شہد کی مکھیاں پالنے والوں کی زندگی اچھے موسموں میں گزرتی ہے

سوات کے محمد اختر کے مطابق دن میں تقریباً دس سے پندرہ بار شہد کی مکھیاں ان کو ڈنگ مارتی ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ ڈنگ بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

محمد اختر کا تعلق سوات کے علاقے میاندم سے ہے اور وہ چھ سال سے شہد کی مکھیاں پال رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں شہد کی مکھیاں پالنے کا شوق تب ہوا جب ان کے چچا یہ کام کرتے تھے۔

محمد اختر کے مطابق یہ کام سیکھنے کے لیے کم سے کم تین سال درکار ہوتے ہیں۔

انہوں نے بھی اپنے چچا کے ساتھ تین سال ایک مزدور کی حیثیت سے کام کیا، جس کی وجہ سے انہیں یہ سمجھ میں آ گیا کہ شہد کی مکھی کی دیکھ بھال کس طرح کی جاتی ہے۔

تین سال اپنے چچا کے ساتھ کام کرنے کے بعد محمد اختر نے اپنا فارم کھولنے کا ارادہ کیا۔

محمد اختر کے مطابق شہد کا کاروبار کرنے کے لیے انہیں بہت سفر کرنا پڑتا ہے۔ سب سے پہلے جنوری کے مہینے میں مکھیوں کوسردی سے بچانے کے لیے وہ اپنے فارم کا رخ گرم علاقوں کی طرف کرتے ہیں جیسے کہ بہاولپور اور فیصل آباد اور پھر وہاں کا سیزن ختم ہونے کے بعد وہ اپنا فارم لاہور لے جاتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پھر اسی طرح سے کرک اور کوہاٹ آتے ہیں، بعد میں چند مہینوں کے لیے کشمیر جانا ہوتا ہے اور آخر میں یہ لوگ اپنے فارم کے ساتھ سوات، چترال یا ناران کاغان چلے جاتے ہیں ۔

محمد اختر کے مطابق مکھیوں کا کاروبار بہت فائدہ مند بھی ہے، اگر ان کا سیزن اچھا گزرتا ہے، بارش یا کوئی طوفان نہیں آتا تو ایک سال میں وہ اچھی خاصی کمائی کر سکتے ہیں۔

مکھیوں کے ڈنگ کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ دن میں تقریباً دس سے پندرہ بار مکھیاں ان کو ڈنگ مارتی ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں ہوتا کیوں کہ وہ اس کے عادی ہوچکے ہیں۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ شہد کی مکھیوں کا ڈنگ بھی فائدہ مند ہوتا ہے۔

محمد اختر کی زندگی میں تعجب کی بات یہ ہے کہ ان کی زندگی اچھے موسموں میں گزرتی ہے۔ پاکستان میں جہاں کہیں بھی بہار جیسا موسم ہوتا ہے یہ لوگ شہد کی مکھیوں کا فارم لے کر وہاں پر پہنچ جاتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا