محمد زبیر کی آرمی چیف سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں: ترجمان فوج

پاکستان فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

پاکستان فوج کے ترجمان ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کر رہے تھے (آئی ایس پی آر)

پاکستان فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دو ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

نجی ٹی وی چینل اے آر وائی سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آرمی چیف سے محمد زبیر کی دو ملاقاتیں اگست کے آخر اور ستمبر کے آغاز میں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں ملاقاتیں محمد زبیر کی درخوست پر ہی ہوئیں جن میں میں ڈی جی آئی ایس آئی بھی موجود تھے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ ان دونوں ملاقاتوں میں محمد زبیر کی آرمی چیف سے نواز شریف اور مریم نواز کے حوالے سے ہی بات چیت ہوئی۔

نامہ نگار عبداللہ جان کے مطابق پاکستان فوج کے ترجمان نے مزید بتایا کہ آرمی چیف نے محمد زبیر پر واضح کیا  کہ ’جو بھی ان کے قانون مسائل ہیں وہ پاکستان کی عدالتوں میں حل ہوں گے اور سیاسی مسائل کا حل پارلیمان میں ہوگا۔‘

ان کے مطابق آرمی چیف نے ان سے یہ بھی کہا کہ ’ان معاملات سے فوج کو دور رکھا جائے۔‘

اس حوالے سے فوج کے ترجمان نے مزید بات کرنے سے گریز کیا۔

خیال رہے کہ انڈپینڈنٹ اردو پر کالم لکھنے والے صحافی طلعت حسین نے گذشتہ روز ہی اپنی ایک ٹویٹ میں ایسی کسی ملاقات کی جانب اشارہ کیا تھا۔

تاہم بدھ کو مریم نواز نے تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف کے کسی نمائندے کی فوجی قیادت سے ملاقات نہیں ہوئی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر کا کہنا ہے کہ انہوں نے آرمی چیف سے ملاقات میں اپنی جماعت کے رہنماؤں کے لیے کسی رعایت کا نہیں کہا۔

فوج کے ترجمان کے بیان پر ایک نجی ٹی وی چینل پر ردعمل دیتے ہوئے محمد نے کہا کہ ان کے آرمی چیف سے 40 سال پرانے تعلقات ہیں اور یہ پہلا موقع نہیں تھا جب انہوں نے  جنرل باجوہ سے ملاقات کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ کبھی بھی کسی سیاسی بنا پر آرمی چیف سے نہیں ملے اور انہوں نے ملاقاتوں میں کسی کی نمائندگی نہیں کی۔

محمد زبیر نے کہا کہ انہیں ملاقات کے لیے نہ تو نواز شریف اور نہ ہی مریم نواز نے کہا تھا۔

سابق گورنر سندھ نے کہا کہ انہوں نے آرمی چیف کے ساتھ مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں سیاسی امور شامل تھے لیکن اس کا مقصد حمایت طلب کرنا نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے کراچی میں اسد عمر کے بیٹے کی شادی میں اسلام آباد آنے پر ملاقات کی دعوت دی تھی۔

محمد زبیر نے اس بات سے انکار کیا کہ نواز شریف یا مریم نواز کو آرمی چیف کے ساتھ ان ملاقاتوں کا پہلے سے علم تھا تاہم انہوں نے کہا کہ بعد میں انہوں نے مریم نواز کو ملاقاتوں سے متعلق بتایا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسلم لیگ کے رہنما نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید نے ان سے اپنے دورے کا مقصد پوچھا تھا اور انہوں بتایا کہ وہ پارٹی یا رہنماؤں کے لیے کوئی احسان لینے نہیں آئے۔

نامہ نگار مونا خان کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں بدھ کو سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں جب صحافی نے محمد زبیر سے پوچھا کہ کیا کسی لیگی رہنما کی آرمی چیف سے ملاقات ہوئی ہے؟ تو محمد زبیر نے انجان بن کر جواب دیا کہ ’مجھے کیا علم کہ کس کی ملاقات ہوئی مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔‘

خیال رہے کہ ترجمان پاکستان فوج کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کو ہی پاکستانی ذرائع ابلاغ پر آرمی چیف اور سیاسی قیادت کے درمیان ملاقات کی خبریں گردش کرتی رہیں۔

اس ملاقات کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نے گلگت بلتستان میں انتخابات اور اس خطے کی صورتحال کی وجہ سے سیاسی قیادت سے ملاقات کی۔

جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنرل ہیڈ کواٹرز (جی ایچ کیو) کو سیاسی قیادت کو اس طرح بلانا چاہیے اور نہ ہی سیاسی قیادت کو ایسی ملاقات میں جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’گلگت بلتستان کا ایک سیاسی معاملہ ہے، جو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے جی ایچ کیو میں نہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان