لوگ سمجھتے ہیں کہ شیدی کوئی مثبت کام نہیں کر سکتے: تنزیلا قمبرانی

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سندھ کے قدیم شیدی قبیلےکی پہلی خاتون رکن سندھ اسمبلی تنزیلہ قمبرانی نے کہا ہے کہ صرف امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ نسلی امتیاز نہیں برتا جاتا بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔

تنزیلا کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں بھی افریقہ نژاد شیدیوں سے نسلی امتیاز برتا جاتا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سندھ کے قدیم شیدی قبیلے کی پہلی خاتون رکن سندھ اسمبلی تنزیلہ قمبرانی نے کہا ہے کہ صرف امریکہ میں سیاہ فاموں کے ساتھ نسلی امتیاز نہیں برتا جاتا بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں بھی افریقہ نژاد شیدیوں سے نسلی امتیاز برتا جاتا ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو می انہوں نے کہا: 'ہمیں ہر جگہ پر کریکٹر سرٹیفکیٹ دینا پڑتا ہے کہ ہم خراب کردار کے مالک نہیں ہیں۔ یہ ثابت کرنا پڑتا ہے کہ میں سیاہ فام ہونے کے باعث ایک خراب کردار رکھنے والے عورت نہیں ہوں۔ یہ سمجھانا مشکل ہے کہ ایک پاکستانی کی حیثت سے میں بھی وہی کچھ کرسکتی ہوں جو ایک عام پاکستانی کرسکتا ہے۔ '

مکمل انٹرویو: 

 
 

تنزیلہ قمبرانی نے مزید کہا: 'وقت تب تک نہیں بدلے گا جب تک ہم سے ہماری رنگت کے باعث کیریکٹر سرٹیفکیٹ مانگنا بند نہیں کیا جاتا۔ اس کے لیے سماجی رویے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تنزیلا کے مطابق، نسلی امتیاز کے خلاف دنیا بھر میں قوانین تو موجود ہیں اب ان قوانین پر عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سیاہ فام امریکی شہری جارج فلائیڈ کے واقعے کے بعد شروع ہونی والی تحریک ان تمام قوانین کو عملی طور پر لاگو کروائے گی جو قوانین بن تو چکے ہیں مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہورہا۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین