امریکہ: صدارتی مباحثے میں مداخلت روکنے کے مائیک بند رکھنے کا فیصلہ

ستمبر میں ہونے والے مباحثے میں صدر ٹرمپ نے اپنے حریف جو بائیڈن کے خطاب میں 71 مرتبہ مداخلت کی تھی جب کہ بائیڈن نے ٹرمپ کو 22 بار روکا تھا۔

اس مرتبہ ہر امیدوار کو میزبان کے سوالات کا جواب دینے کے لیے دو منٹ دیے جائیں گے، جس دوران دوسرے امیدوار کا مائیک بند رکھا جائے گا (اے ایف پی)

امریکہ میں صدارتی مباحثوں کے کمیشن نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ آخری مباحثے کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے ڈیموکریٹ حریف جوبائیڈن کے مائیک اس وقت بند رکھے جائیں گے جب وہ سوالات کا جواب نہیں دے رہے ہوں گے۔ کمیشن کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایسی مداخلت سے بچنا ہے، جس کی وجہ سے گذشتہ مباحثے میں رکاوٹ پیدا ہو گئی تھی۔

اس مرتبہ ہر امیدوار کو میزبان کے سوالات کا جواب دینے کے لیے دو منٹ دیے جائیں گے، جس دوران دوسرے امیدوار کا مائیک بند رکھا جائے گا۔ دونوں امیدواروں کے لیے دو منٹ کا وقت مکمل ہونے پر عام مباحثے کا آغاز ہو گا اور کسی کا مائیک بند نہیں کیا جائے گا۔

مباحثے سے متعلق کمیشن نے ایک بیان میں کہا: 'کمیشن کو امید ہے کہ امیدوار ایک دوسرے کے وقت کا خیال رکھیں گے جس سے مباحثہ دیکھنے والے عوام کے مفاد میں شہری بیانیے کو فروغ ملے گا۔'

دوسری جانب ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینیجر بل سٹپیئن نے کمیشن کے مائیک بند کرنے کے اعلان پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا: 'صدر ٹرمپ متعصب کمیشن کی جانب سے اپنے پسندیدہ امیدوار کو فائدہ پہنچانے کی تازہ کوشش میں قواعد میں آخری لمحمے میں تبدیلی کو خاطر میں لائے بغیر بائیڈن کے ساتھ مباحثے کے لیے تیار ہیں۔'

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ، جوبائیڈن کے بیٹے ہنٹر پر کئی الزامات عائد کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان تمام الزامات کے ثبوت موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا بائیڈن سے اس حوالے سے سوال نہیں کرے گا تو ٹرمپ کریں گے اور بائیڈن کے پاس بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہو گا۔

یاد رہے کہ ستمبر میں ہونے والے گذشتہ مباحثے میں ٹرمپ نے بائیڈن کے خطاب میں 71 مرتبہ مداخلت کی تھی جب کہ بائیڈن نے ٹرمپ کو 22 بارروکا۔ امریکہ میں صدارتی انتخاب تین نومبر کو ہو گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق ٹرمپ نے پیر کو امریکی ریاست ایریزونا میں انتخابی مہم کے دوران متعدی امراض کے شعبے کے اعلیٰ ترین عہدے دار ڈاکٹرانتھنی فاؤچی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ امریکی شہری کرونا (کورونا) وائرس کے خطرے سے نکل آئے ہیں۔ حالانکہ ایک وقت ہلاکت خیز ثابت ہونے والی بیماری تقریباً تمام امریکی ریاستوں میں پھیل چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے سرکاری سائنس دان، جن کا عام احترام کیا جاتا ہے، کا کسی تیاری کے بغیر تجزیہ کیا اور ایک کانفرنس کال کے دوران اپنے مہم چلانے والے عملے کو بتایا کہ فاؤچی ایک 'آفت' ہیں۔

ٹرمپ نے بجا طور پر نوٹ کیا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کے عہدے دار نے ابتدا میں چہرے ڈھاپنے کو غیرضروری قرار دیا تھا۔ بعد میں کہا کہ ماسک سے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ٹرمپ نے کانفرنس کال کے دوران کہا: 'فاؤچی ایک آفت ہیں۔ اگر میں ان کی بات سنتا تو پانچ لاکھ ہلاکتیں ہوتیں۔ اگر کوئی رپورٹر موجود ہے تو آپ اسی طرح سن سکتے ہیں جس طرح میں نے کہا ہے۔ میں کم پروا نہیں کر سکتا تھا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ