'دوستی کرو گی تو جاب ملے گی': چارسدہ کی 'چاکلیٹ' کا شکوہ

خواجہ سرا 'چاکلیٹ' ایم فل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اب پی ایچ ڈی اور پھر سی ایس ایس کی خواہش رکھتی ہیں تاکہ وہ کلاس ون افسر بن سکیں اور کوئی ان پر آوازیں نہ کس سکے۔

خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کے علاقے شبقدر سے تعلق رکھنے والی خواجہ سرا 'چاکلیٹ' ایم فل کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اب پی ایچ ڈی اور پھر سی ایس ایس کی خواہش رکھتی ہیں تاکہ وہ کلاس ون افسر بن سکیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: 'مجھے بچپن سے تعلیم کا شوق تھا اور اپنی کلاس میں پوزیشن لیتی تھی، لیکن سکول کے بچے میرے انداز اور گفتگو کی وجہ سے مجھے تنگ  کرتے تھے۔ نویں ارو دسویں کلاس میں مجھے محسوس ہوا کہ میں دوسرے لڑکوں سے مختلف  ہوں۔'

چاکلیٹ نے بتایا کہ وہ اپنے علاقے کے ایک بااثر اور تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ نام ان کی گرو نے رکھا تھا اور حقیقی نام انہوں نے اپنے خاندان والوں کے ڈر سے چھپا رکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میٹرک سے لے کر ماسٹرز کے فائنل ایئر تک تک ان کی تعلیم کا خرچہ ان کے والد نے اٹھایا لیکن جب ایم اے کے فائنل ایئر میں جیب خرچ بند ہوا اور اکاؤنٹ میں موجود پیسے بھی ختم ہوگئے تو انہوں نے مجبوراً اپنی خواجہ سرا دوستوں کے ساتھ ناچ گانے کے تقریبات میں جانا شروع کیا اور اس سے حاصل ہونے والی کمائی اپنی تعلیم پر خرچ کی۔

انہوں نے بتایا: 'اب میں نے ایک پرائیویٹ یونیوسٹی سے ایم فل تک تعلیم مکمل کرلی ہے جو کہ فائنانس اور اکاؤنٹنگ میں ہے۔'

خواجہ سرا چاکلیٹ نے بتایا کہ جب میں معاشی تنگ دستی کا شکار ہوئی تو نوکری کی تلاش میں ایک پرائیویٹ دفتر میں گئی لیکن انہوں نے مجھے خواجہ سرا ہونے کی وجہ سے ملازمت نہیں دی۔

انہوں نے بتایا کہ 'بعد میں میں نے نے محکمہ بلدیات میں ایک سرکاری پوسٹ کے لیے درخواست دی تھی اور ٹیسٹ بھی پاس کرلیا لیکن انٹرویو سے پہلے اسی دفتر سے انٹرویو لینے والے ایک افسر نے مجھے کال کی اور دوستی کرنے کی شرط پر نوکری دینے کا کہا، جس پر میں نے انکار کردیا۔'

چاکلیٹ کے مطابق 'اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں سی ایس ایس یا دوسرے امتحان دے کر گریڈ 17 یا اس طرح کی نوکری کروں گی تا کہ میرے پاس اختیارت ہوں اور لوگ مجھ پر آوازیں نہ کسیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میری خواہش ہے کہ میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کرلوں لیکن ملک میں  یونیورسٹی میں پڑھنے کے لیے میرے پاس وسائل نہیں ہیں لہذا کوشش ہے کہ سکالرشپ حاصل کرکے باہر ممالک سے اپنی تعیم کو مکمل کروں۔'

چاکلیٹ نے مزید کہا کہ 'اگر تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجھے اچھی نوکری ملی تو میں ناچ گانا چھوڑ دوں گی اور شی میل کی بہبود کے لیے کام کروں گی کیونکہ ہم لوگوں کو بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

گھر والے ناچ گانے اور دیگر سرگرمیوں کے خلاف ہیں؟

اس سوال کے جواب میں چاکلیٹ نے بتایا کہ 'کالج اور یونیورسٹی کے زمانے میں میری کچھ خواجہ سراؤں کے ساتھ دوستی تھی اور ان کے ڈیروں پر بھی جاتی تھی، لیکن میں نے خود کو کبھی شی میل تسلیم نہیں کیا تھا۔ مگر جب مجھے پیسوں کا مسئلہ شروع ہوا تو میں نے باقاعدگی کے ساتھ اپنے خواجہ سرا دوستوں کے ساتھ ناچ گانوں کے تقریبات میں شرکت شروع کی اور اس کے ذریعے پیسے کمانے لگی۔'

انہوں نے بتایا کہ 'ایک تقریب کے دوران میری ایک ویڈیو وائرل ہوئی جسے میرے بھائی نے سوشل میڈیا پر دیکھ لیا تو مجھے موبائل فون پر کال کی اور دھمکی دی کہ ان کاموں سے باز آجاؤ۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

چاکلیٹ کے مطابق :'خواجہ سراؤں کی اکثریت کم تعلیم یافتہ ہے جس کی وجہ سے یا تو وہ ناچ گانوں کی محفلوں کے ذریعے پیسے کماتے ہیں یا پھر سیکس ورکر کے حیثیت سے، لیکن سمجھ بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے کئی خواجہ سرا ایڈز اور دیگر بیماریوں کے بھی شکار ہوجاتے ہیں۔'

خواجہ سراؤں کے مسائل پر کام کرنے والے سوشل ورکر قمر نسیم نے انڈیپندنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے اندازے کے مطابق خیبرپختونخوا میں 40 ہزار سے زائد خواجہ سرا موجود ہیں لیکن 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق پورے ملک میں 10 ہزار 418 خواجہ سرا موجود ہیں جبکہ خیبرپختونخوا میں 913 اور قبائلی اضلاع میں 27 خواجہ سرا ظاہر کیے گئے۔

قمرنسیم نے بتایا کہ اس وقت ملک کے مختلف سرکاری اور غیرسرکاری اداروں میں بھی خواجہ سرا کام کر رہے ہیں اور اقوام متحدہ میں بھی خواجہ سرا کی نمائندہ موجود ہے۔ 'جو خواجہ سرا تعلیم حاصل کرتا ہے، ہم ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں لیکن یہاں پر خواجہ سرا اگر تعلیم حاصل کر بھی لیں تو انہیں نوکری کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے کیونکہ بہت سے شی میل اپنی شناخت کے ساتھ نوکری کرنا چاہتے ہیں۔'

انہوں نے بتایا کہ ٹرانسجینڈر پرسن پروٹیکشن رائٹ ایکٹ 2018 کا قانون تو پاس ہوا ہے لیکن اب تک اس قانون کے رولز آف بزنس نہیں بن سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی میری کہانی