آپ کی سوچوں کو پڑھ کر تصاویر میں بدلنے والا نیا کمپیوٹر

اس کمپیوٹر سے بنائی گئی تصاویر تحقیق میں شامل شرکا کے دماغ میں موجود سوچ سے 83 فیصد تک ملتی تھیں۔

محققین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت تخلیقی طور پر انسانوں کی مختلف چیزوں کے بارے میں پائی جانے والی سوچ کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔(فائل تصویر:اے ایف پی )

ایک ایسا کمپیوٹر تیار کر لیا گیا ہے جو انسانی دماغ کی سرگرمی کو دیکھتے ہوئے اسی سوچ پر مبنی تصاویر بنا سکتا ہے۔

ان تصاویر کو دیکھتے ہوئے ان کے ای ای جی ایس ایک نیورل نیٹ ورک میں داخل کیے گئے اور انسانی دماغ سے متاثرہ الگورتھم نے ان تصاویر کی نشاندہی کی جو انسانی دماغ سے موجود سوچ سے ملتی جلتی تھیں۔

جس کے بعد یہ نیورل نیٹ ورک یہ اہلیت حاصل کر سکا کہ انسانی دماغ میں موجود چہرے کے مطابق اس کی تصاویر بنا سکے۔

اس کمپیوٹر سے بنائی گئی تصاویر تحقیق میں شامل شرکا کے دماغ میں موجود سوچ سے 83 فیصد تک ملتی تھیں۔

یونیورسٹی آف ہیلسنکی اور یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے پروفیسر اور ریسرچر توکا روٹسالو نے ایک بیان میں کہا کہ 'اس تکنیک میں انسانی دماغ کے افعال کو کمپیوٹر کی نئی معلومات تیار کرنے کی صلاحیت سے ملایا گیا۔ تجربے کے دوران شرکا سے صرف کمپیوٹر میں تیار کی جانے والی تصاویر کو دیکھنے کو کہا گیا، جس کے جواب میں کمپیوٹر نے جو تصاویر تیار کیں وہ انسانی دماغ کی سوچ اور انسانی ردعمل پر مبنی تھیں۔ اس سے کمپیوٹر مکمل طور پر ایسی تصویر تیار کر سکتا ہے جو انسان کی سوچ سے ملتی ہیں۔'

محققین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت تخلیقی طور پر انسانوں کی مختلف چیزوں کے بارے میں پائی جانے والی سوچ کو سمجھنے میں بھی مدد دے سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پروفیسر روٹسالو کا کہنا ہے کہ 'اگر آپ کوئی تصویر بنانا چاہتے ہیں لیکن نہیں بنا سکتے تو یہ کمپیوٹر آپ کو ایسا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ یہ صرف آپ کی توجہ اور نیت پر غور کرکے ایسی چیز بنا سکتا ہے جیسی آپ چاہتے ہیں۔'

سینئیر ریسرچر میشل سپیپ کا کہنا ہے کہ 'یہ ٹیکنالوجی انسانی خیالات کو نہیں پہچانتی لیکن انسانی دماغ سے جڑی ان تبدیلیوں کو پرکھتی ہے جو رد عمل سے متعلق ہیں۔'

جیسا کہ یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی انسان بڑھاپے سے متعلق کیا رد عمل رکھتا ہے، بجائے اس کے کسی مخصوص ادھیڑ عمر شخص کے بارے میں اس کی کیا رائے ہے۔

میشل سپیپ کا کہنا ہے کہ 'کسی ادھیڑ عمر شخص سے متعلق ایک انسان کی سوچ دوسرے انسان سے مختلف ہو سکتی ہے۔ ہم اس وقت یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا ہماری تکنیک لاشعوری سوچ کو بھی جانچ سکتی ہے مثال کے طور پر کیا یہ کمپیوٹر ادھیڑ عمر افراد کی تصاویر ہمیشہ ہی 'مسکراتے ہوئے آدمی' کے نام سے بناتا ہے۔'

یہ تحقیق جریدے سائنٹیفک رپورٹ میں رواں ماہ شائع ہوئی ہے۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی