روس کو الیکشن میں مداخلت کی 'قیمت' ادا کرنی پڑے گی: جو بائیڈن

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر وہ منتخب ہو گئے اور انتخابات کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ روس نے الیکشن میں مداخلت کی ہے تو 'وہ اس کی قیمت ادا کریں گے اور یہ ایک معاشی قیمت ہوگی۔'

ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن موسیک کے علاقے میں سی این این ڈرائیو ان کے  دوران خطاب کے موقع پر (اے ایف پی)

آنے والے صدارتی انتخابات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حریف جو بائیڈن نے  بیرون ملک امریکی افواج کی تعداد کو کم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی طاقت کے ذریعے انتخاب میں مداخلت کرنے کی کوئی بھی کوشش 'ہماری خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔'

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اپنے آبائی علاقے سکرانٹن کے باہر موسیک کے علاقے میں سی این این ڈرائیو ان کے دوران خطاب میں انہوں نے وعدہ کیا کہ اگر وہ منتخب ہو گئے اور انتخابات کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ روس نے الیکشن میں مداخلت کی ہے تو 'وہ اس کی قیمت ادا کریں گے  اور یہ ایک معاشی قیمت ہوگی۔'

اس موقع پر جو بائیڈن نے روس کو ایک 'حریف'  (Opponent) کے طور پر بیان کیا ، لیکن چین کے بارے میں پوچھے جانے پر اسی لفظ کو استعمال کرنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے اس کی بجائے چین کو 'مدمقابل' (Competitor) قرار دیا اور بیجنگ کے ساتھ تجارتی پالیسی میں بہتری لانے کا عہد کیا۔

جو بائیڈن نے کرونا (کورونا) وائرس سے نمٹنے کے سلسلے میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی پر ٹرمپ کو 'مجرم' اور ان کی انتظامیہ کو 'مکمل طور پر غیر ذمہ دار' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'صدر کو عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔'

ٹرمپ کے اس اعتراف کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہ انہوں نے عوامی سطح پر کرونا وائرس کی شدت کے اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی، جو بائیڈن نے اعلان کیا: 'وہ اس بارے میں جانتے تھے اور انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ یہ ایک جرم کے برابر ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بعدازاں جو بائیڈن نے امریکیوں کی بنیادی 'آزادیوں' کے بارے میں گفتگو کی، جو کرونا وائرس کے باعث بظاہر ان سے چھن گئی تھیں، انہوں نے کہا: 'میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں یہ سب بھی دیکھوں گا، مکمل طور پر غیر ذمہ دار انتظامیہ۔'

جو بائیڈن کو ٹاؤن ہال میں موڈریٹر اینڈرسن کوپر اور دیگر سامعین کی جانب سے کرونا وائرس اور ممکنہ ویکسین کے بارے میں نصف درجن سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس جلسے کا مرکزی موضوع صرف کرونا وائرس نہیں تھا۔

ٹاؤن ہال میں ہونے والی یہ پہلی تقریب تھی، جب بائیڈن نے نامزدگی جیتنے کے بعد ووٹرز کی جانب سے براہ راست اور بغیر سکرپٹ شدہ سوالات کا سامنا کیا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس سے قبل فلاڈلفیا کے ایک آڈیٹوریم میں منگل کو ایک جلسہ کرچکے ہیں۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے امریکہ میں 195،000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جو دنیا بھر میں کسی ملک میں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

ٹرمپ اور بائیڈن نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ممکنہ ویکسین پر عوامی اعتماد کو کم کررہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا