روس نے اتنی جلدی کرونا ویکسین کیسے بنا لی؟

صدر پوتن نے بڑے فخر سے روس کی اس کامیابی کا اعلان کیا ہے لیکن نامور طبی ماہرین نئی ویکسین کے حوالے سے شکوک ظاہر کر رہے ہیں۔

گذشتہ روز روسی صدر ولادی میر پوتن نے یہ کہہ کر سب کو حیران کر دیا کہ روس ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ کر کرونا وائرس کے خلاف منظور شدہ ویکسین تیار کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

حیرت کی ایک وجہ تو سائنسی ہے کہ ویکسین کی تیاری کوئی آسان کام نہیں اور دوسری یہ تھی کہ صدر پوتن اس طرح سے اعلان کر رہے تھے جیسے ملکوں کے درمیان کوئی باقاعدہ دوڑ ہو رہی تھی جو روس نے جیت لی۔

اس بات کو مزید تقویت اس ویکسین کے نام یعنیٰ سپتنک 5 سے ملتی ہے جس سے روس اور امریکہ کے درمیان  50 اور 60 کی دہائیوں میں خلائی دوڑ اپنے عروج پر تھی اور امریکہ اپالو کے نام سے اور روس سپتنک کے نام سے راکٹ بنا کر خلا میں بھیج رہا تھا۔

کیا واقعی اتنی جلد ویکسین بنانا ممکن ہے؟

روس نے ابھی تک سپتنک 5 کا مکمل سائنسی ڈیٹا دنیا کے سامنے نہیں رکھا جس سے پتہ چلتا ہو کہ یہ ویکسین کتنی موثر اور محفوظ ہے۔ یہ ویکسین گمائلا انسٹی ٹیوٹ تیار کر رہا ہے۔ اس نے ویکسین کی تیاری کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے شرکا کے بارے میں دعویٰ کیا کہ ان میں کوئی مضر اثرات دیکھنے میں نہیں ملے۔ 

تاہم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ ویکسین صرف دو سے تین ہزار لوگوں پر آزمائی گئی ہے، جس سے اس کے وسیع تر اور دیرپا اثرات کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔

امریکہ میں وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر اینتھنی فاؤچی کو بھی اس ویکسین پر شکوک و شبہات ہیں۔ انہوں نے اے بی سی ٹی وی کو بتایا: ’مجھے امید ہے کہ روسیوں نے حتمی طور پر ثابت کر دیا ہو گا کہ ویکسین محفوظ اور موثر ہے، تاہم مجھے اس بارے میں سخت شکوک و شبہات ہیں۔‘

تیسرا مرحلہ کہاں گیا؟

عام طور پر ویکسین کی تیاری تین مراحل یا فیزز میں ہوتی ہے۔ پہلے مرحلے (فیز 1) میں سو سے کم  صحت مند لوگوں کو ویکسین دی جاتی ہے تاکہ جسم پر اس کے مضر اثرات جانچے جا سکیں۔

دوسرے مرحلے  (فیز2) میں چند سو لوگوں کو  ویکسین استعمال کروائی جاتی ہے جس دوران اس کے مثبت اور منفی اثرات کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اس کی مناسب ڈوز یا خوراک کا تعین کیا جاتا ہے۔

تیسرا مرحلہ (فیز 3) وہ ہوتا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں مختلف عمروں  اور جسمانی حالت والے مردوں اور عورتوں پر ویکسین کی آزمائش ہوتی ہے تاکہ مختلف لوگوں میں اس کے اثرات اور خاص طور پر شاذ و نادر ہونے والے اثرات کا پتہ چل سکے۔

اگر ان تینوں مراحل سے گزرنے کے بعد ثابت ہو کہ ویکسین موثر بھی ہے اور اس کے مضر اثرات اس سے پہنچنے والے فائدے سے کم ہیں تو اسے منظور کر کے بازار تک پہنچا دیا جاتا ہے۔

اس کام میں جلدی نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات کوئی دوا بظاہر فوری طور پر فائدہ مند معلوم ہوتی ہے لیکن کچھ ماہ گزرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اس کا جسم کے اعضا پر کوئی خطرناک ذیلی اثر مرتب ہو گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چونکہ کرونا وائرس کی ویکسین ممکنہ طور پر اربوں لوگوں کو دی جانی ہے، اس لیے اس میں زبردست احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ انتہائی شاذ و نادر مضر اثر بھی لاکھوں لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ تینوں مراحل سائنس دانوں نے کئی عشروں کی تجربات کے بعد وضع کیے ہیں اور دنیا میں استعمال ہونے والی تمام ادویات اسی طریقۂ کار کے تحت تجربہ گاہ سے میڈیکل سٹور کے شیلف تک پہنچتی ہیں۔ ماضی کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ یہ  طریقہ بےحد کارآمد ہے۔

تاہم روس نے اپریل میں ایک قانون منظور کر کے دوا کو منظور کرنے کے لیے تیسرے مرحلے کی شرط ہی ختم کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ویکسین اتنی جلدی منظوری کے لیے تیار ہو گئی۔ اس کے مقابلے پر امریکہ، یورپ اور چین میں کئی ویکسینیں ایسی ہیں جو تیسرے مرحلے سے گزر رہی ہیں اور ان کے نتائج آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔  

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں ویکسین سیفٹی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ڈاکٹر ڈینیئل سامن نے کہا، ’فیز3 انتہائی ضروری ہے۔ کیا فیز3 کے بغیر میں (ویکسین کے) موثر یا محفوظ ہونے کے بارے میں پراعتماد ہو سکتا ہوں؟ ہرگز نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق