بوب ووڈورڈ نے امریکی الیکشن جو بائیڈن کے حق میں پلٹ دیے؟

واشنگٹن پوسٹ کے رپورٹر بوب ووڈورڈ کی آنے والی کتاب 'ریج' میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں کس طرح صدر ٹرمپ نے 'خوف و ہراس' سے بچنے کے لیے کرونا وائرس کے خطرات کے بارے میں قوم کو جان بوجھ کر گمراہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ابتدا میں کرونا وائرس کو کسی بڑے خطرے کا باعث قرار نہیں دیا تھا (تصویر: اے ایف پی)

ڈونلڈ ٹرمپ وہ دوسرے صدر ہوسکتے ہیں جن کا سیاسی کیریئر باب ووڈورڈ نے برباد کیا ہو۔

امریکی اخبار 'واشنگٹن پوسٹ' کے مشہور رپورٹر، جن کی بے لگام رپورٹنگ 1970 کی دہائی میں واٹر گیٹ سکینڈل پر صدر رچرڈ نکسن کو لے ڈوبی تھی، نے اگلے منگل کو ریلیز ہونے والی اپنی نئی کتاب 'ریج' (Rage) میں چونکا دینے والی تفصیلات فراہم کی ہیں کہ کس طرح صدر ٹرمپ نے 'خوف و ہراس' سے بچنے کے لیے کرونا (کورونا) وائرس کے خطرات کے بارے میں قوم کو جان بوجھ کر گمراہ کیا۔

آپ جانتے ہیں کہ (سیاسی گروپ) لنکن پروجیکٹ سے منسلک ڈیموکریٹس اور ٹرمپ مخالف  ری پبلکن پارٹی کے سابق ارکان پہلے ہی ساتھ مل کر صدر ٹرمپ کے ویڈیو کلپس جمع کر رہے ہیں یہ دکھانے کے لیے کہ فروری اور مارچ میں وہ عوام کے سامنے کیا کہہ رہے تھے اور صحافی بوب ووڈورڈ کے ساتھ نجی، ریکارڈ شدہ گفتگو میں انہوں نے کیا کہا ہے۔

ڈیموکریٹس کے نامزد صدارتی امیدوار جو بائیڈن، ٹرمپ پر ووڈورڈ کے ساتھ کی گئی گفتگو میں ان کے تبصروں کے حوالے سے پہلے ہی سوال اٹھا چکے ہیں۔ حالیہ عرصے میں یہ سب سے آسان سیاسی حملہ ہے، جسے ناقابل تلافی آڈیو شواہد کی حمایت حاصل ہے۔ 

جو بائیڈن نے ریاست مشی گن کے شہر وارن میں جنرل موٹرز میں ایک مہم کے دوران اپنے خطاب میں ٹرمپ کے حوالے سے کہا: 'وہ جانتے تھے کہ یہ کتنا جان لیوا ہے۔ یہ فلو سے کہیں زیادہ مہلک تھا۔ وہ جانتے تھے اور جان بوجھ کر انہوں نے اسے دبایا۔ اس سے بھی بدتر یہ کہ انہوں نے امریکی عوام سے جھوٹ بولا۔ انہوں نے جان بوجھ کر مہینوں سے ملک کو لاحق خطرے کے بارے میں جھوٹ بولا۔'

سابق نائب صدر نے مزید کہا: 'ان کے پاس یہ معلومات تھیں۔ وہ جانتے تھے کہ یہ کتنا خطرناک ہے اور جب ہماری قوم میں یہ مہلک بیماری پھیل گئی تو وہ جان بوجھ کر اپنا کام انجام دینے میں ناکام رہے۔'

لیکن ابھی کے لیے کوئی بات نہیں۔ ووڈورڈ کی کتاب کا نومبر کے انتخابات پر کیا اثر پڑے گا، جب اگلے ہفتے عوامی سروے نیا ڈیٹا جاری کریں گے تو ہمیں اس بارے میں بہتر اندازہ ہوگا۔

اور اس کے ساتھ ساتھ صدر کی عوام تک پیغام پہنچانے کی حکمت عملی جان بوجھ کر کتنی بے جان اور خطرناک تھی، یعنی ہر ایک کو یہ بتانا کہ بنیادی طور پر وائرس کے بارے میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں، جس سے ہزاروں امریکی جانیں ضائع ہوئیں اور جس نے وبا کے دوران امریکہ کو ایک انتہائی غیر محفوظ مقام بنا دیا۔ سائنسی رائے پر بھروسہ کرنے والے ہر شخص کو معلوم تھا کہ مہینوں پہلے کیا چل رہا تھا جبکہ ووڈورڈ کی کتاب نے صدر کے کرونا وائرس کے ردعمل کے حوالے سے بحث کو دوبارہ گرم کردیا ہے۔

نہیں، ابھی میرے پاس خود باب ووڈورڈ کے لیے کچھ سوالات ہیں۔

پہلا سوال یہ کہ: آپ کیا سوچ رہے تھے؟

آدھے سال تک آپ نے ان آڈیو ٹیپس کو چھپائے رکھا، جن کے بارے میں آپ جانتے تھے کہ ان میں موجود باتیں، ان باتوں سے بالکل متصادم تھیں، جو کرونا وائرس کے ابتدائی مراحل میں صدر عوامی سطح پر کہہ رہے تھے۔

کیا آپ نے ایک لمحے کے لیے غور کیا کہ 'مہلک' کرونا وائرس کے بارے میں آپ کی صدر سے گفتگو کی بروقت اطلاع دینے سے ان پر دباؤ ڈالا جاسکتا تھا کہ وہ عوامی سطح پر سخت اقدامات کریں، جس سے ہزاروں امریکیوں کو ناقابل تلافی نقصان اور موت سے بچایا جاسکے؟

ان کی کتاب کے بارے میں رپورٹس کے مطابق، ووڈورڈ کو مہینوں سے معلوم تھا کہ قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن نے صدر کو متنبہ کیا تھا کہ کرونا وائرس کی وبا ان کے عہدے کی پہلی میعاد کا 'سب سے بڑا قومی سلامتی خطرہ' ہوگا۔

7 فروری کو ایک فون کال میں ٹرمپ نے ان سے کہا: 'یہ جان لیوا ہے بوب،' ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کس طرح ماہرین یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بیماری صرف رابطے کے ذریعہ نہیں بلکہ ہوا کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہے۔

صدر نے اس وقت ووڈورڈ کو بتایا: 'آپ صرف ہوا میں سانس لیں اور اس طرح یہ منتقل ہوجاتی ہے، یہ بہت ہی چیلنجنگ ہے۔ یہ ایک بہت نازک معاملہ ہے۔ یہ شدید فلو سے بھی زیادہ مہلک ہے۔'

لیکن اس کے بعد اگلے ہفتوں میں، وائرس کے بارے میں امریکیوں کے خدشات کو جھٹکنے اور ان کو یہ سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے کہ انہیں پریشان نہیں ہونا چاہیے، ٹرمپ نے متعدد مواقع پر عوامی طور پر کووڈ 19 کا موازنہ اسی چیز سے کیا، جس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ وہ کتنا مہلک ہے۔

26 فروری کو انہوں نے کہا: 'یہ ایک فلو ہے۔ یہ فلو کی طرح ہے۔۔۔یہ باقاعدہ فلو کی طرح ہے جس کے لیے ہمیں فلو شاٹس لگتے ہیں اور ہم بہت ہی جلد اس کے لیے بھی فلو شاٹس تیار کرلیں گے۔'

9 مارچ کو ٹرمپ نے کہا: 'پچھلے سال عام فلو سے 37 ہزار امریکی ہلاک ہوگئے۔ اس کی اوسط سالانہ 27 سے 70 ہزار کے درمیان ہے۔ کچھ بھی بند نہیں ہوا، زندگی اور معیشت آگے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت 22 اموات کے ساتھ کرونا وائرس کے 546 تصدیق شدہ کیس ہیں۔ اس کے بارے میں سوچو!'

فکر نہ کریں۔ مجھے سمجھ آگئی۔ یہاں مزید دیکھنے کو کچھ نہیں۔ جاری رکھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ٹرمپ نے مارچ میں کرونا وائرس کے خطرے کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے بات کرنا شروع کی تو بوب ووڈورڈ نے ان سے بیانات میں اچانک تبدیلی کے بارے میں پوچھا۔

جس پر ٹرمپ نے 19 مارچ کو ایک انٹرویو میں کہا: 'ایمانداری سے بتاؤں تو میں ہمیشہ سے اسے جھٹلانا چاہتا تھا۔ میں اب بھی اسے جھٹلانا چاہتا ہوں، کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ خوف و ہراس پھیلے۔'

کووڈ 19 کے بارے میں ٹرمپ کی ابتدائی گفتگو کے سات ماہ سے زائد کے عرصے میں دو لاکھ کے قریب امریکی ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہ بیماری ختم نہیں ہورہی ہے۔ صرف پچھلے آٹھ دنوں میں مزید چھ ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

یہاں یہ واضح ہے کہ، صحت کے بحران پر ٹرمپ انتظامیہ کے ردعمل کے لیے ووڈورڈ مجرم نہیں ہیں۔ وہ واشنگٹن کے ان ہزاروں لوگوں میں سے بھی نہیں ہیں، جو اس سب کے لیے سب سے زیادہ جوابدہ ہے۔ ووڈورڈ کا حکومتی پالیسی تیار کرنے میں بھی ویسا کوئی کردار نہیں ہے، جیسا کہ صدر کے 'فاکس نیوز' کے شان ہینیٹی اور لو ڈوبس کا ہے۔

اور ہم کبھی بھی اس حوالے سے یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ جانتے ہوئے کہ لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں، بوب ووڈورڈ کی جانب سے صدر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی اطلاع دینے کی بجائے، کسی کتاب میں دھماکہ خیز انکشافات کے لیے بچا کر رکھنے سے رائے عامہ پر اثر پڑتا یا اس سے ٹرمپ پر دباؤ پڑتا کہ مزید فوری اقدامات کریں۔

شاید صدر نے ووڈورڈ کے ساتھ اس بنیاد پر گفتگو کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ ان کے الفاظ صرف ان کی آنے والی کتاب میں شائع ہوں اور کہیں بھی نہیں۔ اس کے باوجود ٹیپس کو چھپا کر رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ ضرورت پڑنے پر کوئی بھی صحافتی پروٹوکول کے تصورات کو قربان کرسکتا ہے، اگر اس طرح سے کسی کی جان بچانے میں مدد مل سکتی ہو۔

باب ووڈورڈ کے مقابلے میں کتاب 'ریج' میں اٹھنے والے سوالات پر ڈونلڈ ٹرمپ کی بہت زیادہ جواب طلبی ہوگی۔

لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ  جب مصنف اپنی کتاب کی تشہیر کے لیے اگلے ہفتے ٹی وی پر چکر لگا رہے ہوں تو ان کو سخت سوالات سے بچ جانا چاہیے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر