’نواز شریف نے کرداروں اور اداروں کے درمیان لکیر کھینچ دی‘

پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت کئی جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قائدین نے کراچی کے باغ جناح میں اپنے دوسرے جلسے میں ایک بار پھر حکومت پر شدید تنقید کی۔

اپوزیشن جماعتوں کے کارکن اپنے اپنے  سیاسی پرچموں کے ہمراہ جناح گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ (تصویر: پیپلز پارٹی فیس بک پیج)

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے قائدین نے کراچی کے باغ جناح میں اتوار کو اپنے دوسرے جلسے میں ایک بار پھر حکومت پر شدید تنقید کی اور ان کی تقاریر کا محور زیادہ تر گوجرانوالہ جلسے کے ردعمل میں کی گئی وزیراعظم عمران خان کی تقریر رہی۔

حزب اختلاف کی نو جماعتوں نے حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاج شروع کرنے کے لیے گذشتہ ماہ پی ڈی ایم کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا تھا، جس کے سربراہ جمعیت علمائے اسلام ف کے مولانا فضل الرحمٰن ہیں۔ اس اتحاد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ دھاندلی اور فوج کی حمایت سے اقتدار پر قابض ہے۔

جمعہ 16 اکتوبر کو پی ڈی ایم نے گوجرانوالہ میں اپنا پہلا جلسہ کیا تھا، جس کے دوران مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے لندن سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب میں سکیورٹی سٹیبلشمنٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے اور ’عمران خان کو اقتدار میں لانے‘ کا الزام لگایا تھا، جس کے ردعمل میں وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف باتیں کرکے انتشار پھیلانے والوں کی ساری گیم سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک 'نئے عمران خان' کے طور پر سامنے آنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اب وہ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کریں گے۔

حکومت کے خلاف اس مہم کے تحت اپنے دوسرے جلسے کے لیے پی ڈی ایم نے کراچی کے باغ قائد المعروف باغ جناح کا انتخاب کیا، جس میں شرکت کے لیے سندھ بھر سے پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنان کی بڑی تعداد قافلوں کی صورت میں کراچی پہنچی۔

باغ جناح میں جلسے سے خطاب کے دوران مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کی گذشتہ روز کی تقریر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ  'کل ایک شخص چیخ چیخ کر اپنی ناکامی اور اپنی شکست کا ماتم کر رہا تھا۔ ابھی تو ایک ہی جلسہ ہوا ہے، لوگوں کو کہتے تھے کہ گھبرانا نہیں اور گوجرانوالہ کے ایک جلسے سے گھبرا گئے۔'

انہوں نے عمران خان کو مخاطب کرکے کہا: 'جب تمہاری ناکامیوں کے بارے میں پوچھا جائے تو فوج کے پیچھے چھپ جاتے ہو، تم فوج کو آلودہ کرتے ہو، تم فوج پر انگلیاں اٹھانے والوں کو تقریت دیتے ہو۔ تمہں یہ حق کس نے دیا ہے، کیا فوج عمران خان کی ہے؟ کیا فوج تحریک انصاف کی  ہے؟ تمہں کس نے حق دیا ہے کہ فوج کی ترجمانی کرو؟'

مریم نواز نے مزید کہا کہ 'ایسا شخص جس کا ہاتھ امیر دوستوں کی جیب میں ہو، اسے کسی پر الزام لگانے کا کوئی حق نہیں۔'

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'نواز شریف نے کرداروں اور اداروں کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی ہے۔ سپاہیوں اور قربانیاں دینے والوں کو نواز شریف اور مریم نواز سلام کرتے ہیں۔۔۔ اگر آپ کہیں کہ شہید کو سیلوٹ کرو تو دونوں ہاتھوں سے کریں گے، آئین اور حلف پر چلنے والے سپاہی، کرنل، میجر جنرل کو دونوں ہاتھوں سے سیلوٹ کریں گے لیکن اگر عوام کے ووٹوں کو بوٹوں کے نیچے روند کر آنے والوں کو سلام کرنے کا کہیں گے تو یہ ہم سے نہیں ہوگا۔'

وزیراعظم عمران خان کی کل کی تقریر میں انہیں 'نانی' کہنے پر مریم نواز نے ردعمل دیتے ہوئے کہا: 'کل انہوں نے ایسی بات کی جو میرا مذاق اڑانے کی غرض سے کی گئی لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ میں دو بچوں کی نانی ہوں۔۔۔آپ نے میری نہیں، اس مقدس رشتے کی تضحیک کی۔۔۔۔یہ رشتے نصیب والوں کو اور ان کو ملتے ہیں جو رشتے نبھانا جانتے ہیں، جو خاندان کی اقدار کو جانتے ہیں اور اس کے پابند رہتے ہیں۔'

ان کامزید کہنا تھا کہ 'شہادت سے پہلے بینظیر اور میرے والد کے درمیان بہن بھائی کا رشتہ بن چکا تھا اور اب یہ رشتہ میں اور بلاول نبھا رہے ہیں۔ ہم مخالفت میں اتنا آگے نہیں جائیں گے، جس کی روایات عمران خان نے ڈالی ہیں۔ ہم انتخابی میدان میں لڑیں گے، ذاتی زندگی میں نہیں۔'

ہمیں یہ کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں: مولانا فضل الرحمٰن

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمٰن نے اپنے خطاب میں کہا کہ 'پی ڈی ایم کا مقصد آزاد جمہوری فضاؤں کو بحال کرنا ہے۔۔ ہم علی الاعلان کہتے ہیں کہ ہمیں یہ کٹھ پتلی حکومت قبول نہیں ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'گوجرانوالہ میں تاریخی جلسے میں نواز شریف نے خطاب کیا، جو الیکٹرانک میڈیا پر تو نہیں دکھایا گیا لیکن ان کے کچھ حصوں پر ہمارے کچھ بڑوں کو بڑا اعتراض تھا اور موقع ملا تو کٹھ پتلی نے سوچا کہ ذرا بوٹ پالش کرلیں، لیکن جب بھی بات کرتے ہیں تو کوئی نہ کوئی بونگی مار دیتے ہیں۔'

بقول مولانا: 'کہنا تو یہ چاہتے تھے کہ خواجہ آصف نے اسمبلی کی ممبرشپ کیسے حاصل کی، لیکن اس رو میں کہا کہ رات آٹھ بجے خواجہ آصف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فون کیا کہ میں ہار رہا ہوں تو انہوں نے جتوا دیا، لیکن انہیں اس کا خیال نہیں آیا کہ میں ان ہی کے ہاتھوں سےکی گئی دھاندلی کی تصدیق اور اعتراف کر رہا ہوں۔'

پی ڈی ایم کے صدر نے آرمی چیف کو مخاطب کرکے کہا: 'باجوہ صاحب آپ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، لیکن بے وقوف دوست سے بچیں۔ اگر آج دنیا کو آپ سے شکایت ہے تو اس کی شکایت ہم سے نہیں بلکہ اپنے دوستوں سے کریں۔'

یہ جمہوریت کی لڑائی ہے: بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جلسے سے خطاب میں کہا کہ ‘یہ جمہوریت کی لڑائی ہے۔ جب جمہوریت نہ ہو تو فیصلے عوام کی منشا سے نہیں، چند لوگوں کے لیے کیے جاتے ہیں۔’

بلاول نے کہا: 'سلیکٹڈ وزیراعظم کو مہنگائی کی خبر ٹی وی سے ملتی ہے۔ انہیں عوام کی بھوک نظر نہیں آتی، عوام کا غصہ نظر نہیں آتا۔۔۔ ہمارے سیلاب کے متاثرین آج تک دربدر ہیں، انہں امداد دینا تو دور کی بات وزیراعظم نے ان کا پوچھا تک نہیں۔ مخالفین کے لیے نیب اور سلیکٹڈ وزیراعظم کے دوستوں کے لیے عوام کے  پیسے۔'

پیپلز پارٹی چیئرمین نے کراچی کے لوگوں کو مخاطب کرکے کہا کہ 'وزیراعظم عمران خان نے کراچی کو صرف دھوکہ دیا ہے، ایک ہزار ارب روپے کا پیکج، دھوکہ نکلا، یوٹرن نکلا، اس میں آپ کے لیے ایک روپیہ نہیں ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ 'ہم رات کے اندھیرے میں سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنے پر خبردار کرتے ہیں۔۔ یہ کسی کے باپ کی ملکیت نہیں، یہ جزائر یہاں  کے ماہی گیروں کی ملکیت ہیں۔'

جلسے سے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داوڑ، جمعیت اہل حدیث پاکستان کے رہنما ساجد میر، نیشنل پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالمالک، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سردار اختر مینگل سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیے۔

باغ جناح کراچی میں کس جگہ پر ہے؟

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی آخری آرام گاہ کو عام زبان میں مزار قائد کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کراچی کے وسط میں واقع ہے۔

مزار قائد کے لیے تقریباً 132 ایکڑ کا رقبہ مختص کیا گیا تھا، جس میں مرکزی مزار 61 ایکڑ پر محیط ہے، جبکہ باقی رقبے میں سے مشرق کی جانب موجود 15 ایکڑ پر مشتمل حصے میں جناح پارک تعمیر ہے۔ مرکزی مزار اور جناح پارک کے درمیان نیو ایم اے جناح روڈ گزرتا ہے جبکہ جناح پارک سے جنوب کی جانب دو ایکڑ پر مشتمل جناح فٹ بال گراؤنڈ ہے اور مرکزی مزار کے عین جنوب میں واقع 35 ایکڑ رقبے پر باغ قائد واقع ہے، جسے عام طور پر باغ جناح کے نام سے پکارا جاتا ہے۔باغ قائد اور مرکزی مزار قائد کے درمیاں شاہراہ قائدین واقع ہے۔ 

اطراف میں گزرنے والی سڑکوں کے لیے مزار کے لیے مختص 132 ایکڑ میں سے 16 ایکڑ کا رقبہ دیا گیا ہے، مگر یہ سب جگہیں مرکزی مزار کا ہی حصہ ہیں اور مستقبل میں مزار کی توسیع ہونے کی صورت میں انہیں استعمال کیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی شہر کی مرکزی شاہراہ کے کنارے پر واقع، محرم الحرام کے مرکزی جلوس یا دیگر حتجاجی مظاہروں کے لیے پسندیدہ مقام نمائش چورنگی سے متصل یہ وہ جگہ ہے جہاں کراچی شہر کی چھ بڑی سڑکیں آکر ملتی ہیں اور شہر کے اکثریتی علاقوں کی مسافر بسوں اور نجی گاڑیوں کا گزر اس جگہ سے ہوتا ہے۔ 

وسیع رقبے پر پھیلا باغ جناح چار دیواری میں بند ہے، اس لیے سیاسی جلسوں کی صورت میں سکیورٹی کے لحاظ سے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ باغ قائد کے دو دروازے ہیں، ایک دروازہ مزار قائد کے شاہراہ قائدین پر کھلنے والے باب قائدین دروازے کے سامنے ہے۔ سیاسی جلسوں میں شرکت کے لیے آنے والے کارکنان اسی دروازے سے باغ قائد میں داخل ہوتے ہیں جبکہ دوسرا دروازہ باغ قائد کے عقب میں نیو ایم اے جناح روڈ پر ہے، جہاں سے جلسے کے قائدین کا داخلہ ہوتا ہے۔ 

عام دنوں میں شہر کے نوجوان اس وسیع میدان میں کرکٹ اور فٹ بال کھیلتے نظر آتے ہیں جبکہ گذشتہ چند سالوں سے یہ میدان سیاسی جلسوں کا مرکز بن گیا ہے۔

ماضی میں سیاسی اکھاڑے سمجھے جانے والے کھیلوں کے میدان اب ویران کیوں؟

کراچی میں کھیلوں کے دو میدانوں کو ماضی میں سیاسی اکھاڑا سمجھا جاتا تھا جہاں سیاسی پارٹیاں اپنی قوت کا مظاہرہ کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک لیاری کا ککری گراؤنڈ اور دوسرا سولجر بازار میں واقع نشتر پارک ہے۔

ککری گراؤنڈ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں جلسہ کر کے کراچی میں پارٹی کا پہلا دفتر قائم کیا تھا جبکہ بعد میں جب بینظیر بھٹو 1986 میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کرکے واپس وطن پہنچیں تو انہوں نے بھی سندھ میں پہلا جلسہ ککری گراؤنڈ میں ہی کیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی شادی کی تقریب کے لیے بھی اسی گراؤنڈ کا انتخاب کیا گیا تھا۔

1971 کے عام انتخابات کے دوران جماعت اسلامی نے نشتر پارک میں ایک بڑا اجتماع کیا تھا، اسی طرح الطاف حسین نے 1986 میں نشتر پارک میں جلسہ کرکے مہاجر قومی موومنٹ کی بنیاد ڈالی تھی جو بعد میں متحدہ قومی موومنٹ بن گئی۔

کراچی میں اپریل 2006 میں ایک دھماکے کے نتیجے میں سنی تحریک کے مرکزی قائدین سمیت 60 افراد ہلاک ہوئے تھے، وہ اجتماع بھی نشتر پارک میں ہی منعقد ہوا تھا۔ 

صحافی ضیا الرحمان کے مطابق ماضی کے یہ دونوں سیاسی اکھاڑے اب شہر کی مرکزی شاہراہوں سے دور سمجھے جاتے ہیں، اس لیے سیاسی پارٹیاں اب ان دونوں میدانوں میں جلسے کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ 

انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا: 'شہر کی آبادی بڑھ چکی ہے اور اس کے ساتھ ٹریفک بھی، اس لیے کارکنوں کی سہولت کے لیے سیاسی پارٹیوں نے مرکزی جگہ کو سیاسی جلسوں کے لیے ترجیح دی ہے۔'

باغ جناح میں کتنے بڑے سیاسی جلسے ہوچکے ہیں؟

فروری 2012 میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے 'بااختیار خواتین، خوشحال پاکستان' کے عنوان سے خواتین کا ایک بڑا جلسہ باغ قائد میں کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے اسی مقام پر عمران خان، جنرل پرویز مشرف، مولانا فضل الرحمٰن اور دفاع پاکستان کونسل کے جلسے بھی ہوچکے ہیں۔

2018 کے عام انتخابات کے دوران عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن مہم کا آخری جلسہ بھی اسی گراؤنڈ میں کیا تھا۔

پی ڈی ایم نے باغ جناح کا انتخاب کیوں کیا؟

اس حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر تاج حیدر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ 'ویسے تو یہ جلسہ حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا ہے مگر چونکہ اس کی میزبانی پیپلز پارٹی کر رہی ہے تو پارٹی کو اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بڑے گراؤنڈ کی ضرورت تھی اور کراچی میں اس وقت باغ جناغ سے بڑا کوئی گراؤنڈ نہیں ہے، اس لیے اس جگہ کا انتخاب کیا گیا۔'

ان کے مطابق: 'اس کے علاوہ یہ جگہ شہر کے مرکزی حصے میں واقع ہے، جہاں کارکن آسانی سے پہنچ جاتے ہیں اور پارکنگ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوتا، اس لیے عام طور سیاسی پارٹیاں اس مقام کا انتخاب کرتی ہیں۔'

دوسری جانب صحافی اور تجزیہ کار فیاض نائچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں خیال ظاہر کیا کہ: '2007 میں جب بینظیر بھٹو وطن واپس آرہی تھیں تو اس دن بھی مرکزی جلسہ باغ جناح میں ہونا تھا جو حملوں کے باعث نہ ہوسکا، تو اس لیے پی پی پی نے اس جگہ کا انتخاب کیا ہے تاکہ اس دن کا تسلسل رکھا جائے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'چونکہ اپوزیشن جماعتیں 'قائد اعظم کے پاکستان' کی بات کر رہی ہیں تو مزار قائد سے متصل اس مقام کو علامتی طور پر چنا گیا ہے۔'

فیاض نائچ کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں باغ جناح کراچی میں سیاسی جلسوں کا مرکز سمجھا جانے لگا ہے اور یہاں جلسہ کرنے کا مطلب ہے کہ وہ سیاسی پارٹی کوئی بڑا شو کر رہی ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست