’سیاسی قیادت کو آرمی چیف سے جی ایچ کیو میں نہیں ملنا چاہیے تھا‘

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی، گلگت بلتستان کا ایک سیاسی معاملہ ہے، جو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے جی ایچ کیو میں نہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور پارٹی سربراہ نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے حال ہی میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پارلیمانی رہنماؤں کی ایک ملاقات پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ جنرل ہیڈ کواٹرز (جی ایچ کیو) کو سیاسی قیادت کو اس طرح بلانا چاہیے اور نہ ہی سیاسی قیادت کو ایسی ملاقات میں جانا چاہیے۔

مریم نواز نے بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپنی، شوہر کیپٹن (ر) صفدر اور والد نواز شریف کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی سماعت کے موقعے پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں جی ایچ کیو میں ہونے والے ڈنر کا علم نہیں، لیکن ان کے خیال میں سیاسی قیادت کو گلگت بلتستان کے معاملے پر بلایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’گلگت بلتستان کا ایک سیاسی معاملہ ہے، جو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے جی ایچ کیو میں نہیں۔‘

ایک صحافی کے سوال پر مریم نواز نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’کیا میں جو کہوں گی آپ کا چینل چلائے گا؟ میری اطلاع کے مطابق پارلیمانی رہنماؤں کی ملاقات اسلام آباد میں نہیں راولپنڈی میں ہوئی۔‘

سماعت سے قبل کمرہ عدالت میں مریم نواز نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کو نوٹس بھجوانے کے سوال پر کہا کہ 'نیب نے غلطی سے مولانا فضل الرحمٰن کے گھر نوٹس بھیجوا دیا، دراصل نیب نے عاصم سلیم باجوہ کے گھر نوٹس بھجوانا تھا۔'

آج اسلام آباد ہائی کورٹ کا کمرہ نمبر دو میں ن لیگی اراکین اور ن لیگی وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی۔ مریم نواز 12:40 پر کمرہ عدالت پہنچیں تو وکلا اُن کے ساتھ سیلفیاں لینے لگے، اس پر سیکورٹی اہلکاروں نے وکلا سے اُن کا موبائل لینے کی دھمکی دی۔

 

مریم نواز نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ آل پارٹی کانفرنس کے بعد حکومت میں کافی ہل چل مچ چکی ہے، حکومتی وزرا کے جو بیانات آ رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ 'مسلم لیگ ن سے نہ کوئی ش بنے گی نہ ہی کچھ اور بنے گا، مسلم لیگ ن ایک ہے اور ایک رہے گی۔'

انہوں نے کہا کہ گذشتہ 30 سال سے مسلم لیگ کی تقسیم کے حوالے سے سنتے ہوئے آ رہے ہیں، مسلم لیگ ن کی تقسیم بلی کے خواب میں چھچھڑے کے مترادف ہے۔ انہوں نےکل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ 'ن لیگ ، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام ف (جے یو آئی ف) سمیت ہم سب اے پی سی کے فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں، استعفوں کے معاملے پر مشاورت ہوئی ہے، اتفاق بھِی جلد ہو جائے گا۔'

ایک سوال پر مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ  سے ملاقات نہیں کی۔ انہوں نے کہا ایک اشتہاری کی درخواست پر منتخب وزیر اعظم کو نااہل کیا گیا، 'یہ سوال ہم نے پہلے نہیں اٹھایا جو اٹھانا چاہیے تھا، وہ اشتہاری جس تھانے کی حدود کا ملزم تھا اسی تھانے کی حدود میں عدالت پیش ہوتا تھا۔'

نواز شریف کی صحت پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے لیکن جب تک کورونا وبا ہے ان کا آپریشن نہیں ہو سکتا۔ 'نواز شریف کا ایمیون سسٹم کمزور ہے، ان کا ادویات سے علاج جاری ہے۔'

عدالتی کارروائی

سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی پاناما ریفرنسز میں سزا کے خلاف درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ نیب کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ، ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل سردارمظفر جبکہ وفاق کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ احتساب عدالت کے اسی فیصلے کے خلاف نواز شریف کی اپیل بھی زیر سماعت ہے، نواز شریف کی حاضری کے لیے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں، پہلے اس معاملے کو دیکھ لیں پھر ایک ساتھ اپیلوں پر سماعت کریں گے۔ عدالت نے مرکزی اپیلوں پر سماعت نو دسمبر تک ملتوی کردی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کے حوالے سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھرنے عدالت کو بتایا کہ ڈاک کے ذریعے بھجوائے گئے وارنٹس وصول ہو چکے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کاؤنٹی کورٹ سے وارنٹ کی تعمیل کا کیا بنا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کاؤنٹی کورٹ کے ذریعے تعمیل کی رپورٹ جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا ان کی طرف سے تصدیق کا کوئی خط موصول ہوا؟ اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ابھی ان کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ 'آپ کیس غیر معینہ مدت تک ملتوی کریں، جیسے ہی جواب آتا ہے عدالت کوآگاہ کر دوں گا۔' اس پرعدالت نے ریمارکس دیے کہ اس طرح طویل عرصے کے لیے سماعت ملتوی نہیں کر سکتے۔ 'ہم ایک ہفتے کے لیے سماعت ملتوی کر دیتے ہیں۔' عدالت نے کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست