اسلام آباد میں کرونا: کیا ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا؟

15 ستمبر کے بعد سے وفاقی دارالحکومت میں فعال کیسز کی تعداد 571 ہوگئی ہے جو اس سے قبل 100 تک محدود ہوگئی تھی۔

ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضعیم ضیا  کا کہنا ہے کہ  کرونا وائرس کے کیسز بڑھنے کی ایک وجہ سکولوں اور شادی ہالوں کا کھلنا اور ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہ کیا جانا ہے۔ (تصویر: اسلام آباد انتظامیہ)

ملک بھر کے ساتھ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی کرونا (کورونا) کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور 15 ستمبر کے بعد سے یہاں فعال کیسز کی تعداد 571 ہوگئی ہے جو اس سے قبل 100 تک محدود ہوگئی تھی۔

حکومت نے کرونا وائرس کے کیسز کم ہونے کی وجہ سے 15 ستمبر سے ملک بھر میں سکول اور جامعات مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا تھا جبکہ شادی ہال بھی اسی دن سے کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات میں کہا گیا تھا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ اور اساتذہ ماسک اور سماجی دوری کا خیال رکھیں گے، اسی طرح شادی ہالوں میں بھی ماسک اور مہمانوں کے درمیان مناسب فاصلہ برقرار رکھا جائے گا، لیکن پندرہ ستمبر کے بعد ملک بھر سے موصول ہونے والے اعداد و شمار میں کرونا کیسز بڑھتے نظر آئے۔

واضح رہے کہ 13 ستمبر کو ملک بھر میں فعال کیسز کی تعداد کم ترین سطح پر تھی اور صحت یاب ہوتے مریضوں اور نئےکیسز کم آنے کے باعث ایکٹیو کیسز 5273 رہ گئے تھے، لیکن 13 ستمبر کے بعد اب ایکٹیو کیسز کی تعداد 8877 ہو چکی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کرونا کے 625 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران اس وائرس سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ضعیم ضیا سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کے کیسز بڑھنے کی ایک وجہ سکولوں اور شادی ہالوں کا کھلنا اور ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہ کیا جانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ایس او پیز انتظامیہ کی جانب سے بنائے جاتے ہیں لیکن یہ انفرادی طور پر بھی سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اور اپنے ارد گرد رہنے والوں کی حفاظت کے لیے ایس او پیز پر عمل کریں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’ماضی قریب میں بھی وائرس زدہ علاقوں کو سیل کیا تھا، اب بھی وہی پالیسی رکھیں گے اور جہاں کیسز زیادہ ہوں گے انہیں سیل کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں واقع پمز ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر وسیم خواجہ کے مطابق ان کے عملے کے 30 سے زائد افراد کرونا کا شکار ہو چکے ہیں اور حالیہ متاثرین میں 15 ڈاکٹرز،  نرسیں اور طبی عملے کے لوگ شامل ہیں۔

انہوں نےبتایا کہ ’آج بھی دو ڈاکٹرز کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جس کے بعد انہیں قرنطینہ میں منتقل کر دیا گیا ہے اور ان سے رابطے میں آنے والوں کے بھی ٹیسٹس کیے جا رہے ہیں جبکہ جمعےکے روز دس نئے کرونا وائرس کے مریض بھی داخل کیے گئے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان