اسرائیل کی ’معمولی‘ اداکارہ قلوپطرہ بنیں گی

فلم ونڈر ویمن کی گیل گیڈوت کا بطور قلوپطرہ انتخاب نے سوشل میڈیا پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔

گیل گیڈوت 2004 میں مس اسرائیل رہ چکی ہیں جبکہ انہوں نےمس یونیورس کے مقابلے میں بھی اسرائیل کی نمائندگی کی (اے ایف پی)

یہ سچ ہے کہ قلوپطرہ روایتی لحاظ سے مصری ملکہ نہیں تھیں بلکہ انہوں نے شعوری طور پر مصری ہونے کا انتخاب کیا۔

گو کہ وہ مشہور ترین یونانی مقدونیائی نسل سے تعلق رکھتی تھیں، انہوں نے قدیم مصری زبان سیکھی اور اس ریاست کے ساتھ ان کی وفاداری مشہور ہے۔ قلوپطرہ کے مقدونیائی خاندان نے تین صدیوں تک مصر پر حکمرانی کی اور رومی قبضے کے ساتھ ہی اس خاندان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا۔

اسرائیلی اداکارہ گیل گیڈوت کی بطور قلوپطرہ انتخاب کی خبروں نے سوشل میڈیا پر ایک وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔ اس بحث نے مبصرین کو حامیوں اور مخالفین میں بانٹ دیا۔ کچھ نے یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ کیوں گیڈوت کو اس کردار کے لیے منتخب کیا گیا۔ اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والی اداکارہ نے قلوپطرہ کے کردار کے لیے خود کو منتخب ہونے کا جشن منایا، جو اس جانب اشارہ ہے کہ وہ اس کردار کے بارے میں خواب دیکھ رہی تھیں۔

35 سالہ گیڈوت اسرائیلی قصبے روش ہینڈ میں ایک قدامت پسند یہودی خاندان میں پیدا ہوئیں۔ انہیں اپنی قومیت پر فخر ہے اور وہ اپنی خوبصورتی کے بل بوتے پر فنی میدان میں داخل ہوئیں۔

وہ 2004 میں مس اسرائیل رہ چکی تھیں اور مس یونیورس کے مقابلے میں اسرائیل کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ اپنے انسٹا گرام پر ملکہ قلوپطرہ کے انتخاب کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے اشارہ کیا کہ وہ ملکہ مصر کو اپنے کیریئر کا ایک اہم پروجیکٹ سمجھتی ہیں اور انہوں نے اس کردار کو ادا کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے لکھا ’قلوپطرہ ایک ایسی کہانی ہے، جس کے بارے میں طویل عرصے سے سنانا چاہتی تھیں، میں اس سے زیادہ پرجوش اور شکر گزار نہیں ہو سکتی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گیڈوت نے اسے لڑکیوں کے عالمی دن سے منسلک کرکے ایک ’حقوق نسواں‘ کا معاملہ بنادیا۔ ماڈل عمر شریف جونیئر اس پراجیکٹ کے تصور کو مثبت سمجھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم کے لیے پرجوش ہیں۔

فلمی ناقد اینڈریو محسن کا خیال ہے کہ قلوپطرہ کے کردار کے لیے گیڈوت کے انتخاب پر بہت سارے سوالیہ نشان ہیں۔ مثال کے طور پر بطور اداکارہ ان میں معمولی قابلیت ہے اور فوری طور پر ان کا موازنہ بین الاقوامی سٹار الزبتھ ٹیلر کی 1963 میں مشہور فلم ‘کلیوپیٹرا’ سے کیا جا رہا ہے، اس فلم نے چار آسکرز حاصل کیے تھے۔

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ عربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’گیڈوت ایک درمیانے درجے کی اداکارہ ہیں اور ان کے کردار بھی کچھ شاندار نہیں، لہٰذا اس کردار کے لیے ان کا انتخاب عجیب اور بلاجواز سمجھا جاتا ہے۔ ایک اسرائیلی ہونے اور مصر پر حکمرانی کرنے والی خاتون کے کردار کے حوالے سے یہ سب معاملہ اجنبی معلوم ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں تین سال قبل ’ونڈر ویمن‘ فلم پر پابندی عائد کردی گئی تھی کیونکہ اس میں گیڈوت نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ محسن نے تصدیق کی کہ یہ واقعہ کوئی اتفاق نہیں کیوں کہ بین الاقوامی پروڈکشن کمپنیاں ہر فنکار کے انتخاب سے پہلے حالات کا بغور مطالعہ لیتی ہیں اور تمام حالات سے متعلق اعداد و شمار رکھتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فلم