’لٹو چلے گا تو ہمارا روزگار بھی چلے گا‘

لٹو بنانے کے فن کو زندہ رکھنے والے محمد عظیم کا کہنا ہے کہ لٹو ہماری ثقافت اور ورثہ ہے اور اسے زندہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ بچپن میں اپنے گھر کے باہر گلی میں لٹو کھیلتے ہوئے بڑے ہوئے ہوں گے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس روایت کو بھی ختم ہوتے دیکھا۔

 تاہم راولپنڈی کے محمد عظیم نے اس چھوٹے سے کھلونے کو اب بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ عظیم ان کچھ ہنر مندوں میں سے ایک ہیں جو لٹو بناتے ہیں۔

ان کے آباواجداد کی وجہ سے راولپنڈی کا محلہ لٹو محلے کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں آج سے چند سالوں پہلے درجنوں لٹوؤں کی دکانیں تھیں اور اس فن سے وابستہ کاریگر کام کرتے تھے۔ لیکن اب اس محلے میں عظیم اپنے آبا واجداد کے اس فن کو زندہ رکھے ہوئے واحد کاریگر ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عظیم کا کہنا ہے کہ پہلے ہاتھ سے لٹو بنتے تھے مگر اب مشینیں آ گئی ہیں جس سے کام تو آسان ہوگیا ہے لیکن دور حاضر میں نہ صرف لٹو سے کھیلنے کا شوق کم ہو گیا ہے بلکہ لٹو بنانے والے بھی گنے چنے رہ گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے یہ سادہ بنتا تھا لیکن اب خوبصورتی کے لیے ان پر رنگ کیا جاتا ہے۔ نیچے سپیشل پِن لگاتے ہیں اور وزن بڑھانے کے لیے اس کے اوپر لوہے کا کڑھا چڑھاتے ہیں جس سے وزن زیادہ ہو جاتا ہے اور زیادہ دیر چلتا ہے۔

عظیم کا کہنا تھا کہ سکول سے چھٹیوں میں وہ بچوں کو لٹو بنانا اور چلانا سکھاتے ہیں اور یہاں پر ٹورنامنٹ بھی کراتے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا: 'یہ ہماری ثقافت ہے۔ یہ ہمارے پاکستان کا ورثہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس کو زندہ رکھا جائے۔'

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا