سعودی عرب، کشمیر اور پاکستان

کشمیر کے معاملے پر سعودی عرب اور پاکستان کے تصورات اور امیدیں یکساں ہیں۔

(اے ایف پی)

اگست 2019 کے بعد سے مسئلۂ کشمیر کی حمایت میں او آئی سی کی رابطہ کمیٹی کے تین اجلاس ہو چکے ہیں۔ ان میں سے دو اجلاس وزرائے خارجہ کی سطح کے تھے جن میں کشمیریوں کی حمایت میں طاقتور بیانات دیے گئے۔

او آئی سی کی قائم کردہ ایک اور کمیٹی نے اپنی توجہ مارے جانے والے کشمیری عسکریت پسندوں کے خاندانوں کی دیکھ بھال پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اس کمیٹی کا جدہ میں باقاعدگی سے اجلاس ہوتا ہے اور آخری اجلاس 13 جولائی 2020 کو ہوا تھا جس میں او آئی سی کے پاکستانی نمائندے رضوان شیخ نے بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں کمیٹی کے ارکان کے علاوہ دوسرے اداروں کے معزز ارکان بھی شامل تھے۔

اس تازہ ترین اجلاس کے دوران کونسل جنرل خالد مجید نے شرکا سے خطاب میں جدہ میں قائم شدہ کشمیر کمیٹی کو سراہا تھا کہ یہ ایک موثر ادارہ ہے جس نے کشمیر کے معاملے کو اجاگر کرنے اور اس کا دفاع کرنے میں موثر کردار ادا کیا ہے۔

سبھی جانتے ہیں کہ او آئی سی ایک خود مختار بین الاقوامی ادارہ ہے۔ اگرچہ اس کا صدر دفتر جدہ میں ہے لیکن اس کے سربراہان مختلف اسلامی ملکوں سے گردشی بنیادوں پر منتخب ہوتے رہتے ہیں، اور اس نے یقیناً کشمیری عوام کی حمایت میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

دسمبر 2019 میں سعودی عرب نے تجویز دی کہ مسلمان ملکوں کی پارلیمانوں کے سپیکروں کا اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ مسئلہ کشمیر پر بحث کی جا سکے۔

یہ تجویز سعودی شوریٰ کونسل کے سربراہ نے پیش کی تھی۔ اس تجویز کی اہمیت سے سبھی واقف ہیں کیوں کہ یہ پارلیمان اپنے اپنے عوام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پارلیمانی سپیکروں کے اجلاس کی تجویز سرکاری اقدامات کی حمایت کرتی ہے اور اس سے وسیع تر اسلامی سطح پر دوسرے امدادی اقدامات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم ریاض کو اس وقت حیرت ہوئی جب پاکستان نے یہ تجویز رد کر دی۔ اب تک اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

پاکستان مسلسل یہی زور دیتا رہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں اس وقت تک استحکام اور امن نہیں آ سکتا جب تک مسئلۂ کشمیر کا اطمینان بخش اور منصفانہ حل تلاش نہ کر لیا جائے جو اس تنازعے کے سبھی فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ پاکستان یہ بھی اعادہ کرتا ہے کہ اختلافات کو پرامن طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

اس معاملے میں سعودی عرب اور پاکستان کے تصورات اور امیدیں یکساں ہیں، اور سعودی عرب کی قیادت اور حکومت پاکستانی موقف کی حمایت میں بیانات دیتی اور مطالبات کرتی رہی ہیں جن کا ارتکاز کشمیر کے مسئلے کا سیاسی اور سفارتی ڈھونڈنے اور اقوامِ متحدہ کی قرارداوں کا نفاذ ہے۔

سعودی عرب کی تمام معاملات کے بارے میں پالیسیاں، بشمول مسئلۂ کشمیر، سیاسی اور سفارتی غور و فکر پر مبنی ہیں۔ پالیسی تشکیل دیتے وقت جذبات یا عوامیت پسند مطالبات کا عمل دخل نہیں ہوتا۔

سعودی قیادت اسلامی اور عالمی معاملات کو ذاتی مفادات یا مخصوص ایجنڈا کی ترویج کی کوششوں کو رد کرتی ہے۔ اس کے برعکس سعودی قیادت نے اپنے دوستوں اور بھائیوں کے مفادات کو ترجیح دی ہے۔ یہ وہ طریقۂ کار ہے جسے سعودی عرب نے کئی عشروں سے اختیار کر رکھا ہے، جس میں قول اور فعل ہمیشہ یکساں رہے ہیں۔  

نوٹ: ڈاکٹر محمد السلمی بین الاقوامی انسٹی ٹیوٹ فار ایرانین سٹڈیز کے سربراہ ہیں۔

--------------

یہ تحریر مصنف کے ذاتی خیالات پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر