پاکستان میں حالیہ بارشوں کے فوائد کیا ہو سکتے ہیں؟

ابتدا میں محکمہ موسمیات نے درمیانے درجے کی بارشوں کی پیشں گوئیاں کیں۔ تاہم اگست کے تیسرے ہفتے میں بارشوں کے سلسلوں میں شدت آنے لگی۔ اور اب تک ملک بھر میں ریکارڈ بارشیں برس چکی ہیں۔ 

(فائل فوٹو: اے ایف پی )

بارش کو نعمت خداوندی کہا جاتا ہے۔ تاہم آسمان سے برستے پانی کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو یہ زمین کے باسیوں کے لیے کئی ایک زحمتوں کا باعث بن جاتا ہے۔

کچھ اسی طرح کی صورت حال آج کل موسم برسات میں پاکستان میں دیکھنے کو مل رہی ہے جہاں تقریباً پورا ملک شدید بارشوں کی لپیٹ میں ہے اور کم از کم دو صوبوں سندھ اور بلوچستان میں بارش برسنے کے سو سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں۔

آسمان برسا اور خوب برسا اور زمین پر رہنے والوں کے لیے مشکلات، مسائل اور نقصانات کی وجہ بنا۔ شہری علاقوں اور خصوصاً بڑے شہروں میں نقصانات کا حجم زیادہ بتایا جا رہا ہے۔

پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ سے اموات ہوئیں اور رہائشی مکانات اور دوسری عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ جبکہ ملک کے میدانی حصوں میں کئی نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔

بارش کا پانی گھروں میں گھس گیا۔ سڑکیں نہریں بن گئیں۔ گاڑیاں ڈوب کر بے کار ہو گئیں۔ قیمتی انسانی جانوں کا ناقابل واپسی نقصان بھی ہوا۔

حالیہ بارشوں سے ہونے والے نقصانات کا دیگر احوال تو آپ انڈپینڈنٹ اردو کے صفحات پر یقیناً پڑھ اور دیکھ رہے ہوں گے۔ اس تحریر میں ہم آپ کو حالیہ بارشوں کے فوائد سے آگاہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان میں حالیہ مون سون کی بارشوں میں ماہ رواں کے تقریباً دوسرے ہفتے میں تیزی آئی۔ جب ملک کے اکثر حصوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

ابتدا میں محکمہ موسمیات نے درمیانے درجے کی بارشوں کی پیشں گوئیاں کیں۔ تاہم اگست کے تیسرے ہفتے میں بارشوں کے سلسلوں میں شدت آنے لگی۔ اور اس تحریر کے قلم بند ہونے تک ملک بھر میں ریکارڈ بارشیں برس چکی ہیں۔ 

اس مون سون میں زیادہ بارشوں کے باعث پاکستان کی سرزمین کو بہت بڑی مقدار میں پانی حاصل ہوا جو کئی حوالوں سے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔

ڈیم لبالب

زیادہ بارشوں کی وجہ سے پاکستان کے دریاوں میں پانی کی مقدار بڑھ گئی ہے۔ جس کے باعث دریاوں پر بنے ڈیموں میں پانی زیادہ آ رہا ہے۔  بلکہ اکثر ڈیموں کی جھیلیں لبا لب بھر گئی ہیں۔ 

انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم کی جھیل میں پانی کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 1392 فٹ ہے۔ جبکہ جمعے کی شام اس جھیل میں پانی کی سطح 1550 فٹ ریکارڈ کی گئی۔

اسی طرح منگلا ڈیم کی جھیل میں پانی کی سطح 1050 فٹ کے مقابلہ میں 1242 فٹ تک پہنچ چکی ہے۔

اسلام آباد کو پانی فراہم کرنے والے سملی ڈیم اور کراچی اور بلوچستان کے لیے پانی کا ذریعہ حب ڈیم میں سطح آب خطرناک حد تک بڑھنے کے بعد دونوں کے سپل ویز کھولے گئے۔

اسی طرح بیراجوں اور دریاوں میں مختلف مقامات پر پانی کا اخراج معمول سے بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

پاکستان میں موجود سینکڑوں چھوٹے بڑے ڈیموں کی جھیلوں میں پانی ذخیرہ کیا جاتا ہے۔ جو پینے کے علاوہ آبپاشی اور توانائی کے حصول کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ڈیموں کی جھیلوں کے بھر جانے کا فائدہ یہ ہو گا کہ اگلی فصل کے لیے ملک میں پانی کافی مقدار میں موجود ہو گا اور بجلی کی پیداوار بھی بلا تسلسل جاری رہ سکے گی۔

اسی طرح پینے کا پانی فراہم کرنے والے ڈیموں پر انحصار کرنے والے علاقوں میں آنے والے لمبے عرصے تک پانی کی قلت نہیں ہو گی۔

ارسا کے ڈائرکٹر آپریشنز خالد رانا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ زیادہ بارشوں کے نقصانات کم کرنے کا واحد طریقہ مزید ڈیموں کی تعمیر ہے، جتنے زیادہ ڈیم ہوں گے بارشوں اور سیلابوں سے نقصانات کم رہے گے۔

مزید ڈیموں کی تعمیر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کے ذخائر کم ہونے کے باعث پانی سمندر میں گر کر ضائع ہو رہا ہے۔

فصلوں کو فائدہ

بارشوں سے اکثر کھڑی فصلوں خصوصاً کپاس اور پھلوں کے باغات کو نقصان پہنچا ہے۔ تاہم چاول کی فصلوں کے لیے زیادہ بارشیں مفید ثابت ہو رہی ہیں۔

پنجاب کے محکمہ زراعت کے سینئیر اہلکار شمعون جاوید نے بتایا کہ صوبے میں زیادہ بارشیں فیصل آباد، گوجرانوالہ اور لاہور ڈویژنز میں ہوئی ہیں جہاں چاول کاشت کیا جاتا ہے۔

انہوں نے حالیہ زیادہ بارشوں کو پنجاب میں چاول کی فصلوں کے لیے مفید قرار دیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ چاول کی فصل کو بہت زیادہ پانی درکار ہوتا ہے۔

اسی طرح شمعون جاوید نے کہا کہ ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد اور بہاولپور ڈویژنز میں گنے کی فصل کو بھی ان بارشوں سے فائدہ ہو گا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ زیادہ بارشوں کے باعث چاول کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔

زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ زیادہ بارشوں سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی گنے اور چاول کی فصلوں کو فائدہ ہو گا۔

شمعون جاوید کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ زیادہ اور تیز بارش باغات میں درختوں پر لگے پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ تاہم ان بارشوں سے حاصل ہونے والا زیادہ پانی پھل دار درختوں کے لیے مفید بھی ثابت ہوتا ہے اور پیداوار میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

بلوچستان کے ضلع پشین میں محکمہ زراعت کے سینئیر اہلکار اکرم بلوچ کا کہنا تھا: 'زیادہ بارشوں کے نقصانات تو ہوتے ہیں۔ لیکن فوائد بھی اپنی جگہ ہیں۔'

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں زمینداروں کو ٹیوب ویل سے آبپاشی کی صورت میں دو ہزار روپے ایک گھنٹہ کا خرچ کرنا پڑتا ہے۔ جبکہ زیادہ بارش کی صورت میں بغیر ٹیوب ویل کے آبپاشی ہو جاتی ہے۔ اور زمیندار کا خرچہ ایک سو روپے فی گھنٹہ ہو جاتا ہے۔

اکرم بلوچ نے کہا کہ نقصانات کے باوجود اکثر زمیندار زیادہ اور تیز بارشوں کی دعائیں کرتے ہیں۔

زمین  ہو گی زرخیز

ماہرین کے مطابق پہاڑوں سے آنے والا بارش کا پانی اپنے ساتھ مٹی لے کر آتا ہے جو ڈھلوانوں پر نہیں رکتا۔ تاہم میدانی علاقوں میں پہنچ کر دریاوں میں پانی کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔ اور زیادہ بارشوں کی صورت میں پانی کے ساتھ یہ مٹی بھی سیلاب کی شکل میں دریاوں کے کناروں سے باہر نکل آتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کچھ عرصے بعد پانی یا تو بہہ جاتا ہے اور یا خشک ہو جاتا ہے۔ لیکن مٹی کا بڑا حصہ زمین پر ہی رہ جاتا ہے۔ اس مٹی کو سلٹ اور اس عمل کو سلٹنگ کہتے ہیں۔

اکرم بلوچ کا کہنا تھا کہ پہاڑوں سے آنے والی سلٹ میں پودوں کے لیے کئی مفید غذائی اجزا پائے جاتے ہیں جس سے زمین کی زرخیزی میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن میدانی علاقوں میں پانی سیلاب کی شکل میں دریاوں سے باہر آیا ہے وہاں آئندہ کاشت کی جانے والی فصلوں کو کافی فائدہ ہو گا۔ فصل کے پودے پھلے پھولیں گے اور یہ عمل زرعی پیداوار میں یقینی اضافہ کا باعث بنے گا۔

موسم ہوا خوشگوار

بارشیں موسم میں ایک خوشگوار تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ درجہ حرارت کم ہوتا ہے۔ درختوں اور دوسرے پودوں کے دھل جانے سے سبزہ مزید خوشنما ہو جاتا ہے۔

حالیہ بارشوں کے شروع ہونے سے پہلے پاکستان کے طول و عرض میں شدید گرمی پڑ رہی تھی۔

جولائی اور اگست کے شروع تک ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت چالیس ڈگری سیلسیس کو چھوتا رہا۔ کئی علاقوں میں پارہ پچاس کے ہندسے کے قریب بھی پہنچا۔

تاہم بارشوں کے شروع ہوتے ہی ملک بھر میں پارہ تیزی سے گرتا نظر آیا۔ گذشتہ تقریباً ایک ہفتے سے مختلف شہروں میں درجہ حرارت تیس ڈگری سیلسیس سے کم نشان پر کھڑا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات