ٹائیگر وڈز کی واپسی: ماسٹرز گالف چیمپیئن شپ جیت لی

یہ جیت ان کے کیریئر کی پندرھویں بڑی کامیابی ہے۔

ناکامی کا شکار، معذور ہوجانے والا سٹار ٹائیگر ووڈز ایک بار پھر ماسٹرزچیمپیئن بن گیا ہے۔فائل تصویر: اے ایف پی

گالف کے نامور امریکی کھلاڑی ٹائیگر وڈز نے اتوار کے روز ماسٹرز 2019 گالف چیمپیئن شپ جیت لی۔

صرف دوبرس قبل صورتحال کچھ یوں تھی کہ آگسٹا نیشنل گالف کلب میں دوسری منزل پر چیمپیئنز کے اعزاز میں دیے گئے عشایئے میں جانے کے لیے وڈز کو سیڑھیاں چڑھنے کی خاطر بھی درد سے نجات کا ٹیکہ لگوانے کی ضرورت پیش آئی تھی اور انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ کبھی دوبارہ گالف کھیل سکیں گے۔

ان کی کمرکا چار بار آپریشن ہوا تھا اور انہیں امید تھی کہ اب وہ تاریخ میں اپنے مد مقابل جیک نکلس کے مقابلے کی بجائے اپنے دو بچوں کے ساتھ کھیلا کریں گے۔

لیکن وڈز کے لیے اب سب ایک جگہ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ ان کی زندگی، واپسی اور یہاں تک کہ گالف بھی اور ناکامی کا شکار، معذور ہو جانے والے سٹار ٹائیگر وڈز ایک بار پھر ماسٹرزچیمپیئن بن گئے ہیں۔

انہوں نے  پانچویں بار سبز کوٹ جیتا ہے جو ماسٹرز جیتنے کی ٹرافی ہے۔ یہ جیت ان کے کیریئر کی15ویں بڑی کامیابی ہے، جس کے بعد وہ گالف کے میدان سے باہر آئے، اپنے دس سالہ بیٹے چارلی کو اٹھایا اور اپنی ماں اور 11 سالہ بیٹی سام کو گلے لگایا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ٹائیگر وڈز کا کہنا تھا کہ ’ان کے بچوں کو اپنے والد کی یہ کامیابی کبھی نہیں بھولے گی۔ اس دن کوکون بھول سکتا ہے؟‘

 چیمپیئن شپ میں دوسرے نمبر پر آنے والے  تین کھلاڑیوں میں سے ایک زینڈر شوفل کہتے ہیں کہ ’وہ جس طرح کھیلے، وہ برا نہیں تھا کیونکہ میں نے صرف تاریخ دیکھی تھی۔  کھیل کو اختتام کی جانب بڑھتے، گالف کے میدان کے تاریخی ہولز اور ٹائیگر کودھاڑتے دیکھنا بہت اچھا تجربہ تھا۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے ماسٹرز چیمپیئن شپ کا مکمل تجربہ حاصل کر لیا ہو۔‘

ٹائیگر وڈز کے لیے گالف میں واپسی دو شاٹس کے اُس خسارے سے بڑھ کر تھی جو انہوں نے میدان میں اُن  پرجوش مداحوں کے سامنے ختم کر ڈالا تھا جو یادوں کوحقیقت میں بدلتے دیکھ رہے تھے۔

ٹائیگر وڈز نے 14 برس قبل ماسٹرز جیتی تھی۔ کسی کھلاڑی کے لیے چیمپیئن شپ میں حصہ لینے میں وقفہ اتنا طویل نہیں ہوا تھا۔ انھوں نے گیارہ برس قبل 2008 میں ٹوری پائن گالف کلب میں یو ایس اوپن میں حصہ لیا تھا، جس کے دوران ان کی بائیں ٹانگ بری طرح زخمی تھی۔

ٹائیگر وڈز نے آخری سات ہولز کے لیے کوئی اہم شاٹ کبھی ضائع نہیں کیا تھا۔ وہ جونہی جیتے حاضرین نے ’ٹائیگر، ٹائیگر‘ کا نعرہ بلند کردیا۔ وہ کیمپ میں موجود لوگوں میں سے زیادہ تر سے گلے نہیں ملے تھے۔

ٹائیگر وڈز کہتے ہیں کہ چند برس قبل جو کچھ ہو چکا تھا، اس کے بعد ان کے دماغ میں سنجیدہ شکوک وشبہات تھے۔ کمرکے چار آپریشنز کے بعد ان کے لیے چلنا، بیٹھنا اورلیٹنا مشکل تھا۔ بقول ان کے: ’میں واقعی کچھ نہیں کرسکتا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جس طرح انھیں گالف کے کھیل میں واپس آنے کا موقع ملا ہے وہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے، جو فلوریڈا کے کورس میں ٹائیگر وڈز کے ساتھ کھیل چکے تھے، نے بھی ان کی کامیابی پر مبارکباد کی دو ٹوئیٹس کیں۔

جوانی کے دور میں ٹائیگر وڈز زیادہ جوان اور صحت مند تھے اور دنیا بھرمیں کھیل کے میدان کی مقبول شخصیت تھے، تاہم انہوں نے جنسی سکینڈل کی وجہ سے اپنی بے داغ ساکھ کھو دی۔ کھیل کی دنیا میں یہ سب سے زیادہ تیز اورجھنجھوڑ دینے والا زوال تھا۔ وہ کمر کے مسائل کی وجہ سے صحت سے محروم ہوگئے اور دو برس تک کسی مقابلے میں حصہ نہیں لے سکے۔

اب ٹائیگر وڈز کی کھیل میں واپسی مکمل ہوچکی ہے اور مقابلہ جاری ہے۔ ان کے حریف نکلاس نے ٹوئٹر پیغام میں لکھا: ’میری طرف سے ٹائیگر کو بڑی شاباش ہو۔ میں ان کے اورگالف کے کھیل کے لیے بہت خوش ہوں۔ یہ بہت اعلیٰ بات ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل