عربی کے ایک نئے چینل ’الشرق نیوز‘ کا اجرا

’بلوم برگ‘ کے اشتراک سے ظاہر ہے کہ ’الشرق نیوز‘ کا ارتکاز کاروبار اور مالیات پر ہو گا، لیکن ادارے کے سربراہوں نے کہا ہے کہ وہ عمومی خبروں، تجزیوں اور عام دلچسپی کے موضوعات پر بھی توجہ دیں گے۔

الشرق کی مرکزی نیوز اینکر زينت يازجی نے کہا کہ چینل کا ہدف ناظرین کو نقطۂ نظر فراہم کرنا ہے، کوئی عام نقطۂ نظر نہیں، بلکہ وہ جو مصدقہ اطلاعات پر مبنی ہو۔‘ (Supplied) 

مشرقِ وسطیٰ میں عربی زبان کے چینلوں میں ایک اور اضافہ ہوا ہے اور اب ’الشرق نیوز‘ نے امریکی چینل ’بلوم برگ نیوز‘ اور سعودی ریسرچ اینڈ مارکیٹنگ گروپ کے اشتراک سے نشریات شروع کر دی ہیں۔

 یہ چینل عربی زبان میں ہو گا اور اس کا مواد انٹرنیٹ پر اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر نشر کیا جائے گا۔

’بلوم برگ‘ کے اشتراک سے ظاہر ہے کہ ’الشرق نیوز‘ کا ارتکاز کاروبار اور مالیات پر ہو گا، لیکن ادارے کے سربراہوں نے کہا ہے کہ وہ عمومی خبروں، تجزیوں اور عام دلچسپی کے موضوعات پر بھی توجہ دیں گے۔

بلوم برگ نیویارک میں قائم بڑی میڈیا کمپنی ہے جس میں دنیا بھر کے 167 مقامات پر 2700 سے زیادہ صحافی اور تجزیہ کار کام کرتے ہیں۔ بلوم برگ کاروبار سے متعلق خبروں میں اپنی آزادانہ سوچ اور معمول سے ہٹ کر رپورٹیں دینے کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’الشرق نیوز‘ کے جنرل مینیجر نبیل الخطیب نے کہا ہے کہ عربی کے چینلوں کی کمی نہیں اور خلیج کے علاقے میں 18 چینل پہلے ہی سے کام کر رہے ہیں، لیکن پھر بھی اس قسم کی چینل کی خاص ضرورت تھی۔

انہوں نے ’عرب نیوز‘ کو بتایا، ’کچھ ایسے ٹارگٹ گروپ خطے میں موجود ہیں جن کے لیے مناسب مواد پر توجہ نہیں دی جا رہی یا جن کے لیے مواد موجود نہیں ہے۔‘

نبیل الخطیب نے مزید بتایا کہ علاقائی حساسیت کی بنا پر بلوم برگ کے مواد میں رد و بدل نہیں کیا جائے گا۔  

انہوں نے کہا، ’ہمارے خیال میں جو خطے کے مفاد کے لیے مناسب ہے، ہم اسے من و عن لیں گے۔ اگر ہمیں کوئی ایسا آرٹیکل نظر آئے جو ہمارے قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو تو ہم اس کا ویسے ہی ترجمہ کریں گے۔ اگر یہ کسی وجہ سے مناسب نہ ہوا تو پھر ہم اسے لیں گے ہی نہیں۔ یا تو ہم پورا آرٹیکل لیں گے، یا پھر بالکل نہیں لیں گے۔‘

اس چینل کے علاقائی رنگوں میں سے ایک مصری ڈاکٹر اور طنز نگار باسم یوسف کا پروگرام ہو گا۔ باسم یوسف نے ’عرب نیوز‘ کو بتایا، ’اس طرح کے پلیٹ فارم پر ایسا موقع ملنا بہت زبردست بات ہے کہ لوگوں کو صحت کے بارے میں مختلف طریقے سے آگاہ کیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا