شاہ محمود قریشی جواب دیں

شاہ محمود قریشی نے گپکار ڈیکلریشن کو اہم قرار دے کر تصدیق کر دی ہے کہ پانچ اگست، 2019 تک جو جموں و کشمیر کی پوزیشن تھی وہ پاکستان نے منظور کی ہوئی ہے، یعنی ریاست بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کشمیر تنازعے کا تاریخی علم نہیں یا پھر پاکستان کی پالیسی تبدیل ہوگئی ہے (اے ایف پی)

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی قومی دھارے سے وابستہ سیاسی جماعتوں نے چند روز پہلے وہ اعلامیہ جاری کیا جو گذشتہ برس چار اگست کو ایک اجلاس کے بعد جاری ہونا تھا۔

اس وقت ان جماعتوں کی قیادت کو آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کو ختم کرنے کے بھارتی حکومت کے منصوبے کا علم ہوا تھا لیکن حکومت نے انہیں اعلامیہ جاری کرنے کی مہلت ہی نہیں دی۔ ان سب لیڈروں کو گرفتار کر کے محصور کر دیا تھا۔

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

بیشتر رہنماؤں کو تقریباً چھ ماہ کے بعد رہا کر دیا گیا جبکہ محبوبہ مفتی اب بھی نظر بند ہیں۔ ایک سال بعد اس اعلامیے پر بھارت اور پاکستان کے مختلف حلقوں نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے لیکن جو بیان پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دیا اس نے ناصرف کشمیریوں کو حیران و پریشان کر دیا بلکہ بیشتر جماعتوں کو ناراض بھی جو الحاق پاکستان کا درد رکھنے کی پاداش میں حکومت بھارت کی اذیتوں سے گذشتہ سات دہائیوں سے گزر رہی ہیں۔

کشمیر کے اکثر عوامی حلقوں نے مرکزی دھارے کے اس اعلامیے کو غیر اہم قرار دیا اور کہا کہ مین سٹریم قیادت اپنی ساکھ بحال کرنے کی دوبارہ کوشش کرنے لگی ہے۔ بقول ایک سینیئر ایڈیٹر ’ان میں سے بیشتر لیڈروں نے رہائی کے بدلے میں تحریری طور پر وعدہ کیا ہے کہ وہ پانچ اگست کے فیصلے پر بات کرنے کی بجائے اب صرف ریاست کی بحالی کا مطالبہ کریں گے۔ وزیراعظم مودی نے پہلے ہی کہا ہے کہ یونین ٹریٹری بنانے کا فیصلہ وقت آنے پر واپس لیا جائے گا جس کا ذکر انہوں نے 15 اگست کی تقریر میں دہرایا۔

'یہ لیڈر ایک اور ڈراما کر رہے ہیں جس میں حکومت بھارت کی مرضی شامل ہے۔ پہلے آزادی کا مطالبہ تھا پھر اندرونی خود مختاری، پھر سیلف رول اور اب ریاست کی بحالی۔ بھارت کو پتہ ہے کب اور کیسے عوام کو کیا فیڈ کرنا ہے اور جس کے لیے مین سٹریم قیادت ہمیشہ تیار رہتی ہے۔‘

شاہ محمود قریشی کو شاید بتایا گیا ہے کہ فاروق عبداللہ اور دوسرے لیڈر قومی دھارے سے نکل کر حریت کا موقف اختیار کریں گے اور بھارت کے خلاف متحد ہوکر مزاحمتی مہم شروع کریں گے۔ انہیں شاید یہ نہیں بتایا گیا کہ ان لیڈروں نے اس بات کی بار بار تصدیق کر دی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ سمجھ کر انتخابی عمل پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ حکومت انتخابات کرانے کا اشارہ دے چکی ہے۔

آزادی پسند حلقے اس بات پر ماتم کر رہے ہیں کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں کشمیر تنازعے کا تاریخی علم ہی نہیں یا پھر پاکستان کی پالیسی تبدیل ہوگئی ہے کہ جس کا بار بار اشارہ ملنے کے باوجود کشمیری اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تین دہائیوں سے پاکستان میں رہنے والے ایک حریت رہنما کہتے ہیں کہ پاکستان تو شملہ معاہدے کے بعد صرف اپنا موقف بدلتا رہا ہے جس کا ادراک ہم سب کو ہے۔ ہم پاکستان کے ممنون ہیں کہ وہ ترکی اور ملایشیا کی طرح ہماری تحریک کی حمایت کرتا ہے۔ اس نے خود اس تنازعے میں بحیثیت ایک فریق کے کبھی تصور نہیں کیا اور وہ یہ کہنے کی جرات بھی نہیں کرتا ہے کہ وہ ایک فریق کے طور پر اس لڑائی میں شامل ہے۔

انہوں نے اپنی برہمی کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ ’اگر شاہ محمود قریشی کشمیر کی متنازع تاریخ اور ہماری جدوجہد سے غافل ہیں تو کیا ان کو کشمیر پر بات کرنے کا حق ہے؟ کیا میرے بیٹے نے آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے اپنی زندگی قربان کی یا 30 سال کی میری جلا وطنی کی زندگی ان کے لیے غیر اہم ہے؟‘

شاہ محمود قریشی نے گپکار ڈیکلریشن کو اہم قرار دینے سے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ پانچ اگست 2019 تک جو جموں و کشمیر کی پوزیشن تھی وہ پاکستان نے منظور کی ہوئی ہے یعنی ریاست بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کو آئین ہند کے تحت ایک خصوصی پوزیشن دی گئی تھی جس کے بعد کشمیر کی آزادی کا سوال اٹھانا بےمعنی ہے۔

اگر پاکستان کا موقف ایسا ہے تو قریشی کو فی سبیل اللہ عوام کی تشفی کے لیے بتانا چاہیے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کا غم خوار بننے کا جو اعلان کیا تھا کیا وہ محض چار اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی تک محدود ہے اور پھر اقوم متحدہ میں دنیا کی ضمیر کو جگانے کا محض ایک ڈراما تھا؟

کیا پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ کشمیری قوم پر واضح کر دے کہ وہ ان کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ ان کو بھارت میں رہ کر آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ اس طرح کم از کم ہزاروں نہتے بچوں اور نوجوانوں کو جنونی ہو کر 10 لاکھ فوج کے نرغے میں آنے سے بچایا جاسکتا ہے۔

جب شاہ محمود قریشی نے چند ہفتے پہلے کشمیر کے تئیں او آئی سی کی سرد مہری کا ذکر کیا تو کشمیری سمجھ گئے تھے کہ انہیں کشمیری عوام کا احساس درد ستا رہا ہے لیکن اگر اس درد کی تپش گپکار ڈیکلریشن پر ختم ہوتی ہے تو اس کا ادراک عوام کو ہونا بہت ضروری ہے تاکہ کشمیریوں کو حقیقت سمجھنے اور اس کو ماننے کی جرات پیدا کرنا ہوگی اور اپنی لڑائی لڑنے کی طاقت بھی۔

گپکار ڈیکلریشن کی حمایت سے یہ جتایا گیا کہ پاکستان نے آزادی پسند قیادت کی پالیسیوں کی نفی کر دی جو اس خطے کی آزادی کے لیے یا تو عرصہ دراز سے جیلوں میں سڑ رہے ہیں یا گھروں میں دس، دس برسوں سے محصور ہیں یا جو تین دہائیوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں اکثر پاکستان میں کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ شاید قریشی صاحب کو اس بات کا علم نہیں ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ خدشہ پہلے ہی ظاہر کیا گیا ہے کہ آر پار حریت کانفرنس کے اندر ایک طلاطم کی صورت حال ہے۔ جہاں وادی میں ان کو سرے سے جیسے غائب کر دیا گیا ہے وہیں بیشتر نے پاکستان کی بعض پالیسیوں پر اعتراض جتایا ہے لیکن اس کا مطلب کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اگر بھارت نے بھارت نواز کشمیری قیادت کو دھتکار دیا ہے؟ حریت کو وہ پہلے ہی ختم کرچکی ہے تو کیا پاکستان بھارت نواز کشمیری قیادت کو گود لے کر حریت سے چھٹکارا حاصل کر نے کی کوشش میں ہے، کیا عالمی برادری کے مشورے کے ساتھ ریاست کی بحالی کے مطالبے تک ہی کشمیر کا تنازع محدود کر دیا گیا ہے اور کیا پاکستان اس کو ماننے پر تیار ہوگیا ہے؟؟؟

ان سوالوں کے جواب شاہ محمود قریشی کو دینا ہوں گے اور اس کا جواب بھی دینا ہوگا کہ کیا پاکستان کی کشمیر پالیسی اب پانچ اگست، 2019 پر مرکوز ہوگئی ہے کیونکہ اس خطے کی ڈیڑھ کروڑ آبادی کو اگر اس وقت بھی حقیقی موقف سے آگاہ نہ کیا گیا تو یہ اس قوم کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہوگی جس میں اب مزید چھل کپٹ والی پالیسیاں سہنے کی طاقت نہیں رہی۔

لندن میں ایک تھنک ٹینک سے وابستہ کشمیری دانش ور سعید حفیظ شاہ محمود قریشی کے بیان کے پس منظر میں کہتے ہیں کہ ’بھارت کشمیری تشخص کو ختم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ پاکستان کی یوٹرن پالیسیوں نے بےیقینی کی فضا قائم کی ہے ایسے میں کشمیری متحد نہیں ہوتےاور جدوجہد چلانے کی تہذیب نہیں سیکھتے تو کوئی معجزہ ہی ہوگا جو اس قوم کو مٹنے سے بچا سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ