یو اے ای نے دس سال کے رہائشی ’گولڈن ویزے‘ کی منظوری دے دی

ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے اور میڈیکل ڈاکٹرز گولڈن ویزے کے اہل ہوں گے جبکہ کمپیوٹر، الیکٹرانکس، پروگرامنگ، الیکٹریکل اور بائیو ٹیکنالوجی انجینیئرز بھی اسے حاصل کرسکیں گے۔

یو اے ای نے 2018 میں طویل مدتی ویزا پلان کا اعلان کیا تھا (اے ایف پی)

متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ محمد بن راشد ال مکتوم نے اتوار کو ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ مطلوبہ قواعد وضوابط پورا کرنے والے افراد کو گولڈن ویزا جاری کیا جائے گا۔  

العربیہ کے مطابق اس ویزے کے تحت مخصوص شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد دس سال کے لیے متحدہ عرب امارات میں رہائش کے مجاز ہوں گے۔

ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والے اور میڈیکل ڈاکٹرز گولڈن ویزے کے اہل ہوں گے۔ اس کے علاوہ کمپیوٹر، الیکٹرانکس، پروگرامنگ، الیکٹریکل اور بائیو ٹیکنالوجی انجینیئرز بھی گولڈن ویزا حاصل کرسکیں گے۔

عرب نیوز کے مطابق ان شعبوں کے علاوہ مصنوعی ذہانت میں خصوصی اسناد رکھنے والے، بڑے اعداد وشمار اور وبائی امراض کی ڈگریوں کے حامل افراد بھی گولڈن ویزے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔

متحدہ عرب امارات میں رہنے والے ہائی سکول کے ایسے طلبہ و طالبات جنہوں نے ملک میں ٹاپ پوزیشن حاصل کی ہو اور یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات جو 3.8 یا اس سے زیادہ کا جی پی اے رکھتے ہوں، بھی گولڈن ویزا حاصل کرنے کے اہل ہیں۔

ان طلبہ و طالبات کے اہل خانہ بھی گولڈن ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شیخ محمد بن راشد ال مکتوم کا ٹویٹ میں مزید کہنا تھا کہ اس پروگرام کو اس لیے شروع کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات کی ترقی اور کامیابیوں کے عمل میں ٹیلنٹ ہمارے ساتھ موجود رہے۔

یو اے ای نے 2018 میں طویل مدتی ویزا پلان کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے ملک نے کچھ غیر ملکی سرمایہ کاروں، اینٹریپرنوئر، چیف ایگزیکیٹوز، سائنس دانوں اور قابل طلبہ کو پانچ اور 10 سالہ قابل تجدید ویزے جاری کرنا شروع کر دیا۔ 

دوسری جانب دبئی میں موجود پاکستانی قونصل خانے کے مطابق پاکستانی طلبہ کی مدد کے لیے یونیورسٹی فیس میں رعایت اور دیگر کورسز میں داخلوں کے لیے پاکستانی قونصل خانے اور شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان بھی ایم او یو پر دستخط ہو گئے ہیں۔

یاد رہے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد کئی غیر ملکی شہری دبئی چھوڑے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا