’میں منتخب وزیراعظم ہوں، کس کی جرات ہے مجھ سے استعفیٰ مانگے‘

نجی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’نواز شریف ایک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور بھارت ان کی مدد کر رہا ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان نے  میزبان ندیم ملک کو انٹرویو دیتے ہوئے  کہا کہ حکومت اور فوج کے درمیان بہترین تعلقات ہیں (تصویر: عمران خان  آفیشل فیس بک اکاؤنٹ)

مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے حالیہ بیانات میں فوج اور حکومت پر کھلی تنقید پر اپنے ردعمل میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف ایک خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں اور بھارت ان کی مدد کر رہا ہے۔

نجی ٹی وی چینل ’سماء‘ نیوز کو دیے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’اگر ڈی جی آئی ایس آئی مجھ سے استعفے کا مطالبہ کرتے تو میں ان سے فوری استعفے کا مطالبہ کرتا۔ میں منتخب وزیراعظم ہوں، کس کی جرات ہے کہ مجھ سے استعفیٰ مانگے۔‘

کارگل حملے سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا: ’مجھ سے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتے تو میں انہیں فارغ کردیتا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’میں نواز شریف یا ذو الفقار علی بھٹو کی طرح  فوج کی نرسری میں نہیں پلا، ایک کروڑ 70 لاکھ  ووٹرزنے مجھے منتخب کیا ہے۔ جمہوریت جسمانی طاقت سے نہیں، اخلاقی طاقت سے چلتی ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان نے الزام عائد کیا کہ ’نواز شریف خود فوجی نرسری میں پلے ہیں۔ ان کی ہر آرمی چیف سے لڑائی رہی ہے کیونکہ ایجنسیوں کو نواز شریف کی چوریوں کا پتا چل جاتاتھا۔ وہ کبھی جمہوریت پسند نہیں رہے۔‘

انہوں نے کہا: ’نواز شریف دوسرے بانی ایم کیو ایم بن گئے ہیں، وہ باہر بیٹھ کر اداروں کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے۔‘

واضح رہے کہ گذشتہ روز ایک ویڈیو لنک خطاب میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ 2014 کے دھرنے کے دوران اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی نے انہیں استعفیٰ دینے کا کہا تھا۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ نے اپنے بیان میں کہا تھا: ’سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے۔ ظہیر الاسلام نے کہا کہ نوازشریف استعفیٰ دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے۔ آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفیٰ نہ دیا تو مارشل لا بھی لگ سکتا ہے۔‘

فوج کے ساتھ تعلقات

موجودہ حکومت کے ساتھ فوج کے تعلقات پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت اور فوج کے درمیان بہترین تعلقات ہیں۔ پاکستانی فوج جمہوری حکومت کے پیچھےکھڑی ہے اور انہیں فوج سےکوئی مسئلہ نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’آرمی چیف جنرل باجوہ نے مجھ سے پوچھ کر سیاستدانوں سے میٹنگ کی تھی۔‘

وزیراعظم نے واضح کیا کہ ’فوج کا کام حکومت چلانا نہیں ہے۔ پاکستانی فوج اب بدل گئی ہے اور منتخب حکومت منشور کے مطابق کام کر رہی ہے۔ پوری دنیا میں فوج جمہوری حکومت کے پیچھے ہوتی ہے۔‘

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’میں نے کبھی نہیں کہا کہ امپائر کی انگلی کا مطلب فوج ہے۔ میری نظر میں امپائر صرف اللہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید کہا کہ ’خارجہ امور پر بھی پاکستانی فوج میری پالیسیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ بھارتی پائلٹ کی واپسی اور کرتارپور معاملے پر بھی فوج میرےساتھ تھی لیکن اپوزیشن جماعتوں کو یہ جمہوریت پسندنہیں ہے۔‘

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی دنیا کی نمبر ون ایجنسیاں ہیں لیکن اپوزیشن کا مائنڈ سیٹ جمہوری نہیں، یہ نہیں چاہتے کہ کوئی ان سے سوال کرے، اگر ادارے ان کےکنٹرول میں ہوں تو ان کے لیے پھر سب اچھا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اپوزیشن جماعتیں صرف مال بنانے کے لیے اقتدار چاہتی ہیں، اپوزیشن استعفے دے گی تو الیکشن کرادیں گے۔‘

ساتھ ہی وزیراعظم نے واضح کیا کہ ’میں اقتدار چھوڑنے کو ترجیح دوں گا لیکن انہیں (نواز شریف کو) این آر او نہیں دوں گا، انہیں معلوم ہے کہ میں این آر او نہیں دوں گا اس لیے وہ مائنس ون کہتے رہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان