'سب 15 سیکنڈز میں ہوا': بھارتی طیارے کے ایک مسافر کی داستان

حادثے میں بچ جانے والے 25 سالہ جنید کے مطابق: 'ایک ڈھلوان سے پھسلنے کے بعد طیارہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔'

 ایئر انڈیا کا  دبئی سے آنے والا ایک  طیارہ جمعے کو     لینڈنگ کے وقت   دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا (تصویر: اے ایف پی)

ایئر انڈیا کی فلائٹ آئی ایکس 1344 کی آخری نشست پر بیٹھے محمد جنید کو محسوس ہوا کہ کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ جمعے کو دبئی سے آنے والی یہ پرواز تیز ہوا کی وجہ سے ہچکولے کھا رہی تھی۔ جہاز کی منزل بس کچھ دور واقع جنوبی بھارت کا شہر کوزیکوڈ تھا۔

ایک بار لینڈ کرنے کی ناکام کوشش کے بعد طیارہ گھوم کے واپس آیا اور زمین پر اتر آیا۔ طیارے میں جنید جیسے اور بہت سے افراد موجود تھے جو کہ مشرق وسطیٰ میں کام کرتے تھے اور کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کی وجہ سے تنخواہیں آدھی ہونے پر ملک واپس آنے پر مجبور تھے۔

جنید کے مطابق طیارہ بجائے آہستہ ہونے کے مزید تیز ہو گیا جس کی وجہ شاید بارشوں سے گیلا رن وے ہو، ایک ڈھلوان سے پھسلنے کے بعد طیارہ دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔

جنید نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'یہ سب 15 سیکنڈز میں ہوا۔'

حکام کے مطابق جہاز میں سوار 190 مسافروں میں سے 18 افراد ہلاک ہو گئے جن میں دونوں پائلٹس بھی شامل تھے۔ یہ بھارتی طیاروں کا گذشتہ دس سال میں بدترین حادثہ تھا، جس میں 16 افراد زخمی بھی ہوئے۔

جنید اور ان جیسے کئی اور مسافر جو جہاز کی پچھلی نشستوں پر موجود تھے، اس حادثے میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'جہاز کو جھٹکے لگنے کی وجہ سے صرف میرے ہونٹ زخمی ہوئے اور سر میں درد ہے۔ میں محفوظ رہنے پر خدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔'

جنید کی عمر 25 سال ہے اور وہ بطور اکاؤنٹنٹ کام کرنے کے لیے تین سال پہلے دبئی منتقل ہوئے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا ہے کہ وبا کی وجہ سے مئی سے ہی ان کی تنخواہ آدھی کر دی گئی تھی۔ 'میرے باس نے مجھے کہا کہ دو تین ماہ کی چھٹی لے لو اور جب حالات بہتر ہو جائیں تو واپس آجانا۔'

جنید کے مطابق انہوں نے بھارت واپس آنے کے لیے مئی میں اپنی رجسٹریشن کروائی تھی لیکن ان کی باری مہینوں بعد آئی ہے۔

وہ دو سال بعد بھارت واپس آ رہے تھے۔ جنید کے مطابق: 'میں اپنے دوستوں اور گھر والوں سے ملنے کے لیے بہت پرجوش تھا۔'

اب جنید اپنے گھر پر موجود ہیں اور اپنے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتیجے کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 'میں بہت خوفزدہ ہوں اور دوبارہ فضائی سفر نہیں کرنا چاہتا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا