اس سال سمندری طوفان اتنے آئے کہ ان کے لیے نام ہی کم پڑ گئے

عالمی موسمیاتی تنظیم ان دنوں ایک عجیب مشکل میں ہے کیوں کہ اس کے پاس اس سال طوفانوں کے لیے نام کم پڑ گئے ہیں۔

عالمی موسمیاتی  تنظیم ان دنوں ایک عجیب مشکل میں ہے کیوں کہ اس کے پاس اس سال طوفانوں کے لیے نام ہی کم پڑ گئے ہیں۔

عالمی موسمیاتی تنظیم دنیا میں آنے والے طوفانوں کے نام رکھتی ہے اور اس کام  میں متعلقہ ملکوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔

ابھی بحرِ اوقیانوس میں سمندری طوفانوں کے موسم کے دو ماہ باقی ہیں لیکن ادارے کے پاس صرف ایک نام یعنیٰ Wilfred باقی بچا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

2020 جہاں کرونا وائرس، ماحولیاتی تپش، امریکہ میں جنگلات میں ریکارڈ آتش زدگی کے حوالے سے خوف ناک رہا ہے، وہیں یہ سال طوفانوں کے حوالے سے بھی خاصا مصروف رہا۔

اب تک بحرِ اوقیانوس میں 20 بڑے طوفان آ چکے ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر تمام نام ختم ہو جائیں تو پھر یونانی حروفِ تہجی یعنیٰ الفا، بیٹا، گیما کا سہارا لیا جائے گا۔

اس سے قبل صرف ایک موقع ایسا آیا تھا جب طوفانوں کے نام ختم ہوئے تھے۔ 2005 میں امریکہ میں کٹرینا نامی طوفان نے خاصی تباہی مچائی تھی اور اسی سال طوفانوں کے ناموں کی فہرست چھوٹی پڑ گئی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات