بڑی پھونکوں سے چنگاری جلی ہے

جنہیں غم کھائے جاتا تھا کہ مریم نواز کچھ بولتی نہیں، ان کے غم دور ہوئے۔ کارکن جو سڑکوں پہ نکلنے کو بیتاب تھے انہیں دھوپ لگی۔ لیگی رہنما جو گھسے پٹے بیانات سے آگے نہیں نکل پا رہے تھے انہیں کہنے کو تازہ کلام ملا۔ شہباز شریف، حمزہ پھر سے بےمعنی ہوئے۔

مسلم لیگ ن کے کارکن کو لاہور میں تصادم کے بعد حراست میں لیتے ہوئے (اے ایف پی)

اکھاڑا بڑے دنوں سے سونا پڑا تھا۔ وہ میدان جس کی مٹی کو پہلوانوں کے جسموں کا پسینہ تر رکھتا تھا وہاں کئی دنوں سے خشک مٹی جھکڑ کی صورت اڑ رہی تھی۔

جہان دیدہ بڈھوں کو بھی اپنے حقے، سگار اور سستے سگریٹ سلگا کر پہلوانوں کی طاقت، ماضی اور مستقبل جانچنے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اور پہلوان وہ تو جیسے تیل چپڑنا، سردائی پینا اور میدان سجے تو مخالف کو پھینٹنا لگانا بھول ہی گئے تھے۔

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن سکتے ہیں

 

ایسے میں نیب نامی ایک ہمدرد ادارہ سامنے آیا جو  کامیاب شوز کے ٹکٹ ہاتھوں ہاتھ فروخت کرنے میں ملکہ رکھتا ہے۔ نیب نے ایک نیوتے کی صورت مریم نواز کو نوٹس دیا اور اکھاڑا پھر سے سج گیا۔ پہلوانوں کی واہ واہ ہو، حکومت نے اس کے لیے پورے انتظامات کیے۔

خاموشی سے بجھتی راکھ میں بڑی پھونکوں سے چنگاری جلائی گئی ہے۔

جنہیں غم کھائے جاتا تھا کہ مریم نواز کچھ بولتی نہیں، ان کے غم دور ہوئے۔ پارٹی کے کارکن جو سڑکوں پہ نکلنے کو بیتاب تھے انہیں دھوپ لگی۔ ن لیگی رہنما جو گھسے پٹے بیانات سے آگے نہیں نکل پا رہے تھے انہیں کہنے کو تازہ کلام ملا۔ شہباز شریف اور حمزہ پھر سے بےمعنی ہوگئے۔

ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا کو مون سون کی بارشوں نے ڈبو رکھا تھا وہاں بھی مریم نواز کی آمد بہار کی طرح منائی گئی۔ ’ایک نہتی لڑکی‘ والی نظموں کے دور چلے، حکومت کو للکارا گیا۔ لہو گرم رکھنے کے بہانے ڈھونڈے گئے۔

مریم نواز تو خاموش تھیں اور شاید آگے بھی رہیں کیونکہ وہ خود کہتی ہیں کہ زندہ لیڈر چاہیے، والد کی خیریت مقصود ہے اور یہ کہ میں تو ڈیل کے ہاتھوں مغوی ہوں۔ ادھر لندن میں نواز شریف بیمار ہیں۔ رہ گئے شہباز شریف یا حمزہ شہباز تو ان کو حزب اختلاف میں گننا خود ان کے ساتھ زیادتی ہوگی۔

پنجاب کے سیاسی افق پر تحریک انصاف حکومت کو گر کسی مشکل کا سامنا تھا تو وہ عثمان بزدار کی گورننس پر کمزور گرفت اور چوہدری برادران تھے۔ یہ مریم نواز کو پھر سےمیدان میں لا کر چومکھی لڑائی کس نے شروع کی؟

مجموعی طور پر اپوزیشن تو خان صاحب کی جھولی میں تھی۔ ڈیل تو بڑی پکی تھی، مولانا فضل الرحمن کی آل پارٹیز کانفرنس بھلا کب انقلاب لاتی، کوئی دھرنا حکومت کے لیے درد سر نہیں بنا، کسی پارٹی نے خان صاحب کو صحیح کا ٹف ٹائم نہیں دیا، عید قرباں بھی آ کر چلی گئی۔ حکومت اپوزیشن کی راہیں ہی تکتی رہی۔

راوی تو چین ہی چین لکھ رہا تھا پھر یہ لاہور کی سڑکوں پر پتھراو کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ مریم نواز تو گھر بیٹھی ٹوئٹر پر وقت کی چال دیکھ رہی تھیں انہیں ان کے اصل رنگ میں آنے پر کس نے مجبور کیا؟ ابھی تو اربوں روپےکی مبینہ کرپشن کیسز نمٹانے تھے، پانامہ کی درجنوں کمپنیاں، لندن کے کھربوں ڈالرز کے فلیٹس کا حساب لینا تھا یہ نیب کو بیٹھے بٹھائے پنجاب میں سستے داموں اراضی  کے معاملے کی کون سی ایمرجنسی لگ گئی؟

مانا کہ خان صاحب اقتدار میں پہلی بار آئے ہیں لیکن  فرینڈلی اپوزیشن کے فوائد تو وہ بھی جانتے ہیں اس لیے یہ تو طے ہے کہ لاہور میں ن لیگ  کا خواہ مخواہ ہی کا پاور پلے کم از کم عمران خان کا فیصلہ نہیں تھا۔گر یہ مان لیں تو پھر یہ کون ہے جس نے پاکستانی سیاست کے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر مار مار کر سکوت توڑا؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم کے معاون ندیم افضل چن صاحب کا کہنا ہے کہ ن لیگ کو  جب تک کوئی ’اچھی خاصی‘ تسلی نہ ہو یہ سڑکوں پر نہیں نکل سکتی۔ یہ اچھی خاصی تسلی کس نے دی؟ چن صاحب فی الحال یہ بتانے سے بہتر مسکرانا سمجھتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں خود وزیر اعظم کے رفقا یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مریم نواز کی پیشی کا پورا واقعہ ہوگیا اور حکومت اپنا سکون لٹتا دیکھتی رہی کیونکہ یہ تھپکی کسی اور کی تھی۔

جیسے پانامہ پر اقامہ کا فیصلہ آگیا، جیسے سابق وزیر اعظم کو مجرم ثابت کیا گیا، جیسے ایک مجرم کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ ملک سے باہر بھیجا گیا، جیسے کہ بڑے دعووں کے باوجود سزا نہ دی جاسکی، جیسے کہ لوٹے ہوئے اربوں ڈالرز بہت چاہ کر بھی واپس نہ لائے جا سکے، جیسے کہ احتساب نہیں مریم نواز کی خامشی مطلوب تھی سو مل گئی، ویسے ہی اب اکھاڑا پھر سے سجانے کی خواہش ہے۔

یہ کریڈٹ بھی عمران خان کے فیصلہ سازوں کو جاتا ہے کہ پچھلے دور حکومت میں اپوزیشن میں جان ڈالنے والے یہی تھے، بےجان کیسز میں روح پھونکنے والے یہی تھے اس دور میں بھی اپوزیشن کی گاڑی کو اپنی مرضی کے وقت، مرضی کی جگہ پر دھکا سٹارٹ چلانے کے پیچھے    دستانوں میں ڈھنپے وہی ہاتھ نظر آتے ہیں۔

اب کی بار جو اکھاڑا سجایا گیا ہے اس کا مقصد ہار یا جیت کے لیے دنگل نہیں، اس بار پہلوانی کے قاعدے بھی ضرورتاً بدل دیے گئے ہیں۔ اس لیے مشہور جوڑی دار مخالفین بھی میدان میں نہیں اتارے گئے۔ ادارہ چاہتا ہے کہ اکھاڑا ہر کچھ دن بعد سجتا رہے، بڈھوں کو اپنی سگار، حقے اور سستی سگریٹیں سلگا کر تجزیوں کے گھوڑے دوڑانے کا موقع ملتا رہے، تاکہ جب گرمی بازار اپنے عروج پر پہنچے تو حتمی دنگل کا انعقاد مشکل نہ ہو۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ