مریم نواز نیب کے سامنے

ایک ایسی اپوزیشن جو کل جماعتی کانفرنس کروانے کی اہل نہیں ہے ملک میں عملی تبدیلیوں کی راہ کیسے ہموار کر سکتی ہے؟

نیب لاہور دفتر کے سامنے مریم نواز کی گاڑی کی ونڈسکرین میں پڑا کریک (اے ایف پی)

جب سے مریم نواز کی گاڑی پر پتھراؤ ہوا ہے پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنان غیر معمولی توانائی کا اظہار کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ہونے والی گپ شپ کو دیکھ لیں یا لاہور میں جا کر کسی تھڑے کی سیاسی بحث کا حصہ بن جائیں نیب کے سامنے ہونے والا یہ واقعہ ہر تذکرے میں موجود ہے۔

ن لیگ کی طرف سے کی جانے والی اس بات چیت میں ایک عجیب احساس تفخر نظر آتا ہے جیسے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا گیا ہو۔ بظاہر یہ حیرانی کا باعث ہے کہ ایک پتھر، دس، بیس دھکے اور چند گرفتاریاں کسی جماعت سے منسلک سیاسی افراد کو اس طرح کی دماغی تحریک دے دیں۔ پاکستان کے سیاسی معیار کے مطابق کی یہ چھوٹی خبر تھی۔

یہاں پر وزیر اعظم پھانسی لگتے ہیں۔ سڑکوں یا جلسہ گاہوں میں مارے جاتے ہیں۔ کارکنان پر بم پھاڑے جاتے ہیں اور جانوں کا ضیاع سیاسی عمل کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح کی سیاسی تاریخ کے ساتھ جڑی ہوئی ثقافت میں پلنے والے ایک پتھراؤ کو کیوں کر جنگ پلاسی کی سی اہمیت دے رہے ہیں۔

اس کی ایک وجہ ن لیگ کی قیادت کی طرف قبرستان سی وہ خاموشی ہے جو ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ نواز شریف تو پہلے سے ہی خاموش تھے اب شہباز شریف بھی محدود جملوں والے ہومیو پیتھک سیاسی حملے کبھی کبھار کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلاتے ہیں۔

ٹیلی وژن کے ٹاک شوز میں ہونے والی جھک جھک اب محلے کی بلیوں کی غراہٹ کی طرح محسوس ہوتی ہے جس میں چونکا دینے کی کوئی خصوصیت موجود نہیں۔ مریم اورنگزیب کبھی کبھار تگڑا بیان جڑ دیتی ہیں مگر اجتماعی طور پر ن لیگ خاموشی سے اس کٹھن مرحلے سے گزر رہی ہے۔

کارکنان کا جیالہ پن غصے میں تبدیل ہو کر زائل ہو رہا ہے۔ پارٹی میں ہر کوئی کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن نہ تو کچھ ہو پا رہا ہے اور نہ ہونے کی امید قوی ہے۔ ایسی خاموشی میں گاڑی کی ونڈ سکرین پر لگا ایک پتھر یا کوئی اور شے توپ کے گولوں کی طرح سنائی دیتی ہے۔ ہلکے پھلکے دھکے بڑے احتجاج کی تصویر بناتے ہیں اور ایک پریس کانفرنس ان تمام مواقع پر خاموشی اختیار کرنے کا مداوا بن جاتی ہے جب نہ بولنا کفر کا درجہ رکھتا ہے۔

دوسری وجہ مریم نواز خود ہیں۔ ن لیگ میں ایک طویل سیاسی کشمکش کے بعد پارٹی کے جذبات اور اختیارات کا رخ ازخود نواز شریف کی بیٹی کی طرف ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ مریم نواز اس سے پہلے نواز شریف کی بیٹی اور ملک کے وزیر اعظم کے قریب ترین فرد کی حیثیت سے خود کو جماعت کی سیاست میں مرکزیت دے چکی تھیں۔ لیکن یہ مرکزیت تنازعے کے بغیر نہیں تھی۔

کہنے کو تو چچا اور بھتیجی اور کزنز ایک ہی پلیٹ فارم پر کھڑے تھے مگر دل میں قدورتیں بہت تھیں۔ مریم نواز کے بارے میں نواز شریف کے دور حکومت میں چلنے  والی افواہ ساز انڈسٹری میں بہت سا خام مال گھر کے بھیدیوں کی طرف سے بھیجا جاتا تھا۔ حتی کہ نواز شریف کو نکالنے والوں سے رابطے کر کے خاموشی سے نواز شریف اور ان کی بیٹی کو سیاسی طور پر فارغ کرنے کی پلاننگ بھی حلیفوں اور رفیقوں کی مدد سے کی جاتی تھی۔

خیال یہ تھا کہ نواز شریف کو ملک سے بھگا کے مریم کو سیاسی طور پر بےحیثیت کر دیا جائے۔ بانس اور بانسری دونوں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے اور پھر شریف فیملی کے بچے کھچے سیاسی عناصر ایک کمزور اور سیاسی مدافعت سے محروم جماعت کا الم اٹھا کر ایوبی قسم کی جمہوریت کا حصہ بن جائے گا۔

مگر پلان کرنے اور اس کے بانتیجہ ثابت ہونے میں بڑا فرق ہے۔ نواز شریف کا ووٹ بینک ایک ایسا اثاثہ بن چکا ہے جو مریم نواز کے علاوہ کسی اور کے پاس بھجوا کر کارآمد نہیں رہ سکتا۔ مریم نواز کی خاموشی نے بظاہر ان کو بطور سیاست دان زیادہ متاثر نہیں کیا۔ اس نے گھر میں بیٹھ کر وہ سیاسی وزن حاصل کیا جو پرائم منسٹر ہاؤس میں رہ کر ان کی قسمت میں نہیں تھا۔

اگر شہباز شریف اپنی سیاست اور جماعت کو حالات کے تقاضوں سے متقاضی کر دیتے تو یقینا مریم نواز کا اثر و رسوخ نواز شریف کی غیر موجودگی میں چند ایک سیاسی جیالوں تک محدود ہو جاتا۔ مگر نہ جانے کیوں شہباز شریف عملی سیاسی کی ضروریات سے اس حد تک ناواقف ہو چکے ہیں کہ ان کے ہر جملے میں سے سیاسی سمجھوتے کی بو آتی ہے۔ وہ جیل سے باہر رہ کر بھی ایک قیدی جتنے بےاثر اور بےعمل ہیں۔

اس بےمقامی نے جو خلا پیدا کیا ہے وہ مریم نواز کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ اسی لیے مریم نواز کے نیب کے دفتر کے سامنے چار پانچ بیانات اور چھوٹی سی پریس کانفرنس ان تمام واقعات سے بھاری نظر آتی ہے جن میں شہباز شریف بطور قائد حزب اختلاف و پارٹی قائد کے شامل ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ سمجھنا کہ پریس کانفرنس یا پتھراؤ کسی بڑے سیاسی معرکے کا پیش خیمہ ثابت ہو گا خوش فہمی پر مبنی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اس وقت ایک ایسے سیاسی جمود کا شکار ہے جس کو توڑنے کے لیے طویل المدت پلاننگ اور اندرونی اتحاد کی ضرورت ہے۔ حکومت یا انتظامیہ کے ہتھکنڈوں کے ردعمل میں پیدا ہونے والی صورت حال وقتی خبریں تو بنوا سکتی ہے مگر یہاں سے پاکستان میں سیاسی ماحول کو تبدیل کرنے والی کوئی ایسی شاخ نہیں پھوٹ سکتی جس کو دیکھ کر سیاسی کارکنان حوصلہ پکڑیں۔

اور ویسے بھی معاملہ صرف احتجاج کا نہیں نہ ہی اعتراض کا ہے۔ ملے جلے انداز سے احتجاج و اعتراض کافی مقدار میں موجود ہے۔ ہر جماعت اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ پاکستان عوامی نیشنل پارٹی کی پریس ریلیزز کو پڑھیں تو ان میں جملوں کے اتنے حملے موجود ہیں کہ اس نظام کے چلانے والوں کی ٹانگیں کانپ جانی چاہییں۔ کاٹ دار جملوں میں مولانا فضل الرحمان کسی سے پیچھے نہیں۔ اب تو بلاول بھٹو زرداری بھی خواجہ آصف کی طرز پر بیانات دیتے ہیں۔ لہذا الفاظ اور آواز کے مجاہدوں کی کمی نہیں۔ عملی سیاست میں قدم بڑھانے والے فی الحال ناپید ہیں۔

ایک ایسی اپوزیشن جو کل جماعتی کانفرنس کروانے کی اہل نہیں ہے ملک میں عملی تبدیلیوں کی راہ کیسے ہموار کر سکتی ہے؟ اس سیاسی نکھٹو پن کے پس منظر میں نیب کے دفتر کے سامنے ہونے والے واقعات وقتی طور پر جذبات کے ابال میں اضافہ تو کر سکتے ہیں لیکن ن لیگ کو وہ آکسیجن فراہم نہیں کر سکتے جو موجودہ حبس میں سانس لینا آسان بنا دے۔

ن لیگ کے ممبران دوسری جماعتوں کے کارکنان کی طرح فی الحال اپنے تمام ٹورنامنٹ سوشل میڈیا کے میدان میں ہی کھیل کر گزارا کریں۔ ان کی ٹیمیں تو ابھی اپنے ہوٹل کے کمروں سے ہی نہیں نکلیں۔ سٹیڈیم میں جا کر کھیلنا تو دور کی بات ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ