بچے کی پیدائش پر چھٹیوں کا بل: بڑھتی آبادی روکنے کی کوشش؟

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے حال ہی میں میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو بل منظور کیا ہے۔ قانون بننے کی صورت میں بچے کی پیدائش پر ملازمت پیشہ دونوں والدین کو چھٹیوں کا حق حاصل ہو جائے گا۔

بل جو صرف پہلے تین بچوں کی پیدائش پر ملازمت پیشہ ماں اور باپ کو چھٹیوں کا حق دیتا ہے قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر سکے گا (اے ایف پی)

پاکستان کی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے حال ہی میں میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو بل منظور کیا ہے۔ قانون بننے کی صورت میں بچے کی پیدائش پر ملازمت پیشہ دونوں والدین کو چھٹیوں کا حق حاصل ہو جائے گا۔

مذکورہ بل جو صرف پہلے تین بچوں کی پیدائش پر ملازمت پیشہ ماں اور باپ کو چھٹیوں کا حق دیتا ہے قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد قانون کی شکل اختیار کر سکے گا۔

میٹرنٹی ایند پیٹرنٹی لیو بل میں تجویز کردہ چھٹیوں کی تفصیلات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہ صرف ملازمت پیشہ والدین کو بچوں کی پیدائش پر چھٹیوں کا حق دیتا ہے بلکہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کے آگے بند باندھنے کی بھی ایک کوشش ہے۔

گذشتہ سال جنوری میں سینیٹ سے منظور ہونے والے بل کی خالق پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر قرۃالعین مری کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہم لوگوں کو کم بچوں کے لیے مجبور نہیں کر سکتے۔ بلکہ اس پر بات کرنا بھی بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔‘

انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بل کے نتیجے میں بننے والا قانون ملازم پیشہ والدین کو نہ صرف تنخواہ کے ساتھ چھٹیوں کا حق دے گا بلکہ کم بچوں کے لیے ان کی حوصلہ افزائی بھی کرے گا۔  

میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو بل کے تحت پہلے تین بچوں میں سے ہر ایک کی پیدائش پر ماں اور باپ کو ملنے والی چھٹیوں کی تفصیل درج زیل جدول میں بیان کی گئی ہے۔


میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو بل کی پہلی اہم بات یہ ہے کہ اس کے تحت صرف تین بچوں کی پیدائش پر نوکر پیشہ والدین کو چھٹیاں دینے کی تجویز ہے۔ تین سے زیادہ بچوں کی صورت میں ایسی کوئی رعایت موجود نہیں ہو گی۔

بل کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ پہلے سے تیسرے بچے کی پیدائش پر حاملہ یا ماں بننے والی نوکر پیشہ خاتون کی چھٹیوں میں بتدریج کمی کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تین بچوں کی ماں کے چوتھی مرتبہ حاملہ ہونے پر زچگی سے متعلق رخصت کی سہولت موجود نہیں ہو گی۔

پہلے بچے کی پیدائش پر ماں کو چھ ماہ کی زچگی کی چھٹی دی جا سکیں گی جو دوسرے بچے کی پیدائش پر کم ہو کر چار مہینے ہو گی۔ تیسرے بچے کی پیدائش پر زچگی کی چھٹی کو مزید کم  یعنی تین ماہ کرنے کی تجویز ہے۔

مذکورہ بل کے تحت باپ بننے والا ملازمت پیشہ مرد بھی صرف پہلے تین بچوں کی پیدائش پر زچگی سے متعلق چھٹیوں کا حق دار ہو گا۔ تیسرے بچے کی پیدائش کے بعد مزید بچوں کی پیدائش کی صورت میں نوکر پیشہ مرد زچگی کی چھٹیاں حاصل نہیں کر سکیں گے۔

پہلے تین بچوں کی پیدائش پر بچے کے والد کی چھٹیوں کا (ایک ماہ کا) دورانیہ یکساں رکھنے کی تجویز ہے۔

ہر نوکر پیشہ خاتون اپنی ملازمت کے دوران مجموعی طور پر 13 مہینے کی زچگی کی چھٹیاں حاصل کر سکے گی جو تنخواہ کے ساتھ ہوں گی اور ان کا اطلاق سرکاری کے علاوہ نجی اداروں کے ملازمین پر بھی یکساں ہو گا۔

نوکر پیشہ والد اپنی ملازمت کی مدت کے دوران مجموعی طور پر زیادہ سے زیادہ تین مہینے کی چھٹی کا حقدار ہو گا۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ زچگی کی چھٹیاں ملازمت پیشہ افراد کو حاصل دوسری چھٹیوں کے حق کے علاوہ ہو گا۔

حاملہ یا ماں بننے والی خاتون کی چھٹیوں میں ہر بچے کی پیدائش پر کمی ظاہر کرتی ہے کہ بل بنانے والوں کے ذہن میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی کا خیال موجود تھا اور مجوزہ قانون کا مقصد ملازمت پیشہ مرد اور خواتین کو کم بچے پیدا کرنے کی طرف راغب کرنا بھی ہو گا۔

قرۃالعین مری نے کہتی ہیں کہ پاکستان کی آبادی غیر معمولی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس کا کنٹرول کیا جانا بہت ضروری ہے۔

پاکستان کی آبادی کا اندازہ 22 کروڑ سے زیادہ لگایا جاتا ہے جو بھارت کے علاوہ باقی تمام جنوبی ایشیائی ملکوں سے زیادہ ہے۔

جنوبی ایشیا میں آبادی میں اضافے کی شرح کے لحاظ سے پاکستان سب سے آگے ہے یعنی اس کی آبادی سب سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عالمی بنک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی آبادی میں اضافے کی شرح دو فیصد سے زیادہ ہے جو دوسرے تمام جنوبی ایشیائی ممالک سے زیادہ ہے اور جنوبی ایشیا کی آبادی میں اضافے کی مجموعی شرح سے دگنی ہے۔

مردوں کو چھٹیوں کی کیا ضرورت؟

میٹرنٹی اینڈ پیٹرنٹی لیو بل میں پہلی مرتبہ باپ بننے والے نوکر پیشہ مردوں کو زچگی کی چھٹیوں کا حق دینے کی تجویز ہے جس پر کئی ایک اعتراضات بھی کیے جا رہے ہیں۔

قرۃالعین مری حاملہ یا ماں بننے والی خاتون کے شوہر کو بھی زچگی سے متعلق چھٹیوں کا حقدار مانتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیدا ہونے والے بچے کے ساتھ وقت گزارنے کا باپ کا بھی حق ہے اور یہ بہت ضروری عرصہ ہوتا ہے جب عام طور پر ہمارے معاشرے میں مرد اپنے نومولود بچوں سے نوکری کی وجہ سے دور رہتے ہیں۔

’باپ نومولود بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزارے تو دونوں میں ایک بانڈ (تعلق) بنتا ہے جو اس رشتے کے لیے ضروری ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان