ایران: کرونا وائرس سے ایک ہفتے میں تیسری بار ریکارڈ ہلاکتیں

ایران میں کرونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بدھ کو مشرق وسطیٰ کے متاثرہ ترین ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران 279 ہلاکتیں اور 4830 نئے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

بدھ کو ایران نے پانچ بڑے شہروں میں داخلے اور اخراج پر پابندی لگا دی جن میں تہران اور مشہد شامل ہیں۔ (اے ایف پی)

ایران میں کرونا (کورونا) وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے اور بدھ کے روز ایک ہفتے میں تیسری بار ریکارڈ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ 

بدھ کو ایران میں 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 279 رہی جبکہ مزید 4830 نئے کرونا کیسز سامنے آئے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ایران کی وزارت صحت کی ترجمان سیما سادات لاری نے ان اعداد و شمار کا اعلان کیا۔

آٹھ کروڑ سے زائد آبادی رکھنے والا ملک ایران مشرق وسطیٰ میں کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد پانچ لاکھ 13 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 29 ہزار 300 سے تجاوز کر چکی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں ایران میں کیسز میں اضافے کے بعد تشویش میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ حکام لاک ڈاؤن سے گریز کر رہے ہیں جو پہلے سے امریکی پابندیوں کی شکار ایرانی معیشت کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔

بدھ کو ایران نے پانچ بڑے شہروں میں داخلے اور اخراج پر پابندی لگا دی جن میں تہران اور مشہد شامل ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہان پور نے سرکاری ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس پابندی کا مقصد کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ 

یاد رہے ایرانی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار بھی کرونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جن میں ایران کی اٹامک انرجی ادارے کے سربراہ اور ایران کے نائب صدر شامل ہیں۔

نائب وزیر صحت ایرج حرریچی جو مارچ میں کرونا سے متاثر ہوئے تھے ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ایران میں کرونا سے ہونے والی ہلاکتیں رپورٹ کی جانے والی ہلاکتوں سے دگنی ہیں۔

بدھ کو ہی متحدہ عرب امارات نے مزید 1431 نئے کرونا کیسز کی تصدیق کی ہے جس کے بعد یو اے ای میں کرونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ دس ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بھی 450 ہو چکی ہے۔

عراق میں بھی کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ مصدقہ کیسز کی تعداد تین لاکھ 47 ہزار ہو چکی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا