امداد فراہم کرنے اور دھماکوں کے بعد کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے لبنان پہنچے ہیں۔

منگل کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دو زوردار دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان دھماکوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر اس بارودی مواد کے پھٹنے سے ہوا ہے جو کئی سال پہلے ضبط کر کے بندرگاہ کے قریب ذخیرہ کیا گیا تھا۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں 130 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ان دھماکوں کے بعد لبنان کے عوام حکومت پر شدید برہم ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دو روز گزر جانے کے بعد بھی تاحال کسی قسم کا کوئی امدادی کام نہیں کیا جا رہا ہے۔

تاہم کچھ لوگوں نے تو اپنی مدد آپ کے تحت جھاڑو اٹھا لیے ہیں اور وہ خود ہی گلیوں بازاروں کو صاف کرنے نکل پڑے ہیں۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا