اپوزیشن جماعتیں حکومت اور فوج کو لڑوانا چاہتی ہیں: وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو سب سے زیادہ تکلیف اسی بات کی ہے کہ فوج ہر ضرورت کے وقت حکومت کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔

23 مارچ 2019 کو لی گئی اس تصویر میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ  یوم  پاکستان کے موقع پر منعقدہ فوجی  پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے (تصویر: اے  پی)

وزیراعظم عمران خان نے الزام عائد کیا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعتیں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور فوج کو لڑوانا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ عسکری اور سول قیادت کے درمیان مثالی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

اسلام آباد میں صحافیوں سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کو حزب اختلاف کی جماعتوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

عمران خان نے مزید کہا کہ 'سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ نواز کے رہنما نواز شریف مایوس ہو چکے ہیں اور اسی لیے وہ 'نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے' کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو سب سے زیادہ تکلیف اسی بات کی ہے کہ فوج ہر ضرورت کے وقت حکومت کے پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ نواز شریف سویلین حکومت اور فوج کے درمیان موجود تاریخی ہم آہنگی کو توڑنا چاہتے ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی) میں تقریر پر بھارت میں خوشیاں منائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'نواز شریف مولانا فضل الرحمٰن کو ساتھ اس لیے لے کر چلتے ہیں کیونکہ ان کے پاس لانے کو لوگ نہیں ہیں۔'

وزیر اعظم عمران خان نے یہ بھی کہا کہ فوجی قیادت سے جو بھی ملتا ہے انہیں معلوم ہوتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا: 'میں ان کے متعلق کیا کہوں جو فوجی قیادت سے چھپ کر ملتے ہیں۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ملاقاتوں کی خبریں گردش کرتی رہیں۔

پہلے پہل بدھ کو سیاسی قیادت کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کے بارے میں خبر سامنے آئی اور بعد میں مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی بھی آرمی چیف اور ڈی جی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے ساتھ ملاقاتوں کا احوال سامنے آیا۔

محمد زبیر اور عسکری قیادت کے درمیان ملاقاتوں کے بارے میں پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا تھا۔

جس کے بعد گذشتہ روز پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے حوالے سے ہونے والی قیاس آرائیوں پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ 'آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن، انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔'

جمعرات کو ٹوئٹر پر جاری کیے گئے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ 'حالیہ واقعات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح بعض ملاقاتیں سات پردوں میں چھپی رہتی ہیں اور کس طرح بعض کی تشہیر کرکے مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں۔'

نواز شریف نے کہا کہ 'میں اپنی جماعت کو ہدایات جاری کر رہا ہوں کہ آئین پاکستان کے تقاضوں اور خود مسلح افواج کو اپنے حلف کی پاسداری یاد کرانے کے لیے آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن، انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کےنمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'قومی دفاع اور آئینی تقاضوں کے لیے ضروری ہوا تو پارٹی قیادت کی منظوری کے ساتھ ایسی ہر ملاقات اعلانیہ ہوگی اور اسے خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔'

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست