بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل اکاؤنٹس سکیم کامیاب ہو گی؟

ایک طرف جہاں 'روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ' سکیم کی تعریفیں ہو رہی ہیں وہیں کچھ حلقے تحفظات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

یہ سکیم پاکستان کی سالانہ غیر ملکی ترسیلات میں پانچ سے سات ارب ڈالرز اضافے کا باعث بن سکتی ہے: بزنس مین اینڈ انٹلیکچول فورم کے سربراہ میاں زاہد حسین (اے ایف پی)

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے غرض سے 'روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ' کے نام سے مخصوص بینک اکاؤنٹس متعارف کروائے ہیں۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان کی اس سکیم کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی گھر بیٹھے پاکستان کے آٹھ کمرشل بینکوں میں روپیہ یا غیر ملکی کرنسی میں آن لائن اکاؤنٹ کھلوا سکیں گے۔ ماہرین اقتصادیات  کے مطابق اس سکیم کا مقصد دراصل ملک میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے اور حکومت اس میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے سرمائے سے فائدہ اٹھانےکا ارادہ رکھتی ہے۔

بزنس مین اینڈ انٹلیکچول فورم کے سربراہ میاں زاہد حسین کا کہنا ہے  کہ یہ سکیم پاکستان کی سالانہ غیر ملکی ترسیلات میں پانچ سے سات ارب ڈالرز اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر 'روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ 'سے متعلق ایک ویڈیو پیغام میں کہتے ہیں کہ حکومت جلد نیا پاکستان سرٹیفکیٹ متعارف کرائے گی، جس میں بیرون ملک مقیم پاکستانی پر کشش شرح منافعے پر پاکستانی روپے اور امریکی ڈالرز میں سرمایہ کر سکیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سکیم کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملکی سٹاک مارکیٹس تک بھی رسائی میسر کی جائے گی۔سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ کے مطابق: روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ہولڈرز پاکستان میں تعمیراتی شعبے میں بھی سرمایہ کر سکیں گے اور اس مقصد کے لیے انکم ٹیکس فائلر ہونا بھی ضروری نہیں ہو گا۔

سٹیٹ بینک کے ذرائع کے مطابق سکیم کا تقریباً ایک ہفتہ قبل سافٹ لانچ کیا گیا تھا اور اس عرصے میں بینکوں کو مجموعی طور پر تقریباً ڈھائی ہزار اکاؤنٹ کھلوانے کی درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سٹیٹ بینک ذرائع کا کہنا تھا کہ ایک ہفتے میں آٹھ مجاز بینکوں میں کم و بیش 850 روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کھل چکے ہیںجبکہ باقی درخواستوں کی پراسیسنگ جاری ہے۔

یاد رہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں اس وقت تقریبا ً90 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں جو ہر سال تقریباً تین ارب ڈالرز غیر ملکی ترسیلات کی شکل میں وطن بھیجتے ہیں۔ میاں زاہد حسین کا کہنا تھا کہ اس سکیم کے آنے کے بعد بیرون ملک پاکستانیوں کے پاس غیر قانونی طریقے سے رقوم بھیجنے کا جواز نہیں رہے گا۔

سکیم پر اعتراضات

اس سکیم پر اعتراضات بھی اٹھائے جا رہے ہیں، جن میں سب سے بڑا اعتراض تحریک انصاف حکومت کی ایسی سکیموں کے حوالے سے ماضی کی کارکردگی سے متعلق ہے۔ ماہر معاشیات سہیل احمد کا کہنا تھا کہ حکومت نے ماضی میں ڈالرز بانڈ اکاؤنٹ کے نام سے ایسی ہی ایک سکیم شروع کی تھی، تاہم اس کے خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گذشتہ سال پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کے نام سکیم شروع کی تھی، جس کے ذریعے حکومت صرف ڈھائی کروڑ ڈالرز اکٹھے کر پائی تھی۔اسی طرح حکومت نے چین میں پانڈا بانڈ متعارف کرانے کا پلان بھی بنایا تھا جو شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت دونوں سکیموں کو موثر طریقوں سے بیرونی دنیا میں متعارف کرانے میں ناکام رہی تھی۔ سہیل احمد کہتے ہیں کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کا تصور یقیناً  لاجواب ہے، تاہم دیکھنا ہو گا کہ اس پر عمل درآمد کس حد تک کامیاب رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ماضی میں بھی ایسی ہی سکیمیں لے کر آئی جو بہت زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہو پائیں۔ تاہم سٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان عابد قمر نے کہا کہ ماضی کے تجربات سے کافی کچھ سیکھا گیا ہے اور موجودہ سکیم میں پہلی غلطیوں کو نہیں دھرایا جائے گا۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سکیم میں منافع کی شرح کے زیادہ سلیب بنائے گئے ہیں تاکہ زیادہ آمدنی والوں کے علاوہ کم آمدنی رکھنے والے بیرون ملک پاکستانی بھی مستفید ہو سکیں۔

سٹیٹ بینک کی ویب سائٹ کے مطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹ تین ماہ، چھ ماہ، ایک سال، تین سال اور پانچ سال تک کے لیے خریدے جا سکتے ہیں اور منافع کی شرح ساڑھے پانچ سے 11 فیصد تک ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ پاکستانی روپیہ کے علاوہ ڈالرز میں بھی خریدے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اکاؤنٹ ہولڈر جب چاہے اپنی رقم نکال سکتا ہے اور اس سلسلے میں سٹیٹ بینک یا اس کا اپنا بینک  اعتراض نہیں کر سکے گا۔ عابد قمر نے مزید کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سکیم کے تحت بینک اکاؤنٹ کھلوانا بھی سہل بنا دیا گیا ہےاور اب گھر بیٹھے صرف انٹرنیٹ کے استعمال سے ہی اکاونٹ کھلوایا اور دوسرے کام کیے جا سکیں گے۔

میاں زاہد حسین نے بھی اتفاق کیا کہ سکیم کی مارکیٹنگ زیادہ موثر انداز میں کرنا ہو گی۔ جمعرات کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے لانچ ہوتے ہی سوشل میڈیا پر اس سکیم  پر بحث شروع ہو گئی۔ کئی فیس بک صارفین نے سکیم پر تبصرے کیا جبکہ ٹوئٹر پر ایک ٹرینڈ بھی شروع ہوا۔ 

تقریباً تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اس سکیم کی کافی تعریف کی گئی اور جگہ جگہ وزیر اعظم عمران خان کا سکیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کے پیغام کی ویڈیوز اٹیچ کی گئیں۔

تاہم بعض سوشل میڈیا صارفین نے سکیم پر بعض اعتراضات بھی اٹھائے۔ فیس بک پر وسیم نام کے صارف کا کہنا تھا کہ سکیم میں بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے کوئی مراعات موجود نہیں۔ محمد راحیل خان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں اکاؤنٹ کھولنے میں بینک کوڈ اور برانچ کوڈ کے مسائل آ رہے ہیں۔

ٹوئٹر صارف آفتاب احمد نے لکھا: میں نے اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کی تو مجھے کہا گیا کہ کورئیر کا خرچہ ادا کرنا ہو گا۔تاہم خولدون نامی صارف نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان سے کورئیر کا خرچہ بالکل بھی نہیں مانگا گیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت