ماں کے ہاتھوں دھتکارا جانے والا 'ٹینڈا' اب کیسا ہے؟

لاہور کی رہائشی عروسہ وحید گذشتہ سات برس سے سڑکوں پر موجود لاوارث پرندوں، بلیوں اور کتوں کو بچاتی اور انہیں طبی سہولیات فراہم کرتی ہیں۔

'سات ماہ پہلے مجھے ایک فون کال آئی کہ سڑک کنارے ایک بلی کا بچہ بری حالت میں موجود ہے، لہذا میں اس کی مدد کروں۔ جب میں بتائی گئی جگہ پر پہنچی تو دیکھا کہ ایک بلی اپنے تین بچوں کو سمٹائے بیٹھی تھی مگر ایک بچے کو اس نے خود سے دور کچھ فاصلے پر رکھ چھوڑا تھا۔ وہ اسے نہ بلا رہی تھی، نہ پیار کر رہی تھی اور نہ ہی اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ماں کے دھتکارے اس بچے کی طرف نظر پڑی تو یوں لگا جیسے گوشت کا لوتھڑا پڑا ہو۔'

'تقریباً ایک ماہ کا یہ بچہ بالکل گنجا تھا اور اس کی جلد پر پھپھوندی لگی تھی۔ وہ تکلیف میں تھا۔ بولنے کے لیے منہ کھولتا مگر شاید نقاہت کی وجہ سے اس کے منہ سے آواز نہیں نکل پا رہی تھی۔ میں اسے وہاں سے اٹھا کر چل پڑی اور اس کی ماں لاتعلقی اور بیگانگی سے اسے جاتا دیکھتی رہی۔'

عروسہ وحید سے ہماری ملاقات لاہور میں 'انسداد بے رحمی حیوانات' نامی ادارے میں ہوئی، جہاں وہ اس بلی کے بچے کو معمول کے چیک اپ کے لیے لے کر آئی تھیں، جس کی عمر اب سات ماہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ سات برس سے سڑکوں پر پڑے لاوارث پرندوں، بلیوں اور کتوں کو بچاتی اور انہیں طبی سہولیات فراہم کرتی ہوں۔

'میرے پاس بہت سی بلیاں ہیں۔ جب یہ بلی کا بچہ مجھے ملا تو اس کے جسم پر کوئی بال نہیں تھے تو میں نے اس کا نام 'ٹینڈا' رکھ دیا۔ اب اتنی بلیاں ہیں کہ ان کے نام سوچ کر رکھنے مشکل ہو جاتے ہیں۔'

'ٹینڈا' نامی یہ بلی کا بچہ ہے تو سات ماہ کا مگر عروسہ کے مطابق یہ اپنی صحت کے حساب سے صرف تین ماہ کا لگتا ہے۔ 'مجھے وقت کے ساتھ معلوم ہوا کہ ٹینڈا گونگا ہے۔ جب سے یہ میرے پاس آیا ہے اس نے کوئی آواز نہیں نکالی۔ اسے کوئی تکلیف ہو، انجیکشن لگے یا اگر غلطی سے اس کی دم یا پنجے پر کسی کا پاؤں آجائے تو یہ منہ کھولتا ہے مگر آواز نہیں نکلتی۔ اس سے مجھے معلوم ہوا کہ یہ گونگا ہے۔ ہاں سنتا ضرور ہے کیونکہ جب میں اسے بلاتی ہوں تو یہ بھاگ کر میرے پاس آجاتا ہے۔'

عروسہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے کچھ ڈاکٹروں سے بھی اس بارے میں بات کی ہے مگر ان کا کہنا ہے کہ اس کے گونگے پن کا کوئی علاج نہیں۔ 'البتہ میں اسے طاقت کی ادویات اور ٹانک باقاعدگی سے دے رہی ہوں تاکہ اس کی صحت بہتر رہے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ٹینڈے کا بچنا کسی معجزے سے کم نہیں۔'

عروسہ کے مطابق کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے اس بلی کے بچے کے علاج میں کافی دشواریاں ہوئیں۔ 'میں اسے انسداد بے رحمی حیوانات کے ادارے نہیں لاسکتی تھی کیونکہ کرونا کی وجہ سے یہ بند تھا، اس لیے مجھے اسے مختلف نجی ہسپتالوں میں لے کر جانا پڑا۔ مجھے یاد ہے کہ میں اسے گاڑی میں لے کر ہسپتال جارہی تھی تو مجھے اشارے پر پولیس والوں نے روک لیا۔کہنے لگے کہ کرونا چل رہا ہے آپ کہاں جارہی ہیں۔ پھر میں نے انہیں ٹینڈا دکھایا اور بتایا کہ کہ اگر یہ بروقت ہسپتال نہ پہنچا تو مرجائے گا۔ انہوں نے اسے دیکھ کر مجھے جانے کی اجازت دے دی۔'

عروسہ نے بتایا کہ نجی ہسپتالوں میں ٹینڈے کے علاج کے لیے انہیں کافی پیسے خرچ کرنے پڑے مگر 'انسداد بے رحمی حیوانات' میں انہیں علاج کی سہولیات انتہائی کم قیمت میں مل جاتی ہیں، خاص طور پر ان جانوروں کی نس بندی کا کام خاصے مناسب داموں میں ہو جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا: 'ہم انسان پیدا ہوئے ہیں اس میں ہمارا کوئی کمال نہیں اور اگر یہ جانور پیدا ہوئے ہیں تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں، انہیں ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور کے ادارے انسداد بے رحمی حیوانات کے ادارے میں لاوارث گھوڑوں، گدھوں کو تو لایا جاتا ہی ہے مگر حال ہی میں انہوں نے یہاں آوارہ کتوں اور بلیوں کو بھی بچانا شروع کیا ہے۔ یہاں موجود بلیوں کو  کھانے کے ساتھ علاج کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔

اس ادارے سے منسلک ویٹنری ڈاکٹر محمد طلحہ سجاد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس ادارے نے اب بلیوں اور کتوں کے لیے بھی جگہ بنائی ہے اور انہیں صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ان کی نس بندی کا کام بھی کیا جارہا ہے۔

ڈاکٹر طلحہ کہتے ہیں کہ ان جانوروں کو لاوارث چھوڑنے کی بجائے بہتر ہے کہ آپ ان کو اس ادارے میں چھوڑ جائیں تاکہ ان کی تکلیف کو کم کیا جاسکے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 'لاہور کے کچھ کالجوں کی طالبات یہاں رضاکارانہ طور پر آتی ہیں اور ان لاوارث بلیوں اور کتوں کی دیکھ بھال میں ہماری مدد کرتی ہیں اور ان کے ساتھ وقت گزارتی ہیں۔ وہ ان کے علاج میں بھی مدد کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر انہیں باہر سڑکوں پر کوئی ایسا جانور ملے جو بے یار و مدد گار ہو تو اسے بھی یہاں لے آتی ہیں۔'

ڈاکٹر طلحہ کا کہنا ہے کہ ان جانوروں کی مدد اور علاج کے لیے انہیں مزید جگہ کی ضرورت ہے اس کے لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس ادارے کی مدد کرے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا