افغان نائب صدر خود کش حملے میں بچ گئے

نائب صدر کے قریبی ذرائع کے مطابق خود کش بمبار نے ان کے قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ گھر سے اپنے دفتر کی جانب روانہ ہوئے۔

کابل میں بدھ کی صبح ایک خود کش دھماکے میں افغانستان کے نائب صدر امر اللہ صالح کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ حملے میں بال بال بچ گئے۔

خود کش حملے میں 10 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ نائب صدر کے ترجمان رضوان مراد کے مطابق 'امر اللہ صالح محفوظ ہیں اور انہیں نقصان پہنچانے کی دہشت گردانہ کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔'

نائب صدر کے قریبی ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خود کش بمبار نے ان کے قافلے کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ گھر سے اپنے دفتر کی جانب روانہ ہوئے۔ افغانستان میں نشریاتی ادارے طلوع نیوز کے مطابق صبح 7:30 کے قریب یہ دھماکہ کابل شہر کے علاقے تیمانی میں ہوا۔

محکمہ داخلہ کے ترجمان طارق آریان کے مطابق ابتدائی رپورٹس میں 10 افراد کی ہلاکت اور 12 سے زیادہ زخمیوں کی اطلاعات ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نائب صدر کے ذاتی محافظ بھی شامل ہیں۔ دھماکے کے بعد امر اللہ صالح نے افغانستان ٹیلی ویژن پر خصوصی طور گفتگو میں بتایا کہ وہ محفوظ ہیں اور ان کے ہاتھ پر معمولی چوٹ آئی ہے۔ ان کے بیٹے جو اس وقت ان کے ساتھ تھے، صالح نے ان کی سلامتی سے بھی آگاہ کیا، نیز انہوں نے ہلاک شدگان سے تعزیت اور دلی رنج کا اظہار کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دھماکے سے پاس میں موجود دکانوں اور گھروں کی کھڑکیاں ٹوٹ گئیں جب کہ گیس سلینڈر کی ایک دکان میں بھی آگ لگی جس سے کئی سلنڈر پھٹ گئے۔  طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اس دھماکے سے طالبان کا کوئی تعلق نہیں۔

امر اللہ صالح پر، جو طالبان کے نقاد رہے ہیں، گذشتہ سال صدارتی انتخابات سے پہلے بھی حملہ ہوا تھا جس میں وہ محفوظ رہے تھے۔ ایک خود کش بمبار نے کابل میں ان کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا جس میں  20 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوئے تھے۔

صالح افغان صدر اشرف غنی کے نائب ہیں، دوسرے نائب صدر سرور دانش ہیں۔ بدھ کا خود کش حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے بعد امن مذاکرات کا ایک اہم دور شروع ہونے جا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا