’نواز شریف نے فوج میں بغاوت کی کوشش کی اس لیے پارٹی چھوڑی‘

بلوچستان میں ن لیگ کے سابق صدر لیفٹننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ وہ فوج کے خلاف بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتے اور نہ ہی ایسی کسی جماعت میں رہ سکتے ہیں جو ایسی اپیل کرتی ہو۔

لیفٹننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے نوازشریف کے بیانیے سے اختلاف کو استعفیٰ دینے کی وجہ قرار دیا (انڈپینڈنٹ اردو)

پاکستان مسلم لیگ ن کے بلوچستان میں سابق صوبائی صدر لیفٹننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے ہفتے کو پارٹی سے مستعفیٰ ہونے کی وجہ سابق وزیر اعظم اور پارٹی سربراہ نواز شریف کے ‘فوج مخالف’ بیانیے کو قرار دیا ہے۔ 

ہفتے کو کوئٹہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ نوازشریف نے پاکستان فوج کو ہر حکم آئین کے مطابق دیکھنے کا مطالبہ کرکے ادارے کے اندر بغاوت کرانے کی کوشش کی۔

 انہوں نے کہا کہ ن لیگ سے راستے جدا کرنے کی اصل وجہ وہ اپیل تھی جو نواز شریف نے ایک جلسے سے خطاب میں کی کہ فوج کے سپاہی سے  لے کر افسران تک کسی بھی حکم کو آئین کے مطابق دیکھ کر اس پر عمل کریں۔ ’میں اسے بغاوت کر جنم دینے کی کوشش سمجھتا ہوں۔‘ 

انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا ’میں پاکستان فوج کے خلاف بغاوت کا سوچ بھی نہیں سکتا، نہ ہی ایسی کسی جماعت میں رہ سکتا ہوں جو ایسی اپیل کرتی ہو۔‘ انہوں نے 25 اکتوبر کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے کوئٹہ میں ہونے والے جلسے میں نوازشریف کے خطاب سے اختلاف کو استعفیٰ دینے کی وجہ قرار دیا۔ 

نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ پی ڈی ایم ریاست کے اندر ریاست کی بیماری اور پاکستان فوج کی طاقت کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے والوں کے خلاف ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوج میں سپاہی سے لے کر بڑے عہدوں پر فائز افسروں سے ایسے کام لیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ ملک وقوم کو بڑے نقصانات کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ 

نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا نام لے کر کہا کہ انہیں 2018 کے الیکشن میں ’دھاندلی اور حکومت کی ناکامیوں کا جواب دینا ہوگا۔‘ انہوں نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض کا نام بھی لیا اور الزام عائد کیا کہ انہیں ایک حاضر سروس جج پر دباؤ ڈالنے اور مجھے اور مریم نواز کو جیل میں رکھنے کی درخواست کرنے کا جواب دینا ہوگا۔ 

واضح رہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد عبدالقادربلوچ اور سابق وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری کے استعفے دینے کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ قادربلوچ نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’میں اپنے چیف کی بے عزتی برداشت نہیں کرسکتا۔ اگر میرا باپ بھی فوج کے اندر بغاوت کی بات کرے تو نہیں مانوں گا۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ورکرز کنونشن سے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان اور مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما نواب ثنا اللہ زہری نے بھی خطاب کیا اور پارٹی سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بناتےہوئے کہا کہ ’ان کی فطرت میں لوگوں کا دھوکہ دینا ہے، جنہوں نے ان کے ساتھ اچھائی کی انہی کو دھوکہ دیتے ہیں۔‘

ورکرز کنونشن میں نواب ثناء اللہ زہری کے حلقے سے اور دیگر علاقوں سے ان کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور جلسے کے دوران بڑے نظم و ضبط کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ 

ابھی تک قادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری نے اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں بتایا البتہ استعفی دینے کے بعد قادر بلوچ کو پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر علی مدد جتک نے اپنی جماعت میں شمولیت کی دعوت دی تھی۔ 

دوسری جانب مسلم لیگ ن بلوچستان کے جنرل سیکرٹری جمال شاہ کاکڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عبدالقادربلوچ اور نواب ثنا اللہ زہری کے پارٹی چھوڑنے کے فیصلے پر دکھ ہوا۔ 

 ‘آج پارٹی کی بہترین ساتھیوں کے استعفے پاکستان مسلم لیگ ن اور ہمارے لیے باعث دکھ ہیں۔ تاہم جمہوریت میں ہر شخص کو اپنا فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ بلوچستان میں مہمان نوازی کی روایت کے ساتھ ساتھ راتوں رات پارٹیاں بدلنے کی روایت بھی موجود ہے۔ عام انتخابات کے موقعے پر ن لیگ کے ساتھ جو کچھ بلوچستان میں ہوا وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔’ 

  کاکڑ نے پی ڈی ایم کے جلسے میں نواب ثنا اللہ زہری کے شرکت نہ کرنے کے بارے میں کہا کہ اس حوالے سے 24 اکتوبر کو ہی بات چیت کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ‘نواز شریف نے درخواست کی کہ پی ڈی ایم چونکہ نئی نئی تحریک ہے، نہیں چاہتے کہ اس میں دراڑیں پڑیں لہٰذا نواب ثنا اللہ زہری میں جلسے میں شرکت نہ کریں۔’ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست