'تہران': اسرائیل اور ایران کے درمیان ایٹمی کشیدگی پر بنا جاسوسی ڈراما

ایسا لگتا ہے کہ ڈرامے کا پلاٹ خبروں کی شہ سرخیوں سے لیا گیا ہے اور اس میں یہودی ریاست کی ایران کے ساتھ گہری دشمنی کی عکاسی ہوتی ہے۔

اس ایکشن سیریز میں ایک خاتون کو مرکزی کردار  دیا گیا ہے۔ (تصویر:'تہران'  سکرین گریب)

اسرائیل نے 'تہران' کے نام سے ایک نئی جاسوسی ڈراما سیریز تیار کی ہے جو سب سے پہلے ایپل ٹیلی ویژن پر عالمی سطح پر دکھائی جائے گی۔

ایسا لگتا ہے کہ ڈرامے کا پلاٹ خبروں کی شہ سرخیوں سے لیا گیا ہے اور اس میں یہودی ریاست کی ایران کے ساتھ گہری دشمنی کی عکاسی ہوتی ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈرامے میں اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ایک نوجوان کو اس کے پہلے مشن پر بھیجا جاتا ہے جس میں اسے ایران کا فضائی دفاع کا نظام ناکارہ بنانا ہے تاکہ اسرائیل، ایران کو ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لیے اس کے ایک ری ایکٹر کو تباہ کر سکے۔

ایران کے رجعت پسند ذرائع ابلاغ نے ڈرامے کو صہیونی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ایران نے ہمیشہ اس بات پر اصرار کیا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام شہری مقاصد کے لیے ہے۔

اس وقت اسرائیل اور ایران کا کسی معاملے پر، خواہ وہ کوئی ٹیلی ویژن سیریز ہی کیوں نہ ہو، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ناقابل تصور ہے۔ 'تہران' کے شریک پروڈیوسر موشے زوندر کہتے ہیں کہ وہ اس ڈرامے کو کم ازکم مل کر تیار کی گئی ایک ثقافتی پروڈکشن خیال کرنا پسند کریں گے۔

'ہم 'تہران' میں عبرانی سے زیادہ فارسی بولتے ہیں، اس لیے کسی حد تک میں یہ سمجھنا پسند کروں گا کہ یہ ایک اسرائیلی ایرانی سیریز ہے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر ایسا نہیں۔'

زوندر نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایرانی اور اسرائیلی شہری ان سیاسی رہنماؤں کو چھوڑ کر آپس میں دوست بن سکتے ہیں جو اپنے لوگوں کو ڈراتے اور اقتدار میں رہنے کے لیے نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ڈرامے کی ہیروئن  نیوسلطان نے چار ماہ تک فارسی سیکھی تاکہ ایران میں پیدا ہونے والی ایک ایسی خاتون کا کردار ادا کرسکیں، جنہیں اپنے بچپن کے ملک میں ایک خفیہ مشن پر واپس بھیجا جاتا ہے۔

ڈرامے میں ایران میں پیدا ہونے والے دو اداکار نوید نگہبان اور شون طوب بھی شامل ہیں جو امریکی سیریز 'ہوم لینڈ' میں بھی کام کر چکے ہیں۔ یہ سیریز بھی اسرائیل کی جاسوسی سیریز کی بنیاد پر بنائی گئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

زوندر نے ایک اور جگہ کہا کہ نئی ایکشن سیریز میں ایک خاتون کو مرکزی کردار دینا ایک سیاسی فیصلہ تھا۔ 'ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ اپنے کمانڈروں کی ناکامی کے بعد ایک نوجوان اور باصلاحیت لیکن غیرتجربہ کار خاتون کس بات کا انتخاب کرتی ہیں اور ایک ایسی دنیا میں کیا کرسکتی ہیں جہاں مردوں کی حکمرانی ہے۔ یہ یقیناً ایک ایسی سیریز ہے جس میں خواتین نمایاں ہیں۔'

ڈراما سیریز 'تہران' کے پروڈیوسروں کو امید ہے کہ اسے بھی عالمی سطح پر وہی کامیابی ملے گی جو ان سیریز کو ملی جن میں اسرائیل کے بدنام خفیہ ایجنٹوں کو دکھایا گیا تھا۔ 'تہران' آٹھ حصوں پر مشتمل سیریز ہے، جسے اسرائیلی پبلک ٹیلی ویژن نیٹ ورک 'کان' نے تیار کیا ہے۔ سیریز زیادہ تر یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں فلمائی گئی ہے۔

ایرانی نژاد اسرائیلی یہودیوں کی تنظیم کے رکن یوسی سیون نے اے ایف پی کوبتایا کہ یونان میں فلمائے جانے کے باوجود اس جاسوسی تھرلرکو تہران میں شوٹ کرنے کا تاثر ملتا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے وجود میں آنے کے بعد ہزاروں ایرانی یہودی وہاں منتقل ہو گئے تھے تاہم ان کی سرکاری تعداد دستیاب نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹی وی