لاہور: سرکاری ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں کی سہولت ختم

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے علاج معالجے کے بلند و بالا دعووں کے برعکس لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں پر فیس عائد کر دی گئی ہے۔

تصویر: اے ایف پی

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جہاں غریب عوام کو مفت علاج کی فراہمی کے لیے انصاف صحت کارڈ کا اجرا کر رہی ہے، وہیں پنجاب کے صوبائی دارلحکومت لاہور کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت ٹیسٹوں پر فیس عائد کر دی گئی ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کے مطابق ہیپاٹائٹس کی تشخیص کے ٹیسٹ ایل ایف ٹی، آر ایف ٹی، خون کے ٹیسٹ سی بی سی، لپرڈپروفائل ٹیسٹ تھلین سکین جو کہ پہلے مفت کرائے جا سکتے تھے ان پر اب پانچ سو سے 1200 روپے تک فیس عائد کر دی گئی ہے جبکہ ایکسرے بھی تین سو روپے میں کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ جن ٹیسٹوں کی پہلے سے فیس لی جاتی تھی ان کی فیسوں میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔ جیسے کہ ایم آر آئی ٹیسٹ جو پہلے 2500 روپے میں ہوتا تھا اس کی فیس میں آٹھ سو سے 1200 روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ سی ٹی سکین جو پہلے آٹھ سو میں ہوتا تھا وہ اب 1200روپے میں ہوتا ہے۔

علاج معالجے کے لیے پیسے نہ ہونے پر سینٹرل پنجاب کے مختلف اضلاع سے ہزاروں غریب مریض لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں پہنچتے ہیں۔ اس کے علاوہ لاہور شہر کی آبادی سوا کروڑ سے زائد ہونے کے باعث یہاں موجود سات بڑے سرکاری ہسپتال مریضوں کی تعداد کے مقابلہ میں کم ہیں۔

موجودہ حکمران جماعت نے اقتدار میں آنے سے پہلے غریبوں کو سستے اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے تاہم اب صورتحال یہ ہے کہ سابق دور حکومت میں ہسپتالوں میں مفت پارکنگ کی سہولت بھی واپس لے کر ٹوکن فیس لگا دی گئی ہے۔

پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے انڈپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی قیمتوں میں اضافے کو ہسپتالوں کو نظام چلانے کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بڑھنے پر ہوا کیونکہ بیشتر غیر ملکی ادویات کی ادائیگی ڈالروں میں کی جاتی ہے، جو مقامی کمپنیاں ہیں انہیں بیرون ملک سے ادویات کے فارمولے خریدنا پڑتے ہیں تاہم بلا وجہ اضافہ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ 

ادویات ساز کمپنیوں نے بھی حالات سازگار جانتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں ازخود اضافہ کر دیا ہے اور تقریباً تمام ادویات کی قیمتوں میں بغیر کسی اجازت کے چار سو روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔

امراض قلب کی ہر معیار کی ادویات میں 350 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ ذیابیطس کو کنٹرول کرنے والی دواؤں کی قیمتوں میں 272 سے 460 روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح گلے کے امراض کی دوا ایتھروسین کی قیمت 548 سے بڑھا کر 921 روپے کر دی گئی ہے،  سردرد کی صورت میں عام طور پر استعمال کی جانے والی دوا ڈسپرین کی قیمت میں 27 روپے فی پیکٹ کا اضافہ ہوا ہے۔

ادویات کی قیمتوں میں اس اضافے کے خلاف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کارروائی کرنے کا اعلان تو کیا لیکن تاحال کوئی خاص ایکشن نہیں دیکھا گیا ہے۔

لاہور کے ہسپتالوں میں علاج کے لیے آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ جب سے موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے علاج، طبی ٹیسٹوں اور یہاں تک کے ادویات کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے جیسے طبی سہولتوں کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کیا جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت