نوازشریف کا فوج پرعمران خان کوالیکشن میں کامیاب کروانےکا الزام

سابق وزیر اعظم نے گوجرنوالہ میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب میں آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘آپ نے اپنی مرضی سے ایک نااہل ٹولہ اس قوم پر مسلط کیا، جس کے نتیجے میں ہونے والی بربادی کے ذمہ دار آپ ہیں اور اس کا جواب آپ کو ہی دینا ہوگا۔’

نواز شریف نے برطانیہ سے گوجرانوالہ جلسے سے خطاب کیا۔

گوجرانوالہ میں جمعے کی رات اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب میں حزب اختلاف کے قائدین نے حکومت اور ریاستی اداروں پر شدید تنقید کی۔ ایک طرف جہاں پانامہ کیس میں نااہلی کے بعد معزول ہونے والے سابق وزیراعظم نواز شریف پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے 'جواب' مانگتے نظر آئے، وہیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بھی ’کلمہ حق‘ بلند کرنے کا اعلان کیا۔

حزب اختلاف کی نو جماعتوں نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے کے لیے گذشتہ ماہ پی ڈی ایم کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا تھا، جس کے موجودہ سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف کے مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ اس اتحاد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ دھاندلی اور فوج کی حمایت سے اقتدار پر قابض ہے۔

دوسری جانب بدعنوانی کے خلاف جنگ کا اعلان کر کے اقتدار میں آنے والے وزیر اعظم عمران خان فوج کی حمایت سے انتخابات جیتنے کے الزام سے انکار کرتے ہیں۔ انہوں نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا ’وہ حزب اختلاف کی اس مہم سے نہیں ڈرتے، جس کا مقصد اپنے رہنماؤں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات کو بلیک میلنگ کے ذریعے ختم کرانا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا: 'کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ ڈاکوؤں کو این آر او دے دوں اور زندگی آسان ہو جائے لیکن یہ تباہی کا راستہ ہے۔'

جمعے کو پی ڈی ایم کے مرکزی قائدین کے پہنچنے سے چند گھنٹوں پہلے ہی گوجرانوالہ کا جناح سٹیڈیم سینکڑوں کارکنوں سے بھر گیا تھا، جو حکومت مخالف نعرے بلند کرتے رہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے مرکزی اجتماع میں شامل ہونے کے لیے الگ الگ ریلیوں کی قیادت کی۔

جلسے میں لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں نواز شریف نے تنقید کرتے ہوئے کہا: ’آئین شکن دندناتے پھرتے ہیں لیکن ان سے کوئی کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ ایک ڈکٹیٹر کو آئین شکنی پر سزا ملی لیکن اس عدالت کو ہی تحلیل کردیا گیا، دوسری طرف منتخب نمائندوں سے تضحیک آمیز سلوک کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا: ’میں حیران ہوتا ہوں کہ جتنا وقت آئین توڑنے والوں نے سازشوں میں ضائع کیا، اس کا آدھا بھی ملک کے دفاع میں صرف کیا ہوتا تو ملک بچ جاتا۔‘

گوجرانوالہ کے لوگوں کو مخاطب کرکے نواز شریف نے کہا کہ ’کچھ لوگوں کی خواہش ہے کہ میری آواز آپ تک اور آپ کی آواز مجھ تک نہ پہنچے لیکن وہ اپنے مذموم مقاصد میں ناکام رہیں گے، کیونکہ میرا آپ لوگوں کے ساتھ گہرا رشتہ ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے اپنے خطاب میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غریب آدمی کی مشکلات دیکھ کر ان کا دل روتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا: ’ان تمام مصیبتوں، اس تباہی کا ذمہ دار کون ہے، اس بربادی پر عوام کس کا گریبان پکڑے؟ عمران نیازی کا یا انہیں لانے والوں کا؟

’ہمیں یہ غدار قرار دیتے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں، پاکستان بننے سے لے کر آج تک ڈکٹیٹروں نے سیاست دانوں کو ان ہی تمغوں سے نوازا ہے، کبھی مادر ملت، کبھی حسین سہروردی، کبھی باچا خان، کبھی مری، کبھی بزنجو غدار بنائے گئے اور جب یہ الزام شیخ مجیب الرحمٰن پر لگایا گیا تو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔‘

ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا: ’لیکن غدار کون ہے؟ سیاست دان۔ غدار کون ہے؟ نواز شریف۔ غدار کون ہے؟ بے نظیر بھٹو۔ غدار کون ہے؟ اکبر بگٹی یا محمود خان اچکزئی جو ہمیشہ آئین اور دستور کی بات کرتے ہیں جبکہ محب وطن کون ہیں جنہوں نے ملک کو دو ٹکڑے کردیا۔‘

نواز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستانی فوج کے سربراہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’قمر جاوید باجوہ آپ ہی اس قوم کی مصیبتوں کا موجب ہیں۔‘ انہوں نے کہا: ’آپ نے ہماری حکومت کو چلتا کروایا، ججوں سے زور زبردستی سے فیصلے آپ نے کروائے، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس شوکت عزیر صدیقی کے خلاف اقدامات آپ کی ایما پر کیے گئے، آپ نے اپنی مرضی سے ایک نااہل ٹولہ اس قوم پر مسلط کیا، جس کے نتیجے میں ہونے والی بربادی کے ذمہ دار آپ ہیں اور باجوہ صاحب اس کا جواب آپ کو ہی دینا ہوگا۔‘

آخر میں انہوں نے کہا کہ 'پی ڈی ایم ووٹ کو عزت دلا کر رہے گی۔'

فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں: مولانا فضل الرحمٰن

جلسے سے خطاب میں پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم کے اس بیان پر کہ اپوزیشن کے بیانات پر بھارت میں خوشیاں منائی جاتی ہیں، ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ 'بھارت نے اس وقت خوشی منائی تھی جب انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی، جب ایک جعلی وزیراعظم کو پاکستان پر مسلط کیا گیا تھا، جب پاکستان میں جمہوریت کا خون ہو رہا تھا، تو بھارت تب خوش ہو رہا تھا۔'

مولانا نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا کہ 'پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے، یہ کس کا ایجنڈا ہے۔ آپ پاکستان کے ایجنڈے پر اقتدار میں نہیں آئے۔ آپ یا تو اسرائیل یا امریکہ کے ایجنڈے پر اقتدار میں آئے۔ آپ کسی بیرونی قوت کے ایجنڈے پر ہیں۔'

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا: 'فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں، لیکن اگر آپ دفاع کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے ہٹ کر سیاست میں مداخلت کرتے ہیں، آئین کو پامال کرتے ییں، دھاندلیاں کراتے ہیں تو پھر آپ کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا ہمارا نہیں تو کس کا کام ہے۔'

عمران خان صفحہ پلٹتے دیر نہیں لگتی: مریم نواز

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جلسے سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 'وہ جو کرپشن کرپشن کا راگ الاپتے ہیں، جب ان کی کرپشن کی داستانیں باہر آئیں گی تو لوگ کانوں کو ہاتھ لگاکر دوڑ لگا دیں گے۔'

مریم نواز نے کہا کہ 'عمران خان آپ کہتے ہیں کہ سارے اداروں کے ساتھ آپ ایک صفحے پر ہیں تو عمران خان یاد رکھو کہ صفحہ پلٹتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔'

یہ کیسی تبدیلی ہے؟ بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'دو سال میں کون سی تبدیلی آئی؟آج وہ کسان جو گندم اگاتا ہے، اس کے پاس دو وقت کی روٹی نہیں، مزدور کے بچوں کے سر پر چھت نہیں، یہ تبدیلی ہے کہ پاکستان کی معیشت تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ تبدیلی یہ ہے کہ آج پاکستان میں تاریخی مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ہے۔'

بلاول نے کہا: 'یہ ہے عمران اور ان کے سلیکٹرز کی تبدیلی۔ ہر چیز کا بحران ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ یہ ماضی کے حکمرانوں کا قصور ہے، میں پوچھتا ہوں کہ کیا سرٹیفائیڈ غدار مشرف نے بحران نہیں چھوڑا تھا۔ ہر دوسرے دن دہشت گردی کے حملے ہوتے تھے لیکن ہم نے بی بی (بے نظیر بھٹو) کا وعدہ نبھایا اور سوات میں پاکستان کا پرچم لہرایا۔'

پیپلز پارٹی چیئرمین نے وزیراعظم کی ٹائیگر فورس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے نزدیک مہنگائی یا کرونا وائرس سمیت ہر مسئلے کا حل ٹائیگر فورس ہے۔

کرونا ایس او پیز کا کیا ہوا؟

اپوزیشن کی ملک گیر احتجاجی مہم ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب کرونا کی وبا ملک میں دوبارہ سے سر اٹھا رہی ہے۔ پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے، مہنگائی دوہرے ہندسوں کو چھو رہی ہے اور منفی شرح نمو سے ملک کی اقتصادی حالت بدترین صورت حال کا سامنا کر رہی ہے۔

پنجاب حکومت نے ان ہی ریلیوں اور جلسوں کو مدنظر رکھتے ہوئے چند روز قبل کچھ ایس اوپیز جاری کیے تھے جن کے مطابق:

۔ ریلیوں اور جلسوں میں جگہ کے حساب سے شرکا کو شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

۔ بچوں، بزرگوں اور کسی بھی بیماری میں مبتلا افراد کو شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

۔ کسی بھی تقریب میں ہاتھ دھونے کا انتظام، سینیٹائزر، ٹشو، کوڑے دان کا ہونا لازم ہے۔

۔ سماجی فاصلے کولازمی برقرار رکھا جائے اور ہاتھ ملانے اور بغل گیر ہونے سے گریز کیا جائے۔

 ۔ بلاضرورت کسی بھی چیز کی سطح کو پکڑنے یا چھونے سے اجتناب کریں۔

۔ پر ہجوم جگہوں یا اجتماعات کے دوران  ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے کھانسنے یا چھینکنے سے گریز کریں۔

۔ تقریب کے تمام شرکا، آرگنائزرز، سٹاف، سپیکر، لیڈر اور سرونگ اسٹاف  کے لیے ماسک کا استعمال لازمی ہے۔

۔ کوشش کریں کہ شرکا کی تعداد مختصر ہو، سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کے لئے ترجیحاً  فلور مارکنگ کریں۔

۔ ہائی رسک اجتماعات کے دوران تقریب سے 72 گھنٹے قبل سپیکر کا کرونا ٹیسٹ لازماً منفی ہونا چاہیے۔

۔ تقریب کے شرکا کا پہلے تھرمل سکینر سے ٹمپریچر لازمی چیک کیا جائے گا۔

۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کی جانب سے ایس و پیز کے نفاذ پر کڑی نگرانی کی جائے گی۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے جمعے کو ایک نجی چینل سے گفتگو میں کہا کہ ’جلسے کے لیے کسی حکومت نے کبھی ایسا تعاون نہیں کیا جیسا ہم نے کیا، لیکن کسی قسم کے ایس او پیز فالو نہیں کیے گئے، یہی وجہ ہے کہ اس جلسے کی وجہ سے کرونا وائرس دوبارہ پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔‘

گوجرانوالہ کے جلسے میں کرونا وائرس ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورت حال جاننے کے لیے انڈپینڈنٹ اردو نے کوریج کے لیے موجود چند صحافیوں سے بات کی۔

اے آر وائے کی نیوز خصوصی نامہ نگار اور پروڈیوسر رابعہ نور نے بتایا کہ ’بہت لمبے عرصے کے بعد کسی سیاسی  ریلی یا جلسے کی کوریج کا موقع ملا ہے۔ گھر سے چلنے سے پہلے کافی خوف تھا جو جلسہ گاہ پہنچ کر اور بھی زیادہ ہو گیا۔ ہم نے تو ماسک پہنے بھی ہوئے ہیں اور اضافی ماسک اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن یہاں آنے والے لوگوں میں سے کوئی بھی ایس او پیز کا دھیان نہیں رکھ رہا۔‘

رابعہ نے بتایا: ’جب صبح میں جلسہ گاہ پہنچی تو بہت کم لوگ تھے لیکن جیسے جیسے رش بڑھنا شروع ہوا تو محسوس ہوا کہ اگر کوئی ایس اوپیز پر چل بھی رہا ہو تو یہاں کرونا وائرس سے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں ہو سکتی خاص طور پر اگر یہاں کوئی وائرس سے متاثرہ شخص موجود ہوا تو۔‘

ایکسپریس نیوز کے نمائندے آصف محمود نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’اللہ کا نام لے کر نکلے ہیں کیونکہ ایک لمبے عرصے کے بعد جلسہ کور کرنے کا موقع مل رہا ہے۔ ظاہری بات ہے اس بات کی خوشی بھی تھی کی بڑی خبر ہے، مگر یہ بات بھی ہم نہیں بھول سکتے کہ اس قسم کے اجتماعات میں آپ سماجی فاصلہ برقرار نہیں رکھ سکتے۔ ہم صحافی بھی کتنا فاصلہ رکھ سکتے ہیں۔ خبر کرنی ہے، انٹرویوز کرنے ہیں، اس کے لیے جلسے کے ہجوم میں تو اترنا پڑے گا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’جامعیہ اشرفیہ میں جب مولانا فضل الرحمٰن کی ریلی کے شرکا آئے تو وہاں کافی سختی دیکھنےمیں آئی۔ بغیر ماسک کے کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن وہاں سے قافلے نکلنے کے بعد سے گوجرانوالہ کے راستے میں جتنے قافلے نظر آئے ان میں اِکا دُکا افراد نے ہی ماسک پہنے تھے۔ یہاں تک کہ مولانا اور ان کے ساتھیوں تک نے پریس کانفرنس کے دوران ماسک نہیں پہنے تھے۔‘

آصف کے خیال میں: ’اب اس وقت ضلعی انتظامیہ کچھ نہیں کر سکتی اور نہ ہی پولیس کچھ کر پائے گی، ہاں جلسے کے بعد وہ کوئی کارروائی کریں تو الگ بات ہے۔‘

جی این این کے سینیئر سیاسی رپورٹر عاصم نصیر  کہتے ہیں کہ وہ اس جلسے کو کور کرنے کے لیے تمام ایس او پیز کی پیروی کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: ’میں نے ماسک بھی پہنا اور کسی کے ساتھ ہاتھ بھی نہیں ملایا۔ ایک بڑے لمبے عرصے کے بعد ایک سیاسی سرگرمی اتنے بڑے پیمانے پر ہو رہی ہے، لیکن ایس او پیز پر چند ہی لوگ عمل کر رہے ہیں۔‘

عاصم نے بتایا کہ ’وہ جاتی عمرہ سے قافلے کے ساتھ تھے۔ وہاں جمعے کی نماز کے دوران ریلی کے شرکا نے ماسک پہن رکھے تھے۔ لیکن جیسے ہی ریلی جاتی عمرہ سے نکلی، سب نے اپنے ماسک اتار دیے۔ عوام کے اتنے بڑے حجوم کے اندر بہت مشکل ہے کہ سماجی فاصلہ برقرار رکھا جاسکے، کیونکہ جب ہم کسی سیاست دان کا انٹرویو کرتے ہیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست