قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی بار ٹریفک پولیس کی تعیناتی

ضلع خیبر کی تاریخ میں پہلی بار نہ صرف ٹریفک ہیڈکواٹر قائم کیا گیا جہاں مقامی افراد ڈرائیونگ لائسنس بنواتے ہیں بلکہ پہلی مرتبہ بازاروں اور مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک پولیس اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

سابقہ فاٹا کے دور میں قبائلی علاقوں میں جہاں دیگر ملکی قوانین نہیں تھے وہیں ٹریفک کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے بھی یہاں کسی قسم کے قوانین موجود نہیں تھے۔

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں رہائشیوں کے لیے ڈرائیونگ لائسنس ضروری تھا نہ دیگر قواعد و ضوابط موجود تھے۔قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے بعد مختلف ملکی قوانین کو قبائلی اضلاع تک توسیع دی گئی، جن میں ٹریفک کے قوانین بھی شامل ہیں۔

جس کے بعد ضلع خیبر کی تاریخ میں پہلی بار نہ صرف ٹریفک ہیڈکواٹر قائم کیا گیا جہاں مقامی افراد ڈرائیونگ لائسنس بنواتے ہیں بلکہ پہلی مرتبہ بازاروں اور مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک پولیس اہلکار بھی تعینات کر دیے گئے ہیں۔

اب ڈرائیور حضرات کو ٹریفک قوانین کے متعلق رہنمائی فراہم کی جاتی ہے جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے بھی کئے جاتے ہیں۔ ضلع خیبر کے ڈی ایس پی ٹریفک ملک مظہر آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انضمام کے بعد پہلی مرتبہ ٹریفک قوانین کو قبائلی ضلع تک توسیع دی گئی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ سزا اور جزا کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انضمام کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ضلع خیبر میں گاڑی مالکان کے لائسنس کا اجرا اور قوانین کی خلاف ورزی پر سزا اور جزا کا نظام شروع ہوا ہو۔ چند دن قبل آئی جی پی نے یہاں ٹریفک ہیڈ کوارٹر کا افتتاح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک نظام نہ ہونے کے باعث یہاں اس سے قبل حادثات کے باعث بہت سی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ آئی جی پی اور سی پی او نے اقدام اٹھاتے ہوئے خیبر میں ٹریفک کا نظام قائم کیا جو نیشنل ہائی ویز اور ٹریفک پولیس کہلاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سلسلے میں سابق لیوی اور خاصہ دار اہلکاروں کی تربیت دے کر کے ان کو ٹریفک سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے جو کہ ہائی وے پولیس میں آ چکے ہیں۔ ملک مظہر آفریدی  نے مزید بتایا کہ 'طورخم تک ہائی وے پر ہمارے پاس چار موبائل گاڑیاں اور 24 اہلکار موجود ہیں، دوسرے مرحلے میں 24 اہلکاروں کے ایک اور سکواڈ کی تیاری مراحل میں ہے، نیشنل ہائی وے پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے اس سے بہت اثرات ہوئے ہیں، لاپرواہ ڈرائیوروں کے خلاف ہم نے کارروائی کی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'خیبر میں بھی کم عمر بچے موٹر سائیکل چلاتے ہیں۔ ہم نے ان کے والدین کو بلایا اور ان کے ساتھ بات چیت کی کہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں اور ہائی وے پر موٹر سائیکل نہ چلائیں تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔ یہاں کے لوگوں کا وہی پرانے نظام والا ذہن ہے۔ ہم ان کو قوانین کے حوالے سے آگاہی دے رہے ہیں۔ نیشنل ہائی وے پر اس کے بہت سے اثرات ہوئے ہیں حادثات میں کمی واقع ہوئی ہے، ٹریفک قوانین کی آگاہی کے لیے لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ گاڑی کہاں کھڑی کرنی ہے، مسافروں کو کہاں سے بٹھانا ہے۔'

ڈی ایس پی ٹریفک ملک مظہر آفریدی کے مطابق خیبر میں اب تک 2814 ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے گئے ہیں تقریباً 4500 لرننگ جاری کیے گئے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ 'ایک موبائل گاڑی متنی بائی پاس سے باڑہ بازار تک، دوسری باڑہ سے تخت بیگ، تیسری جمرود بائی پاس سے پڑانگ سم چیک پوسٹ تک اور پڑانگ سم سے چوتھی موبائل گاڑی طورخم بارڈر تک گشت کرتی ہے۔ ہائی وے پر چار موبائل گاڑیوں میں ٹریفک سکواڑ صبح سات بجے سے شام آٹھ بجے تک ڈیوٹی دیتا ہے۔یہاں کے لوگ خوشی محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ٹریفک قوانین پر چلنا ہمارے لیے فخر کی بات ہے اور اس میں ہمارا فائدہ ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا: 'سٹی ٹریفک نے بھی اس پر کافی کام کیا ہے اور اب تک ٹریفک وارڈن نے جرمانے کی مد میں سٹیٹ بینک میں 17لاکھ روپے جمع کیے ہیں۔'

ملک مظہر نے بتایا کہ چیف کیپٹل پولیس آفیسر اور ڈی پی او خیبر ہر ضرورت کی چیز کی فراہمی یقینی بناتے ہیں جبکہ ضلع خیبر میں ٹریفک حادثات پر آئی جی پولیس نے خصوصی طور پر نوٹس لیا ہوا ہے اور ڈی پی او کو خصوصی ہدایات دی ہیں کہ خیبر کو ٹریفک حادثات سے محفوظ کرانا ہے۔ ان کا کہنا تھا: 'اس وجہ سے ہمارا ہائی وے پر فوکس ہے، کوشش ہے کہ ٹریفک حادثات پر قابو پایا جائے ، لاپرواہ ڈرائیوروں کے خلاف بھر پور ایکشن لینے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بیج میں 24 اہلکاروں کو ٹریننگ دی اور دو موبائل گاڑیاں فراہم کی گئیں اور اب دوسرا بیج بھی تیار ہو رہا ہے جو عنقریب سڑکوں پر ہوگا۔

شہری کیا کہتے ہیں؟

لائسنس بناونے آئے ضلع خیبر کے رہائشی شکیل احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ 'ٹریفک آفیسرز شہریوں سے تعاون کرتے ہیں اور یہی انضمام کے بعد ہمیں سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔'

 انہوں نے کہا: 'اس سے پہلے ہم لائسنس بنانے کے لیے پشاور کے گلبہار حاجی کیمپ اڈہ جاتے تھے تو راستے میں خیبر سے پشاور جانے میں مسئلے ہوتے تھے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی لیکن اب ہمارے اپنے علاقے میں ٹریفک دفتر قائم ہوا ہے۔ یہاں ٹریفک قوانین لاگو ہو چکے ہیں،ان کی وجہ سے بلا شبہ ٹریفک حادثات میں کمی آئے گی۔ یہاں کے لوگ ٹریفک آفیسرز کی بات مانتے بھی ہیں کیونکہ یہ بھی اپنے ہی لوگ ہیں۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان