آکسفورڈ یونیورسٹی کے کرونا وائرس ویکسین ٹرائلز دوبارہ بحال

منگل کے روز اعلان کیا گیا تھا کہ یہ عمل اس وقت روکنا پڑا جب مبینہ طور پر ایک رضاکار ریڑھ کی ہڈی کی سوزش کی غیر معمولی علامات میں مبتلا ہو گیا، اس اعصابی بیماری کو طبی زبان میں ٹرانسورس مائیلائٹس کہتے ہیں۔

(اے ایف پی)

برطانیہ کی معتبر یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ کرونا (کورونا) وائرس ویکسین کے ٹرائلز برطانیہ بھر میں دوبارہ شروع کیے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل ٹرائلز کے دوران ایک رضاکار کے بیمار پڑ جانے کے بعد ویکسین کے ممکنہ طور پر خطرناک سائیڈ افیکٹس کی ہنگامی جانچ کے لیے اس ویکسین کے انسانوں پر تجربے روک دیے گئے تھے تاہم اسے اب دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی نے ایک بیان میں کہا کہ اس کا آزادنہ جائزہ لینے کا عمل مکمل ہونے اور جائزہ کمیٹی اور برطانیہ کے ریگولیٹر ایم ایچ آر اے کی سفارشات کے بعد ملک بھر کے تمام طبی مراکز پر ٹرائل دوبارہ شروع ہوجائیں گے۔

عالمی سطح پر آزمائش کے لیے 18 ہزار رضاکاروں کو یہ ویکسین دی جا چکی ہے۔

منگل کے روز اعلان کیا گیا تھا کہ یہ عمل اس وقت روکنا پڑا جب مبینہ طور پر ایک رضاکار ریڑھ کی ہڈی کی سوزش کی غیر معمولی علامات میں مبتلا ہو گیا، اس اعصابی بیماری کو طبی زبان میں ٹرانسورس مائیلائٹس کہتے ہیں۔

اس تحقیق میں شامل عالمی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا نے ان ٹرائلز کو ’رضاکارانہ طور پر‘ روکنے کے عمل کو ’معمول کی کارروائی‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ویکسین کی جانچ کی جائے گی تا کہ اس کے مکمل محفوظ ہونے کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد ان ٹرائلز کو برطانیہ، برازیل، جنوبی افریقہ اور امریکہ بھر میں روک دیا گیا تھا اور اس اقدام کے بارے میں سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے تاہم اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

’سیج‘ کے رکن اور ’ویلکم ٹرسٹ‘ کے ڈائریکٹر سر جیریمی فیریر نے ’بی بی سی ٹوڈے‘ کے پروگرام کو بتایا: ’میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ ویکسین ٹرائلز صحیح طریقے سے انجام دیے جائیں اور ان کی آزادنہ طور پر نگرانی ہو۔ اس میں ایک ریگولیٹر کا کردار ہے اور ہم اس ریگولیٹر پر اعتماد اور اس کی مدد کرسکتے ہیں اور یہ کہ ہم اس طرح کے وقفوں کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔‘

یہ ویکسین ایک عام کولڈ فلو وائرس کے کمزور ورژن سے تیار کی گئی ہے جس نے چمپینزی کو متاثر کیا تھا۔ اسے جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا ہے تاکہ انسانوں میں اس کی نشوونما ناممکن ہو جائے۔

برطانوی وزیر صحت میٹ ہین کوک نے پیر کو ایل بی سی کو بتایا: ’سب سے بہتر صورتحال یہ ہے کہ یہ ویکسین اسی سال بنا لی گئی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اگلے سال کا ابتدائی حصہ زیادہ اہم ہے۔ اگلے سال کے پہلے چند مہینوں میں اس کے کمرشل استعمال کا زیادہ امکان ہے۔ لیکن ہم نے بین الاقوامی اداروں سے منظوری ملنے سے پہلے ہی یہ ویکسین خرید لی ہے۔‘

برطانیہ تیار ہونے والی ویکسین کی منظوری حاصل کرنے سے پہلے ہی اس کی تین کروڑ خوراکوں کی خریداری کا آڈر دے چکا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انگلینڈ کے چیف سائنسی مشیر سر پیٹرک والنس کے مطابق: ’عالمی سطح پر کرونا وائرس کی تقریبا 200 ویکسینز کی تیاری کا عمل جاری ہے جن میں سے آٹھ کلینیکل ٹرائلز کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اس میں آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کی جانے والی ویکسین بھی شامل ہے جو کسی دوسری ویکسین کے مقابلے میں عالمی کوششوں کے حصے کے طور پر زیادہ سے زیادہ لوگوں پر آزمائی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے بدھ کے روز ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہمیں پہلے ہی معلوم ہے کہ ان میں سے بہت ساری ویکسینز صحیح قوت مدافعت کا مظاہرہ کررہی ہیں۔‘

ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وزیراعظم بورس جانسن نے ملک میں ’چھ اصولوں‘ کی پابندیوں کے نئے قانون کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

سر پیٹرک والنس نے مزید کہا: ’لہذا جن لوگوں اور رضاکاروں کو ویکسین دی گئی ہے ان میں اس وائرس کے خلاف مدافعتی ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ (ٹرائل کا عمل) کتنی دیر تک جاری رہے گا لیکن بہت سے کیسز میں مدافعت کا ردعمل اچھا ثابت ہوا ہے اور یہ بوڑھوں کے ساتھ ساتھ دوسروں افراد میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق