طالبان قیدیوں کی رہائی میں تیزی، امن مذاکرات کی راہ پھر ہموار

'پیر کے روز 200 قیدیوں کو افغان حکومت کی جانب سے رہا کیا جا چکا ہے۔ ان قیدیوں کے بدلے طالبان نے چار افغان کمانڈوز کو رہا کیا تھا جب کہ مزید کمانڈوز کو آج (بدھ) کے روز رہا کیا جائے گا۔'

(اے ایف پی)

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قیدیوں کے تبادلے پر موجودہ ڈیڈ لاک ختم ہو گیا جس سے کئی ماہ سے تعطل کے شکار بین الافغان مذاکرات میں پیش رفت کا بھی امکان ہے۔

طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ افغان حکام نے ان کے آخری چند سو جنگجوؤں کی رہائی کا عمل دوبارہ شروع کردیا ہے جسے امن مذاکرات کے آغاز کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

ان مذاکرات کا آغاز مارچ میں ہونا تھا تاہم فریقین کے درمیان کئی امور پر اختلافات، جن میں قیدیوں کے تبادلے پر ڈیڈ لاک سب سے بڑی رکاوٹ تھی، کے باعث یہ بار بار تعطل کا شکار ہوتے رہے تاہم اب صورت حال بدلتی نظر آ رہی ہے۔

طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے منگل کی شب اے ایف پی کو بتایا: ’ہمارے قیدیوں کو رہا کیا گیا ہے اور ہم اسے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھتے ہیں جس سے ملک میں انٹرا افغان مذاکرات کے آغاز کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔‘

ایک اور طالبان عہدیدار نے بتایا کہ پیر سے ہی 200 قیدیوں کو افغان حکومت کی جانب سے رہا کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے قیدیوں کے بدلے طالبان نے چار افغان کمانڈوز کو رہا کیا تھا جب کہ مزید کمانڈوز کو آج (بدھ) کے روز رہا کیا جائے گا۔

افغان حکومت کے ایک اعلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو تصدیق کی کہ پیر کو ’درجنوں‘ طالبان قیدیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا: ’باقی قیدیوں کو ایک دو روز میں رہا کردیا جائے گا۔‘

قندھار میں آزاد ہونے والے آٹھ طالبان قیدیوں کو مقامی میڈیا کے سامنے بھی پیش کیا گیا ہے۔

ان مذاکرات کا تعین فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان طے شدہ امن معاہدے میں بھی کیا گیا تھا تاکہ جنگ زدہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا سکے۔

اس سے قبل افغان حکومت آخری چار سو کے قریب طالبان قیدیوں کی رہائی کے اپنے ہی فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی تھی۔

کابل حکومت کا اصرار تھا کہ وہ باقی طالبان قیدیوں کو اس وقت تک رہا نہیں کریں گے جب تک طالبان مزید سرکاری فوجیوں کو رہا نہیں کرتے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے میں طالبان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ ایک ہزار سرکاری فوجی جوانوں کو رہا کریں گے جبکہ حکومت ان کے پانچ ہزار جنگجوؤں کو رہا کرے گی۔

لیکن کابل حکومت نے آخری 400 قیدیوں، جن کے بارے میں صدر اشرف غنی نے خود کہا تھا کہ وہ دنیا کے لیے خطرہ ہیں، کی رہائی کا عمل روک دیا تھا۔

9 اگست کو ممتاز افغان شخصیات پر مشتمل جرگے نے ان 400 قیدیوں کی رہائی کی منظوری دی جن میں بہت سے ایسے قیدی بھی شامل تھے جنہوں نے افغان اور غیر ملکیوں کے خلاف وحشیانہ حملے کیے تھے۔

فرانس اور نے آسٹریلیا نے ان طالبان کی رہائی کی مخالفت کی تھی کیونکہ اس فہرست میں افغانستان میں فرانسیسی اور آسٹریلین شہریوں اور فوجیوں کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے نام بھی شامل تھے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا وہ طالبان بھی پیر کو رہا ہونے والے قیدیوں میں شامل تھے یا نہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن نے امن مذاکرات کے آغاز کے لیے طالبان کے قید شدت پسندوں کی رہائی پر زور دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں جنگ ختم کرنے اور امریکی فوجیوں کو وطن واپس لانے کو اپنی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی ترجیح  قرار دی ہے۔

طالبان نے کہا ہے کہ وہ تمام 400 قیدیوں کی رہائی کے بعد ایک ہفتہ کے اندر امن مذاکرات شروع کرنے پر راضی ہیں اور انہوں نے اب تک مذاکرات میں تاخیر کا ذمہ دار غنی حکومت کو قرار دیا ہے۔

ادھر افغانستان کی وزارت برائے امن امور نے کہا کہ حکام نے مذاکرات جلد شروع ہونے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کی ہیں۔

وزارت کی ترجمان نازیہ انوری نے اے ایف پی کو بتایا: ’ان کوششوں کی وجہ سے ہم براہ راست مذاکرات کے آغاز کے قریب پہنچ گئے ہیں۔‘

اس دوران سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ٹوئٹر پر طالبان قیدیوں کی رہائی کو افغانستان میں امن کی سمت ایک ’مثبت قدم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی ہے۔

انہوں نے ٹویٹ میں کہا: ’مجھے امید ہے کہ انٹرا افغان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے اور دونوں فریقوں کے وفود بہت جلد ملاقات کریں گے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا