پشاور میں فائرنگ سے خواجہ سرا ہلاک، ساتھی زخمی 

دونوں خواجہ سرا ایک شادی کی تقریب کے بعد گاڑی میں سوار ہو رہے تھے کہ اچانک ان پر فائرنگ کر دی گئی۔

واقعے کا مقدمہ زخمی خواجہ سرا چاہت کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے (تصویر: چاہت فیس بک)

پولیس نے بتایا ہے کہ پشاور کے علاقے تہکال میں منگل کی رات نامعلوم افراد کی فائرنگ سے گل پانڑہ نامی خواجہ سرا ہلاک جبکہ ان کے ساتھی چاہت کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ترجمان پشاور پولیس محمد الیاس نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ واقعہ گذشتہ شب اس وقت پیش آیا جب یہ خواجہ سرا تہکال کے علاقے پلوسئی میں ایک شادی کی تقریب کے بعد گاڑی میں سوار ہو رہے تھے کہ اچانک ان پر فائرنگ کر دی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ سی سی پی او محمد علی گنڈاپور نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس پی کینٹ حسن جہانگیر کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے تاکہ ملزمان کو جلد گرفتار کیا جا سکے۔

الیاس نے بتایا کہ ’پولیس نے مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کر دیا ہے اور پروگرام کی فوٹیج سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔' واقعے کا مقدمہ زخمی خواجہ سرا چاہت کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق چاہت نے بتایا کہ وہ پروگرام ختم ہونے کے بعد واپسی کی تیاری کر رہے تھے کہ تماشائیوں میں کسی نے پستول سے فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں شکیل عرف گل پانڑہ ہلاک جبکہ وہ خود زخمی ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن تیمورکمال نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ خواجہ سراؤں کے خلاف تشدد کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی بہت سے خواجہ سراؤں کو قتل اور ان پر تشدد کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ کمال کے مطابق ایسے واقعات کی ناقص تفتیش اور کمزور ایف آئی آر کی وجہ سے ملزمان رہا ہو جاتے ہیں۔ 

انھوں نے بتایا کہ خواجہ سرا علیشا کا ایک کیس بہت زیادہ ہائی لائٹ ہو گیا تھا، صرف اس کیس میں ملزم کو سزا سنائی گئی ہے جبکہ دیگر جتنے بھی مقدمات درج ہوئے ہیں اس میں ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان