چینی ریسٹورنٹ نے گاہکوں کا وزن کرنے پر معافی مانگ لی

چین کے وسطی شہر چینگ شا میں واقع اس بیف ریسٹورنٹ میں گاہکوں کو وزن کروانے کے لیے ایک سکیل پر کھڑا ہونے کا کہا جاتا تھا جس کے بعد ایک ایپ سکین کے ذریعے ان کے وزن کی بنیاد پر مخصوص کیلوریز والے پسندیدہ کھانے کا تعین کیا جاتا تھا۔

ریسٹورنٹ کی جانب سے جمعے کو گاہکوں کا وزن جانچنے کی پالیسی کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کڑی تنقید شروع ہو گئی تھی۔ (تصویر: اے ایف پی)

چین کے ایک ریسٹورنٹ نے اپنے گاہکوں سے داخلے سے پہلے ان کے وزن کی پیمائش پر معذرت کر لی ہے۔

ریسٹورنٹ نے یہ معافی عوام کی جانب شدید رد عمل سامنے آنے کے بعد مانگی ہے۔ ریسٹورنٹ کی جانب سے یہ عمل خوراک ضائع کرنے کے خلاف چلائی جانے والی قومی مہم پر عملدرآمد کے لیے کیا جا رہا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے وسطی شہر چینگ شا میں واقع اس بیف ریسٹورنٹ کی جانب سے جمعے کو گاہکوں کا وزن جانچنے کی پالیسی کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کڑی تنقید شروع ہو گئی۔

چینی ریاستی نیوز ایجنسی کے مطابق ریسٹورنٹ کی جانب سے آنے والے گاہکوں کو وزن کروانے کے لیے ایک سکیل پر کھڑا ہونے کا کہا جاتا تھا جس کے بعد ایک ایپ سکین کے ذریعے ان کے وزن کی بنیاد پر مخصوص کیلوریز والے پسندیدہ کھانے کا تعین کیا جاتا تھا۔

گذشتہ ہفتے چینی صدر شی جنگ پنگ نے قوم پر کھانا ضائع نہ کرنے کے لیے زور دیا تھا جس کی وجہ کرونا (کوروبا) وائرس کی وبا اور سیلاب کی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ تھا۔

جس کے بعد علاقائی کیٹرنگ گروپس کی جانب سے گاہکوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ میز پر موجود افراد کی تعداد سے ایک ڈش کم آرڈر کریں تاکہ کھانے کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیف ریسٹورنٹ میں علامتوں (Signs) کے ذریعے 'احتیاط سے کھائیں اور خالی پلیٹس کو فروغ دیں' کے الفاظ درج کیے گئے تھے، جس کے خلاف چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ویبو' پر چلائے جانے والے ہیش ٹیگ میں 30 کروڑ سے زائد افراد نے تبصرے کیے۔

ریسٹورنٹ نے خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کی اپنی کوشش کا غلط مطلب نکالنے پر 'معذرت' بھی کی ہے۔

ریسٹورنٹ کی جانب سے جاری کیے گئے معذرتی بیان میں کہا گیا کہ 'ہماری نیت کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کی تھی۔ ہم نے اپنے گاہکوں کو وزن کروانے پر مجبور نہیں کیا تھا۔'

چینی ریاستی میڈیا نے بھی زیادہ کھانے پر مبنی وائرل ویڈیوز کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے جبکہ لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز نے بھی زیادہ کھانے والی ویڈیوز کو ہٹانے کا وعدہ کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا